جمعہ 21 اگست 2026 - 08:00
جب چالیس ٹریلین ڈالر کا مقروض ملک دنیا کو معاشی اخلاقیات کا درس دے!

حوزہ/امریکی محکمۂ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکی قرض میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کے دونوں ادوار کو ملا کر امریکی قرض میں تقریباً 11.6 ٹریلین ڈالر کا اضافہ بتایا جاتا ہے، جبکہ صدر بائیڈن کے چار سالہ دور میں بھی قرض میں تقریباً 4 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یعنی جس دنیا کو معاشی نظم و ضبط، ذمہ دار مالیاتی پالیسی اور مستحکم معیشت کے اصول سمجھائے جاتے ہیں، اس کا سب سے طاقتور ملک خود بھاری قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

تحریر : آغا زمانی

حوزہ نیوز ایجنسی| امریکہ کی جانب سے جمہوری اسلامی ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر معاشی دباؤ بڑھانے اور دنیا کو یہ تنبیہ کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ جو ممالک ایران کے ساتھ تیل کی تجارت سمیت معاشی روابط برقرار رکھیں گے، انہیں ''بڑے اقتصادی نتائج'' کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مطالبہ کہ اتحادی ایران کو تنہا کرنے اور اسے شکست سے دوچار کرنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کھڑے ہوں، دراصل اس وسیع تر امریکی پالیسی کا تسلسل ہے جس میں پابندیوں، مالیاتی دباؤ اور اقتصادی تنہائی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا دنیا کے معاشی فیصلے کسی ایک طاقت کے حکم پر ہونے چاہئیں؟ کیا آزاد عالمی معیشت کا مطلب یہ ہے کہ ایک طاقت اپنے مفادات کے مطابق دوسرے ممالک کو یہ بتائے کہ وہ کس ملک سے تجارت کرسکتے ہیں اور کس سے نہیں؟ اور اگر آزادی، خودمختاری اور جمہوریت عالمی اصول ہیں تو پھر کسی خودمختار ریاست کو اپنی توانائی، تجارت اور اقتصادی شراکت داری کے فیصلے خود کرنے کا حق کیوں نہیں؟

یہ سوال اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب اسی امریکہ کے وفاقی قرضے کا حجم 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکی قرض میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کے دونوں ادوار کو ملا کر امریکی قرض میں تقریباً 11.6 ٹریلین ڈالر کا اضافہ بتایا جاتا ہے، جبکہ صدر بائیڈن کے چار سالہ دور میں بھی قرض میں تقریباً 4 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یعنی جس دنیا کو معاشی نظم و ضبط، ذمہ دار مالیاتی پالیسی اور مستحکم معیشت کے اصول سمجھائے جاتے ہیں، اس کا سب سے طاقتور ملک خود بھاری قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قومی قرض بذاتِ خود کسی ملک کے معاشی طور پر ناکام ہونے کا ثبوت نہیں۔ امریکہ کی معیشت کا حجم، ڈالر کی عالمی حیثیت اور امریکی مالیاتی نظام کی ساخت اسے دوسرے ممالک سے مختلف بناتی ہے۔ لیکن اسی حقیقت کے باوجود یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا بھاری قرض اور اندرونی مالیاتی مسائل سے دوچار ریاست کو اپنی اقتصادی طاقت کو دوسرے ممالک پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے؟

ایران پر امریکی پابندیوں کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ کبھی جوہری پروگرام، کبھی علاقائی پالیسی اور کبھی انسانی حقوق کو جواز بنا کر ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ ان پابندیوں کا اثر صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہتا۔۔ بینکاری، تجارت، ادویات، سرمایہ کاری، صنعت اور عام شہریوں کی زندگی بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔

یہاں دنیا کے ان ممالک سے بھی سوال بنتا ہے جو انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر کسی ریاست کی پالیسی سے اختلاف ہے تو کیا اس اختلاف کا جواب پورے معاشرے کو معاشی دباؤ میں مبتلا کرنا ہونا چاہیے؟ اگر شہری آزادی اور انسانی وقار واقعی عالمی اصول ہیں تو پھر معاشی پابندیوں کے انسانی اثرات پر بھی اتنی ہی سنجیدگی سے گفتگو ہونی چاہیے جتنی سیاسی آزادیوں پر کی جاتی ہے۔

ایران کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے صرف امریکی پابندیوں کا ذکر کافی نہیں۔ جمہوری اسلامی ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں شدید معاشی دباؤ، پابندیوں، سیاسی تنہائی اور مختلف النوع بحرانوں کے باوجود اپنی ریاستی خودمختاری اور بنیادی خارجہ پالیسی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

ایران کی قیادت کے لیے یہ محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ خودمختاری اور سیاسی فیصلوں کی آزادی کا مسئلہ بھی ہے۔ تہران کا مؤقف مسلسل یہ رہا ہے کہ بیرونی طاقتیں پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے اس کے قومی فیصلوں کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ''استقامت'' کا تصور سامنے آتا ہے۔ استقامت کا مطلب مشکلات سے انکار نہیں بلکہ مشکلات کے باوجود اپنے بنیادی فیصلوں اور خودمختاری کے تحفظ کی کوشش ہے۔ ایران نے پابندیوں کے باوجود اپنے توانائی کے شعبے، علاقائی تجارت، مقامی پیداوار اور مختلف متبادل اقتصادی راستوں کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ اس راستے میں اسے شدید مشکلات بھی پیش آئی ہیں اور امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کا بھی سامنا ہے لیکن یہی مشکلات اس کی معاشی خود انحصاری کی بحث کو مزید اہم بناتی ہیں۔

سب سے بڑا سوال یورپ اور دیگر ترقی یافتہ معاشروں سے ہے۔

یہ وہی دنیا ہے جو آزادیٔ اظہار، انسانی حقوق، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور قومی خودمختاری کے بلند دعوے کرتی ہے۔ لیکن جب ایک بڑی طاقت اپنی اقتصادی قوت کو دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی ہے تو ان اصولوں کی آواز اکثر مدھم کیوں پڑ جاتی ہے؟

کیا آزادی صرف اس وقت اہم ہوتی ہے جب اس کا تعلق مغربی مفادات سے ہو؟

کیا انسانی حقوق کی تعریف بھی جغرافیہ، سیاسی اتحاد اور معاشی مفادات کے مطابق تبدیل ہوجاتی ہے؟

اور کیا عالمی نظام میں طاقتور ریاست کے لیے وہ اصول مختلف ہیں جو کمزور ریاست کے لیے مختلف انداز میں بیان کیے جاتے ہیں؟

یہی وہ دوہرا معیار ہے جس نے عالمی سیاست میں اعتماد کے بحران کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف خودمختاری، آزادی اور آزاد تجارت کے اصول بیان کیے جاتے ہیں، دوسری طرف کسی ملک کے ساتھ تجارت کرنے پر تیسرے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

دنیا کے ترقی پسند معاشروں کی خاموشی کو صرف خاموشی سمجھنا بھی شاید درست نہیں۔ بعض اوقات ریاستیں اپنے معاشی اور جغرافیائی مفادات کے باعث محتاط رہتی ہیں۔ یورپ کو توانائی، تجارت، سلامتی اور امریکہ کے ساتھ اپنے تاریخی اتحاد کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولی بیانات اور عملی پالیسی میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔

لیکن سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: اگر آزادیِ اظہار واقعی ایک عالمگیر قدر ہے تو معاشی جبر اور اجتماعی دباؤ کے خلاف بھی آزادانہ آواز کیوں نہیں اٹھنی چاہیے؟

ایک ایسے عالمی نظام میں جہاں ایک ملک کی پابندی دوسرے ممالک کی کمپنیوں، بینکوں اور شہریوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے، خاموشی بالآخر طاقتور کے مؤقف کو مزید طاقت دیتی ہے۔

ایران اور امریکہ کا تنازع صرف میزائل، تیل، پابندیوں اور ڈالر کا تنازع نہیں۔ یہ بیانیوں کی جنگ بھی ہے۔

امریکہ اپنے آپ کو عالمی نظم، سلامتی اور جمہوری اقدار کا محافظ قرار دیتا ہے جبکہ ایران اپنے آپ کو سامراجی دباؤ کے مقابل خودمختاری اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اس کشمکش میں ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ استقامت کو محض سیاسی نعرہ نہ بننے دے بلکہ اسے معاشی اصلاحات، علمی ترقی، داخلی اتحاد اور عوامی بہبود سے جوڑے۔ کیونکہ بیرونی دباؤ کے مقابل کامیابی صرف پابندیاں برداشت کرنے سے نہیں بلکہ اندرونی طاقت پیدا کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ البتہ ان حوالوں سے بھی ایران کی اسلامی حکومت بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

آج دنیا کو ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جہاں طاقتور ملک اپنی طاقت کے بل پر دوسروں کے اقتصادی فیصلوں کو کنٹرول نہ کرے، جہاں پابندیاں آخری اور انتہائی محدود راستہ ہوں، جہاں تجارت کو سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور جہاں انسانی حقوق کا معیار دوست اور مخالف ریاست کے لحاظ سے تبدیل نہ ہو۔

ایران کے خلاف امریکی دباؤ پر اختلاف رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کی ہر پالیسی سے اتفاق کیا جائے۔ اسی طرح امریکہ کی بعض پالیسیوں پر تنقید کا مطلب امریکہ دشمنی نہیں۔ اصل مسئلہ اصول کی یکسانیت ہے۔

اگر خودمختاری اچھی چیز ہے تو سب کے لیے اچھی ہونی چاہیے۔

اگر آزادیِ اظہار بنیادی حق ہے تو سب کے لیے ہونا چاہیے۔

اگر انسانی حقوق عالمگیر ہیں تو ان کا اطلاق بھی عالمگیر ہونا چاہیے۔

اور اگر آزاد تجارت عالمی اصول ہے تو اسے سیاسی دباؤ کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔

آخری بات یہ ہے کہ امریکہ کے 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرتے قرض اور دوسری طرف ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی کوشش، عالمی سیاست کے ایک بڑے تضاد کو سامنے لاتی ہے۔ طاقتور ریاستیں اپنے مالی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کرتی ہیں، مگر جب یہی حق کوئی دوسری ریاست اپنے لیے استعمال کرنا چاہے تو اسے اکثر ''خطرہ'' قرار دے دیا جاتا ہے۔

ایران کی استقامت کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کی معاشی مشکلات کم کرے، داخلی اتحاد مضبوط کرے اور علم و صنعت کی بنیاد پر مزید مضبوط معیشت تعمیر کرے۔

اور دنیا کے نام نہاد ترقی یافتہ معاشروں کا امتحان یہ ہے کہ وہ طاقت کے بجائے اصول کا ساتھ دیں۔

کیونکہ عالمی امن اس وقت قائم نہیں ہوگا جب ایک طاقتور ملک سب کو اپنے فیصلوں کا پابند بنا دے، عالمی امن اس وقت قائم ہوگا جب طاقت کے بجائے قانون، دھمکی کے بجائے مکالمہ اور مفاد کے بجائے انصاف عالمی تعلقات کی بنیاد بنیں۔

ایران کی استقامت صرف ایران کا مسئلہ نہیں، یہ اس سوال کا بھی امتحان ہے کہ اکیسویں صدی کی دنیا واقعی خودمختاری، آزادی اور مساوات پر یقین رکھتی ہے یا یہ الفاظ اب بھی طاقتوروں کے لیے الگ اور کمزوروں کے لیے الگ معنی رکھتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha