تحریر: آغا زمانی سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی|
مرحوم مختار حسین ہیمانی(جنہیں ہم مختار بھائی کہتے تھے) سے میری پہلی ملاقات سن 2002ء میں ہوئی۔ ان دنوں میں ہفت روزہ افکارِ توحید کراچی میں بطور سب ایڈیٹر خدمات انجام دے رہا تھا۔ ایک روز مختار بھائی چند ساتھیوں کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائے۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ ان کے لہجے سے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید ان کا تعلق خواجہ برادری سے ہے۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ خواجہ برادری کے معروف ہیمانی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس ملاقات میں انہوں نے ایک اہم ذمہ داری میرے سپرد کی۔ انہوں نے کہا کہ تہران میں ہر جمعہ نمازِ جمعہ کا جو خطبہ ہوتا ہے، اس کی آڈیو ریکارڈ کرکے اس کا اردو خلاصہ اور خبر تیار کرکے انہیں پہنچائی جائے۔ میں نے خوشی سے یہ ذمہ داری قبول کرلی۔
وہ زمانہ آج کی طرح اسمارٹ فونز، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کا نہیں تھا۔ معلومات کی ترسیل کے ذرائع بہت محدود تھے۔ اگلے ہی دن مختار بھائی شام کے وقت میرے گھر آئے۔ اتفاق سے میں گھر پر موجود نہیں تھا۔ واپسی پر معلوم ہوا کہ وہ ایک بالکل نیا ٹیپ ریکارڈر جس میں آڈیو کیسٹ استعمال ہوتی تھی، میرے لیے چھوڑ گئے ہیں۔ بعد میں انہوں نے فون کرکے کہا: ''ہر جمعہ اس میں تہران کے خطبے کو ریکارڈ کریں، پھر اس کا خلاصہ تیار کرکے مجھے پہنچا دیا کریں۔''
اس زمانے میں کبھی شہید رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ نمازِ جمعہ کا خطبہ دیتے تھے، اور کبھی آیت اللہ امامی کاشانی، آیت اللہ احمد خاتمی، آیت اللہ صدیقی، آیت اللہ جنتی اور دیگر جید علماء و فقہاء خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ میں ان خطبات کو ریکارڈ کرتا، ان کا خلاصہ تیار کرتا، مرکزی خبر اور ذیلی خبریں لکھتا اور انہیں ہفت روزہ نوائے اسلام کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ بعض اوقات نوائے اسلام کے لیے دیگر مضامین بھی تحریر کرتا تھا۔
اس دوران مختار بھائی سے مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ جب بھی رہبرِ معظم کا خطبہ ہوتا، وہ خصوصی طور پر فون کرتے اور کہتے: ''اس خطبے کو مکمل طور پر تیار کرنا ہے، اچھی طرح تصحیح کرکے دفتر لے آئیے۔''
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ، یعنی جمعۃ الوداع کے موقع پر رہبرِ معظم نے ایک نہایت اہم خطبہ ارشاد فرمایا۔ میں نے اسے ریکارڈ کیا اور حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد جعفر آرزو صاحب کے ساتھ مل کر اس کا اردو ترجمہ، تدوین اور تصحیح کی۔ جب ہم وہ تیار شدہ مسودہ نوائے اسلام کے دفتر لے گئے اور مختار بھائی نے اسے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی، خوب داد دی اور اس کام کو سراہا۔
اسلام آباد سے جناب سید محمد کاظم کربلائی لکھتے ہیں۔۔۔ ''اس زمانے میں عالمِ اسلام کی مستند اور بروقت خبروں کے متلاشی افراد کے لیے ہفت روزہ نوائے اسلام کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ ہر جمعہ اس کے شمارے کا انتظار کیا جاتا اور اس میں شائع ہونے والی عالمِ اسلام کی خبریں، بالخصوص اہم مضامین، تجزیے اور دینی و فکری مواد ہر عمر کے قارئین خاص دلچسپی سے پڑھتے تھے۔ نوائے اسلام نے ایک دور میں دینی، فکری اور انقلابی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے صفحات سے وابستہ افراد بھی اسے محض ایک اخبار نہیں بلکہ ایک فکری و دینی ذمہ داری سمجھ کر اپنے فرائض انجام دیتے تھے۔ مختار بھائی بھی اسی جذبے کے ساتھ نوائے اسلام کی خدمت میں مصروف رہے اور اس کے فروغ کے لیے اپنی صلاحیتیں، وقت اور تعلقات استعمال کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نوائے اسلام سے وابستہ تمام افراد اور اس کی ترویج و اشاعت میں حصہ لینے والے تمام احباب کی کاوشوں کو اپنی بارگاہِ عالی میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان کی یہ خدمات دنیا و آخرت کے لیے زادِ راہ قرار دے۔آمین یا رب العالمین''
وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے تعلقات صرف دفتری نہیں رہے بلکہ خاندانی روابط میں بھی بدل گئے۔ ہمارے گھروں میں ایک دوسرے کا آنا جانا تھا اور دونوں خاندانوں کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ قائم ہوگیا تھا۔
مختار بھائی کی سب سے نمایاں خوبی ان کی انسان دوستی اور خدمتِ خلق تھی۔ اگر کسی یتیم بچی، خصوصاً کسی سادات خاندان کی بیٹی کی شادی کا مسئلہ ہوتا، کسی مریض کو آپریشن کے اخراجات درکار ہوتے، کسی غریب خاندان کو راشن کی ضرورت ہوتی یا کوئی اور پریشانی پیش آتی تو مختار بھائی ہمیشہ سب سے پہلے مدد کے لیے کھڑے نظر آتے۔
وہ اکثر خود کھارادر سے ملیر تک سفر کرکے مستحق افراد کے گھر پہنچتے، ان کی ضرورت معلوم کرتے اور خاموشی سے مدد کرتے۔ اگر کسی کو مالی تعاون دینا ہوتا تو بھی خود جاکر دیتے۔ ان کی ایک اور بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ضرورت مند کی عزتِ نفس کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ نہ غیر ضروری سوال کرتے، نہ شناختی کارڈ یا کاغذات طلب کرتے اور نہ ہی کسی کو اپنی مجبوری بیان کرنے پر مجبور کرتے۔ ان کے نزدیک اصل چیز انسان کی عزت اور اس کی ضرورت تھی، اور وہ اسی جذبے کے ساتھ خاموشی سے لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے۔
مختار بھائی کی یہی انسان دوستی، اخلاص اور بے لوث خدمت آج بھی میری یادوں کا ایک روشن باب ہے۔
مختار بھائی کے ساتھ میری رفاقت تقریباً تئیس، چوبیس برس پر محیط رہی۔ اس طویل عرصے میں، جہاں تک مجھے یاد ہے، انہوں نے بے شمار مستحق خاندانوں، یتیم بچوں، ضرورت مند طلبہ اور سفید پوش افراد کی خاموشی سے مدد کی۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں وہ خود مستحقین کے گھروں تک پہنچتے، ان کی ضروریات معلوم کرتے اور پوری عزتِ نفس کے ساتھ ان کی مدد کرتے تھے۔
اگر کسی ضرورت مند کے بارے میں انہیں اطلاع دی جاتی تو وہ صرف سن کر فیصلہ نہیں کرتے تھے، بلکہ پہلے خود تحقیق کرتے، پھر اپنے وسیع حلقۂ احباب سے رابطہ کرتے اور چند ہی گھنٹوں میں امداد کا انتظام کر دیتے۔ خاص طور پر مستحق سادات خاندانوں کی مدد میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ انہوں نے کتنے ہی لوگوں کی مشکلات خاموشی سے حل کیں، مگر کبھی اس کا اظہار نہیں کیا۔
مختار حسین ہیمانی 1960ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم غلامانِ عباس اسکول کراچی سے حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز حبیب بینک لمیٹڈ سے کیا، جہاں کئی برس دیانت داری سے خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہفت روزہ نوائے اسلام، بقیۃ اللہ اسلامک انسٹیٹیوٹ اور لشکرِ امامِ زمانہ عج سے بھی وابستہ رہے۔ بچوں کی دینی تربیت کے لیے دینیات کی کلاسوں کا آغاز کیا اور مختلف سماجی، تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
سن 2000ء کے ابتدائی برسوں میں کراچی کے حالات نہایت خراب تھے۔ محبانِ اہلِ بیت، علماء، دانشور اور فعال کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے تھے۔ مساجد میں خودکش حملے اور دھماکے معمول بن چکے تھے۔ انہی دنوں ایک مرتبہ ہم کھارادر میں ان کے فلیٹ سے پیدل ہفت روزہ نوائے اسلام کے دفتر جا رہے تھے۔ میں نے راستے میں عرض کیا: ''مختار بھائی! حالات بہت خراب ہیں، آپ کو کچھ احتیاط کرنی چاہیے۔''
وہ مسکرائے اور نہایت اطمینان سے بولے:
''کتنی احتیاط کریں؟ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ یا چند دن چھپ سکتے ہیں، لیکن اگر دشمن نے نشانہ بنانا ہو تو وہ پھر بھی بنالے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اللہ پر توکل کریں اور اپنا کام جاری رکھیں۔''
یہ الفاظ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ وہ واقعی بے خوف انسان تھے۔ اللہ پر کامل بھروسا رکھتے تھے اور کبھی خوف کو اپنی ذمہ داریوں کے راستے میں حائل نہیں ہونے دیتے تھے۔
مختار بھائی نہایت نرم مزاج، خوش اخلاق، نفیس اور سادہ انسان تھے۔ سادگی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ وہ رہبرِ کبیر حضرت امام خمینی قدس سرۃ اور شہید رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ سے قلبی محبت رکھتے تھے۔ انقلابِ اسلامی کے حامی تھے اور خصوصاً انقلابی نوجوانوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ ان کی سرپرستی کرتے، ان کی رہنمائی کرتے اور حتیٰ الامکان ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے۔
اگرچہ وہ خود ایک ملازم تھے، لیکن ان پر لوگوں کا غیر معمولی اعتماد تھا۔ ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا اور وہ اسی اعتماد کو مستحق افراد، غریب طلبہ اور یونیورسٹی کے ضرورت مند نوجوانوں کی مدد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ میں خود اس خدمت کا چشم دید گواہ ہوں۔
غوڑو بلتستان کے عالم دین جناب محمد علی شریفی لکھتے ہیں۔۔۔ ''مرحوم مختار بھائی نہایت سنجیدہ، مخلص اور انقلابی انسان تھے۔ جب ہم کراچی میں مقیم تھے تو سولجر بازار ان کی دینی اور انقلابی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔ وہ دینی پروگراموں کے انعقاد، نوجوانوں کی فکری و دینی تربیت اور مختلف مذہبی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی لیتے تھے۔ استادِ محترم آیت اللہ غلام عباس رئیسی صاحب بھی اکثر ان کے پروگراموں میں خطاب فرماتے تھے۔ ان محافل میں دینی شعور، فکرِ اہلِ بیت اور انقلابِ اسلامی کے پیغام کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ مختار بھائی ان سرگرمیوں میں نہایت سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے تھے۔ مجھے بھی کئی مرتبہ ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ ہر ملاقات میں ان کی متانت، سادگی، خلوص اور دینی و انقلابی فکر نمایاں نظر آتی تھی۔ ایک مرتبہ مشہد مقدس میں بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ دیارِ امام رضا علیہ السلام میں ان سے ملنا میرے لیے ایک خوبصورت اور یادگار تجربہ تھا۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو بھی ان کی زندگی کی ان خوبصورت یادوں میں شامل ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ذہن سے محو نہیں ہوتیں۔''
بعد کے برسوں میں ہفت روزہ نوائے اسلام کے بعض احباب کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں مختار بھائی نوائے اسلام سے الگ ہوگئے۔ لیکن یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی ساتھی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال نہیں کیے۔ جب بھی نوائے اسلام کا ذکر آتا تو محبت بھرے انداز میں کہتے:
''نوائے اسلام تو ہمارے بچوں کی طرح ہے۔ جیسے انسان اپنے بچے کی پرورش کرتا ہے، ویسے ہی ہم نے اسے پروان چڑھایا۔ بس افسوس صرف یہ ہے کہ جب بچہ بڑا ہوا تو ہم سے جدا ہوگیا۔''
ان کی گفتگو میں کبھی شکوہ یا تلخی نہیں ہوتی تھی بلکہ محبت، خلوص اور خیرخواہی ہی جھلکتی تھی۔
مختار بھائی کی ایک اور بڑی کامیابی ان کی بہترین خاندانی تربیت تھی۔ انہوں نے اپنے تمام بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی، بہترین اخلاق کی تربیت کی اور انہیں زندگی میں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔ آج ان کے تمام بچے اپنے اپنے گھروں میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، جو یقیناً ان کی محنت، دعا اور بہترین تربیت کا ثمر ہے۔
شہدادکوٹ سندھ کے ایک مومن جناب فضل اصغری لکھتے ہیں۔۔۔ ''مرحوم مختار بھائی واقعی باکمال انسان تھے۔ ان سے میری رفاقت بھی ہفت روزہ نوائے اسلام کے توسط سے قائم ہوئی اور میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ زندگی میں ایسے مخلص اور نفیس انسان سے تعلق اور دوستی کا موقع ملا۔ مختار بھائی ایک مرتبہ نوائے اسلام کے سلسلے میں میرے آبائی گاؤں شہدادکوٹ بھی تشریف لائے۔ ان کے ساتھ مزمل بھائی اور حسنین بھائی، بلکہ دونوں حسنین بھائی بھی تھے۔ مختار بھائی میرے مہمان بنے اور ہم نے تقریباً تین دن اندرونِ سندھ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ یہ سفر میرے لیے آج بھی ایک خوبصورت اور ناقابلِ فراموش یاد ہے۔ ان کی محبت، خلوص اور ہمارے معمولی سے تعاون کے نتیجے میں نوائے اسلام کی سرکولیشن میں بھی خاصا اضافہ ہوا۔ میں بھی کراچی میں کئی مرتبہ ان کے دولت کدے پر حاضر ہوا۔ ہر مرتبہ وہ جس محبت، خلوص اور اپنائیت سے پیش آتے، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کے گھر جانے پر کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم کسی رسمی ملاقات کے لیے آئے ہیں، بلکہ ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا جیسے کسی اپنے کے گھر بیٹھے ہیں۔ 2010ء کے تباہ کن سیلاب کے دنوں میں بھی مختار بھائی کے توسط سے اندرونِ سندھ میں کافی فلاحی کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ خود بھی ان علاقوں میں تشریف لائے اور متاثرین کی مدد کے لیے عملی کردار ادا کیا۔ ان کا اندازِ خدمت ہمیشہ یہی رہا کہ صرف بات نہیں کرتے تھے بلکہ جہاں ضرورت محسوس ہوتی، خود پہنچ جاتے تھے۔ میں جب بھی کسی غریب یا مستحق مومن کی نشاندہی مختار بھائی سے کرتا، وہ حتی الامکان فوراً اس کی مدد کا انتظام کرتے۔ ان کے اندر دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے کا جذبہ موجود تھا۔ زندگی کے آخری برسوں میں مجھے تقریباً دو ماہ تک ان کے قریب رہنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس عرصے میں ان کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو دیکھنے کو ملے جنہوں نے میرے دل میں ان کی محبت اور احترام کو مزید گہرا کردیا۔ نوائے اسلام کے احباب کے درمیان جب اختلافات پیدا ہوئے تو مختار بھائی اس صورتِ حال سے بہت افسردہ رہتے تھے۔ ان کے دل میں اپنے ساتھیوں کے لیے ہمیشہ محبت موجود رہی۔ اختلاف کے باوجود انہوں نے کبھی کسی کے خلاف زبان نہیں کھولی اور نہ ہی اپنے دل میں کدورت کو جگہ دی۔ یہ ان کے بلند ظرف اور صاف دل ہونے کی دلیل تھی۔ میں اور ہمارے تنظیمی بزرگ جناب یوسف حسینی صاحب جب بھی کراچی آتے، مختار بھائی سے ملاقات کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے۔ ان کی زیارت کیے بغیر کراچی کا سفر ادھورا محسوس ہوتا تھا۔ ہر ملاقات میں وہی سادگی، وہی خلوص، وہی محبت اور وہی اپنائیت ہمارا استقبال کرتی تھی۔ مختار بھائی کی سادگی، خلوص، محبت اور بے لوث خدمت کو میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ کچھ لوگ زندگی میں صرف ملتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اپنے اخلاق، محبت اور کردار سے دل پر ایسا نقش چھوڑ جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھی مدھم نہیں ہوتا۔ مختار بھائی بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی محبت، ان کی مسکراہٹ، ان کی سادگی اور ضرورت مندوں کے لیے ان کی بے قراری ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ دعا ہے کہ کریم و مالک، مولا علی امیرالمؤمنین علیہ السلام کی محفل میں مختار بھائی کو جگہ عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کی برزخی منزلیں آسان فرمائے اور انہیں محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی شفاعت نصیب فرمائے۔ خداوندِ کریم ان کے اہلِ خانہ کو صبر و اجر عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خدمتِ خلق، اخلاص اور انسان دوستی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین''
میری ان سے آخری ملاقات فروری 2025ء میں کراچی میں ان کے گھر پر ہوئی۔ اس وقت ان کی طبیعت پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ کئی برس قبل ان کے دل کا بائی پاس آپریشن ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے صحت کا بہت خیال رکھا۔ روزانہ بلا ناغہ ہاکی گراؤنڈ میں تقریباً تین کلومیٹر پیدل چلتے تھے۔ بعد میں شوگر کا عارضہ بھی لاحق ہوگیا، مگر وہ حتی المقدور پرہیز اور احتیاط کرتے رہے۔
گزشتہ تقریباً ڈیڑھ دو سال سے وہ زیادہ تر گھر پر ہی رہتے تھے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل ان کے بیٹے انہیں زیارت کے لیے دبئی سے مشہد مقدس بھی لے گئے۔ زیارت سے واپسی کے بعد ان کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہوگئی۔
آخرکار مختار حسین ہیمانی بن غلام حسین ہیمانی 66 برس کی عمر میں، 26 رمضان المبارک 1447ھ، بمطابق 16 مارچ 2026ء، بروز پیر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مختار بھائی اپنی زندگی میں اخلاص، خدمتِ خلق، سادگی، تواضع اور انسان دوستی کی ایک خوبصورت مثال تھے۔ انہوں نے خاموشی سے لوگوں کی خدمت کی، بے شمار ضرورت مندوں کے آنسو پونچھے اور اپنی نیکیوں کو کبھی شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں لیکن ان کے کردار کی خوشبو ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں باقی رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ مختار بھائی کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، برزخ کی تمام منزلیں آسان فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، خصوصاً ان کی اہلیہ، بیٹوں اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ