تحریر: سید فرخ رضا ترمذی
حوزہ نیوز ایجنسی|
"تیری سنت ہے شہیدوں کے لہو کی تشہیر
بنتِ زہراؑ! تیرے خطبوں کی صدا باقی ہے"
"جو شہید ہو گئے وہ کارِ حسینی سرانجام دے گئے،
جو باقی رہ گئے ہیں، ان پر کارِ زینبی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔"
یہ محض ایک شعری استعارہ نہیں بلکہ تاریخِ اسلام کا ایسا زندہ اور متحرک اصول ہے جس نے کربلا کو ایک محدود زمانی واقعے سے نکال کر ایک دائمی فکری، اخلاقی اور انسانی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ اگر دسویں محرم 61 ہجری کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفادار ساتھیوں نے اپنے خون سے حق کی بقا کی بنیاد رکھی، تو ماہِ صفر میں اسی خون کی حرمت، اسی قربانی کے مقصد اور اسی تحریک کی آفاقی معنویت کو حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، بصیرت، فصاحت اور بے مثال جرأت کے ذریعے تاریخ کا ابدی سرمایہ بنا دیا۔
قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے:"جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔”
یہ آیت صرف شہداء کی حیات کا اعلان نہیں کرتی بلکہ اس حقیقت کی بھی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شہادت کا پیغام زندہ رہتا ہے۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر پیغام کو ایک امین، ایک مبلغ اور ایک محافظ درکار ہوتا ہے۔ کربلا میں یہ عظیم ذمہ داری حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے انجام دی۔
عاشورا کے بعد بظاہر میدانِ جنگ خاموش ہو چکا تھا۔ نیزے نیام میں جا چکے تھے، تلواریں خون سے تر ہو کر رک چکی تھیں، اور یزیدی اقتدار اپنی وقتی کامیابی پر نازاں تھا۔ لیکن حقیقت میں ایک نیا معرکہ شروع ہو چکا تھا؛ یہ معرکہ تلوار کا نہیں، شعور کا تھا؛ قوتِ بازو کا نہیں، قوتِ بیان کا تھا؛ جسمانی طاقت کا نہیں، اخلاقی اقتدار کا تھا۔ اسی مرحلے میں حضرت زینبؑ نے اس کردار کو ادا کیا جسے بجا طور پر “سفارتِ کربلا” کہا جا سکتا ہے۔
کربلا کے بعد اگر اہلِ بیتؑ خاموش رہتے، اگر کوفہ اور دمشق کے درباروں میں ظلم کو للکارنے والی آواز بلند نہ ہوتی، اگر یزید کے سرکاری بیانیے کو چیلنج نہ کیا جاتا، تو ممکن تھا کہ تاریخ اس سانحے کو صرف ایک سیاسی بغاوت کے طور پر یاد کرتی۔ حضرت زینبؑ نے اس بیانیے کو بدل دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقتدار کی جنگ نہیں، اقدار کی جنگ تھی؛ یہ حکومت کے حصول کی تحریک نہیں، دین کی بقا کی جدوجہد تھی۔
اسی لیے بعض اہلِ علم نے بجا طور پر کہا ہے کہ “کربلا میں امام حسینؑ نے اسلام کو حیات دی اور حضرت زینبؑ نے اس حیات کو تاریخ کا شعور بنا دیا۔” یہی کارِ زینبی ہے، اور یہی ہر دور میں اہلِ حق کی ذمہ داری بھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت صرف اس نسبت سے نہیں کہ وہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی تھیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے اپنے علم، بصیرت، صبر، قیادت اور جرأت سے اس خانوادۂ نبوت کی علمی و روحانی میراث کو تاریخ کے نازک ترین مرحلے میں محفوظ رکھا۔ اسی حقیقت کی طرف امام زین العابدین علیہ السلام نے اشارہ فرمایا:
“آپ اللہ کے فضل سے ایسی عالمہ ہیں جنہیں کسی نے تعلیم نہیں دی، اور ایسی صاحبِ فہم ہیں جنہیں کسی نے سمجھایا نہیں۔”
یہ جملہ حضرت زینبؑ کی شخصیت کا سب سے مستند علمی تعارف ہے۔ ان کی قیادت کسی سیاسی ضرورت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ علمِ اہلِ بیتؑ، قرآنی بصیرت اور نبوی تربیت کا مظہر تھی۔
ماہِ صفر کا آغاز دراصل ایک نئے محاذ کی ابتدا تھا۔ دس محرم کو تلواروں نے اپنا کردار ادا کر لیا تھا، اب زبان، قلم، دلیل اور حق گوئی کی باری تھی۔ کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے خون سے باطل کے چہرے سے نقاب اتارا، جبکہ صفر میں حضرت زینبؑ نے اپنے خطبات سے اس نقاب کو ہمیشہ کے لیے چاک کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے معاصر محققین کربلا کو دو مرحلوں میں تقسیم کرتے ہیں: مرحلۂ شہادت اور مرحلۂ شہادت کی شہادت۔ پہلے مرحلے کے قائد امام حسینؑ تھے اور دوسرے مرحلے کی علمبردار حضرت زینبؑ۔
اس مرحلے میں حضرت بی بی زینب نے ظلم کے ساتھ کسی قسم کی مصلحت یا خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حق گوئی کا تقاضا صرف میدانِ جنگ میں کھڑا ہونا نہیں، بلکہ ظلم کے ایوانوں میں بھی سچ کو پوری قوت سے بیان کرنا ہے۔
جب قافلۂ اسیران کو دمشق کے دربار میں پیش کیا گیا تو یزید اپنی سیاسی کامیابی کا جشن منا رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ مدینہ کے اس مختصر سے قافلے کو ذلیل کر کے وہ ہمیشہ کے لیے اپنی حکومت کو جائز ثابت کر دے گا۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ اقتدار تخت پر بیٹھا تھا اور عظمت زنجیروں میں کھڑی تھی۔
حضرت زینبؑ نے اپنے خطبے میں یزید کو مخاطب کرتے ہوئے وہ الفاظ کہے جو ہر دور کے جابر حکمران کے لیے ابدی پیغام ہیں۔
“تو اپنی تمام تدبیریں کر لے، اپنی پوری کوشش کر لے، اپنی ساری طاقت لگا دے، مگر خدا کی قسم! نہ تو ہمارے ذکر کو مٹا سکتا ہے اور نہ ہماری وحی کی روشنی کو ختم کر سکتا ہے۔”
یہ صرف یزید سے خطاب نہیں تھا بلکہ ہر اس نظام کے خلاف اعلان تھا جو طاقت، ذرائع ابلاغ، دولت یا ریاستی قوت کے ذریعے حق کو دبانا چاہتا ہے۔ حضرت زینبؑ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ ظلم کی عمر ہمیشہ اقتدار سے کم ہوتی ہے، جبکہ حق کی عمر تاریخ سے بھی زیادہ طویل ہوتی ہے۔
آج جب ہم ڈیجیٹل میڈیا، مصنوعی ذہانت، اطلاعاتی جنگ (Information Warfare)، جھوٹے بیانیوں، پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے دور میں زندہ ہیں تو کارِ زینبی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج نیزے کم اور بیانیے زیادہ استعمال ہوتے ہیں آج تلوار سے زیادہ جھوٹ انسانیت کو زخمی کرتا ہے آج معرکہ میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں، اسکرینوں، خبروں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر برپا ہے۔
ایسے دور میں ہر صحافی، ہر قلم کار، ہر استاد، ہر محقق اور ہر صاحبِ شعور کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ کس بیانیے کا امین ہے؟ حق کا یا طاقت کا؟ اگر اس کا قلم مظلوم کی آواز بنتا ہے تو وہ کارِ زینبی کی ایک صورت انجام دے رہا ہے، اور اگر وہ ظلم کو جواز فراہم کرتا ہے تو وہ تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا ہے
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار صرف ایک تاریخی واقعے تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا فکری اور اخلاقی نمونہ ہے جو ہر دور کے انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ حق کی حفاظت صرف تلوار سے نہیں بلکہ شعور، بصیرت، کردار اور سچائی کی طاقت سے بھی کی جاتی ہے۔
کربلا کے بعد سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں تھا کہ اہلِ بیتؑ کو جسمانی اذیت دی جائے، بلکہ اصل خطرہ یہ تھا کہ واقعۂ کربلا کی حقیقت کو مسخ کر دیا جائے۔ ہر ظالم حکومت کی ایک کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف مخالف آواز کو دبائے نہیں بلکہ تاریخ کے حافظے کو بھی تبدیل کر دے۔ یزیدی حکومت بھی یہی چاہتی تھی کہ کربلا کو ایک سیاسی بغاوت، ایک معمولی واقعے یا ریاست کے خلاف ایک ناکام اقدام کے طور پر پیش کیا جائے۔ مگر حضرت زینبؑ نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ شہید کا خون اگر حق کے لیے بہایا جائے تو وہ خاموش نہیں رہتا، بلکہ آنے والی نسلوں کے ضمیر کو جگاتا ہے۔ شہادت جسم کا خاتمہ نہیں، پیغام کی ابتدا ہوتی ہے۔حضرت زینبؑ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ایمان صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ حق کے لیے کھڑے ہونے، مظلوم کی حمایت کرنے اور باطل کے سامنے سچ بولنے کا نام بھی ہے۔
تاریخِ انسانیت میں خواتین کے کردار کو اکثر محدود کر کے پیش کیا گیا، مگر حضرت زینبؑ نے یہ تصور بدل دیا۔ انہوں نے دکھایا کہ ایک خاتون علم، حکمت، قیادت، سیاسی شعور اور فکری مزاحمت میں پوری امت کی رہنمائی کر سکتی ہے۔ وہ نہ صرف خانوادۂ رسالت کی نمائندہ تھیں بلکہ انسانی وقار اور حق گوئی کی عالمی علامت بن گئیں۔
آج دنیا میں خواتین کی قیادت، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کی بات ہوتی ہے تو حضرت زینبؑ کا کردار ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے مصائب کے باوجود اپنی شخصیت کو مظلومیت تک محدود نہیں ہونے دیا بلکہ مظلومیت کو مزاحمت کی قوت بنا دیا۔یہی کارِ زینبی کا بنیادی فلسفہ ہے کہ حالات انسان کو توڑتے نہیں بلکہ اگر ایمان اور مقصد زندہ ہو تو انسان انہی حالات کو تبدیلی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں اپنی جان قربان کر کے یہ اعلان کیا کہ "موت عزت کے ساتھ زندگی گزارنے سے بہتر ہے اور ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔”
اور حضرت زینبؑ نے اس پیغام کو عملی طور پر ثابت کیا کہ قید، تنہائی اور مشکلات بھی اس شخص کو شکست نہیں دے سکتیں جس کے پاس حق کی طاقت ہو۔
آج کے دور میں کارِ زینبی کی سب سے بڑی ضرورت “بیانیے کی جنگ” میں محسوس ہوتی ہے۔ ماضی میں حق کو دبانے کے لیے تلوار استعمال ہوتی تھی، آج غلط معلومات، جھوٹے پروپیگنڈے، کردار کشی اور میڈیا کی طاقت استعمال کی جاتی ہے۔ ایسے دور میں حضرت زینبؑ ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ قلم، زبان اور ذرائع ابلاغ ایک امانت ہیں۔ اگر یہ مظلوم کی آواز بنیں تو یہ عبادت کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں، اور اگر یہ ظلم کی پردہ پوشی کریں تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرتی۔
اسی لیے صحافت، ادب اور علم کے میدان سے وابستہ افراد کے لیے حضرت زینبؑ کا کردار ایک عظیم رہنما اصول ہے۔ ایک سچا صحافی دراصل اپنے عہد کا گواہ ہوتا ہے۔ اس کا کام صرف خبر دینا نہیں بلکہ سچ کی حفاظت کرنا بھی ہے۔
حضرت زینبؑ نے دمشق کے دربار میں یہ ثابت کیا کہ طاقت کا غرور عارضی ہوتا ہے، مگر حق کی آواز دائمی ہوتی ہے۔ یزید کے پاس اقتدار، لشکر اور خزانے تھے، مگر زینبؑ کے پاس صداقت، کردار اور پیغام تھا۔ تاریخ نے فیصلہ کر دیا کہ کس کی فتح ہوئی۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کروڑوں انسان محرم اور صفر میں کربلا کو یاد کرتے ہیں، جبکہ یزید کا نام ظلم کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ کارِ حسینی ہمیں قربانی کا درس دیتا ہے اور کارِ زینبی ہمیں ذمہ داری کا۔ امام حسینؑ نے بتا دیا کہ حق کے لیے جان دی جا سکتی ہے، اور جناب زینبؑ نے بتا دیا کہ حق کے لیے زندگی بھی وقف کی جا سکتی ہے۔
جو شہید ہو گئے، انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا، مگر جو باقی ہیں ان پر یہ ذمہ داری باقی ہے کہ وہ اپنے زمانے کے یزیدی رویوں کو پہچانیں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، انسانیت کا ساتھ دیں اور حق کے پیغام کو زندہ رکھیں۔ یہی کارِ زینبی ہے
کربلا کا پیغام اگر آج بھی زندہ ہے تو اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسے صرف ایک واقعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک زندہ تحریک، ایک فکری مکتب اور ایک دائمی ضابطۂ حیات بنا دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ تاریخ صرف تلوار چلانے والوں سے نہیں بنتی بلکہ ان لوگوں سے بھی بنتی ہے جو قربانیوں کے مقصد کو محفوظ رکھتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں بہت سی جنگیں ہوئیں، بہت سے حکمران آئے اور چلے گئے، بہت سی سلطنتیں قائم ہوئیں اور ختم ہو گئیں، لیکن کربلا کا واقعہ آج بھی زندہ ہے کیونکہ اس کے ساتھ ایک ایسا شعور وابستہ ہے جو ظلم کے ہر دور میں انسان کو بیدار کرتا ہے۔ اس شعور کی سب سے بڑی محافظ حضرت زینبؑ تھیں۔حضرت زینبؑ نے یہ ثابت کیا کہ کسی تحریک کی کامیابی صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتی کہ میدان میں کون جیتا، بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ تاریخ میں سچ کس نے محفوظ رکھا۔ اگر کربلا کے بعد صرف یزیدی دربار کا بیانیہ باقی رہ جاتا تو شاید دنیا واقعے کی اصل روح تک نہ پہنچ پاتی، لیکن بنتِ علیؑ نے اپنے خطبات سے تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔
ان کا کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر دور میں ایک “یزیدی نظام” اپنی شکل بدل کر موجود رہ سکتا ہے۔ کبھی وہ سیاسی ظلم کی صورت میں آتا ہے، کبھی معاشی استحصال کی صورت میں، کبھی فکری غلامی کی شکل میں اور کبھی جھوٹے بیانیوں کے ذریعے حق کو دھندلا دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے ہر دور میں کارِ زینبی کا تقاضا ہے کہ انسان بصیرت کے ساتھ حق کو پہچانے اور اس کے اظہار کی جرات کرے۔آج کے دور میں سب سے بڑا میدانِ جنگ صرف سرحدیں نہیں بلکہ انسان کا ذہن بھی ہے۔ معلومات کا سیلاب، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، تیز رفتار ذرائع ابلاغ اور عالمی رابطوں کے اس دور میں جھوٹ بھی بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ ایسے میں حضرت زینبؑ کا اسوہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خبر سے پہلے حقیقت، آواز سے پہلے ذمہ داری اور اظہار سے پہلے دیانت ضروری ہے۔
ایک صحافی، ایک ادیب، ایک دانشور اور ایک باشعور شہری کے لیے کارِ زینبی کا مطلب یہ ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے مرعوب نہ ہو اور کمزور کے حق کو نظر انداز نہ کرے۔ قلم کو ذاتی مفاد، خوف یا مصلحت کا غلام نہ بنائے بلکہ اسے حق، انصاف اور انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنائے۔ حضرت زینبؑ کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ عورت صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ وہ فکر کی رہنما، معاشرے کی معلمہ اور تاریخ کی معمار بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے جس وقار کے ساتھ اسیری کا سفر طے کیا، وہ انسانی تاریخ میں صبر اور قیادت کی بے مثال مثال ہے۔ اربعینِ حسینی بھی اسی پیغام کے تسلسل کا نام ہے۔ کروڑوں انسانوں کا کربلا کی طرف سفر دراصل ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ ایک زندہ عہد کی تجدید ہے۔ یہ اعلان ہے کہ ظلم کے خلاف آواز کبھی ختم نہیں ہوتی اور حق کی محبت نسلوں سے نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
حضرت زینبؑ کا پیغام صرف کسی ایک گروہ یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ جہاں کہیں مظلوم ہے، جہاں کہیں ظلم ہے، جہاں کہیں سچ کو دبانے کی کوشش ہے، وہاں زینبی کردار کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ آنسو اگر مقصد سے خالی ہوں تو صرف غم رہ جاتے ہیں، لیکن اگر آنسو شعور پیدا کریں تو وہ انقلاب بن جاتے ہیں۔ مصیبت اگر انسان کو توڑ دے تو آزمائش ہے، لیکن اگر وہ انسان کو حق کے لیے مضبوط کر دے تو وہ عظمت بن جاتی ہے۔
آج کی نوجوان نسل کے لیے حضرت زینبؑ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ زندگی صرف کامیابی حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ مقصد کے ساتھ جینے کا نام ہے۔ علم حاصل کرو، کردار بناؤ، سچ کی پہچان پیدا کرو، اپنے معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کرو اور اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرو۔
کارِ زینبی دراصل ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ یہ صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کا فریضہ اور مستقبل کی امید ہے۔
کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ تعداد کم ہو تو بھی حق کمزور نہیں ہوتا، وسائل محدود ہوں تو بھی عزم شکست نہیں کھاتا، اور اگر آواز سچی ہو تو ایک خاتون کی آواز بھی سلطنتوں کے ایوانوں کو ہلا سکتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ہمیں یہ درس دیا کہ حق کے لیے کھڑا ہونا صرف میدانِ جنگ کا کام نہیں، بلکہ ہر زمانے کے انسان کی ذمہ داری ہے۔اسی لیے آج بھی جب اہلِ ایمان ماہِ صفر میں اسیرانِ کربلا کو یاد کرتے ہیں تو صرف آنسو نہیں بہاتے بلکہ ایک عہد بھی کرتے ہیں کہ وہ ظلم کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے، سچ کی حفاظت کریں گے اور اپنے اپنے میدان میں کارِ زینبی ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔
سلام ہو اس عظیم سفیرۂ کربلا پر، جس نے قید کو پیغام، مصیبت کو طاقت اور خونِ شہادت کو ابدی شعور میں بدل دیا
کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں حق، صبر، قربانی، وفاداری، استقامت اور شعور کی تمام بلند اقدار یکجا ہو گئیں۔ عاشورا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اپنے خون سے حق کی حفاظت کی، مگر اس عظیم قربانی کو دنیا تک پہنچانے، اس کے حقیقی مقصد کو واضح کرنے اور ظلم کے جھوٹے بیانیے کو شکست دینے کا عظیم فریضہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے انجام دیا۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت زینبؑ کو صرف کربلا کی ایک عظیم شخصیت کہنا کافی نہیں، بلکہ وہ سفیرۂ کربلا، محافظۂ پیغامِ شہادت اور ترجمانِ حق ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ تاریخ کے بڑے معرکے صرف میدانوں میں نہیں جیتے جاتے، بعض اوقات ایک سچی آواز، ایک مضبوط کردار اور ایک بااصول موقف پوری سلطنتوں کے غرور کو شکست دے دیتا ہے۔ یزید کے پاس اقتدار تھا، لشکر تھا، خزانہ تھا اور ریاستی طاقت تھی، مگر حضرت زینبؑ کے پاس صداقت، ایمان، علم اور حق کی طاقت تھی۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے مگر اصول اور کردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
حضرت زینبؑ کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ انہوں نے مصیبت کو پیغام بنا دیا، آنسوؤں کو شعور میں بدل دیا، قید کو مزاحمت بنا دیا اور تنہائی کو قیادت میں تبدیل کر دیا۔ وہ چاہتیں تو صرف اپنے غم کا اظہار کرتیں، مگر انہوں نے اپنے ذاتی دکھ کو امت کی بیداری کا ذریعہ بنا دیا۔
یہی کارِ زینبی کا بنیادی فلسفہ ہے۔کارِ زینبی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان کربلا کو یاد کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے حق اور باطل کو پہچانے۔ یہ ہے کہ وہ ظلم کے سامنے خاموش نہ رہے، مظلوم کے درد کو محسوس کرے، سچ کے لیے کھڑا ہو اور اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔آج کا دور میدانِ کربلا سے مختلف ضرور ہے، لیکن چیلنجز اپنی نوعیت میں موجود ہیں۔ آج ظلم کی شکلیں بدل گئی ہیں۔ آج کبھی طاقت کے ذریعے حق دبایا جاتا ہے، کبھی جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے حقیقت چھپائی جاتی ہے، کبھی مفادات کے لیے اصولوں کو قربان کیا جاتا ہے۔
ایسے دور میں حضرت زینبؑ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
آج کے اہلِ قلم، صحافیوں، دانشوروں، اساتذہ اور نوجوانوں کے لیے حضرت زینبؑ کی زندگی ایک واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ قلم ایک امانت ہے، زبان ایک ذمہ داری ہے اور علم ایک خدمت ہے۔
جو قلم مظلوم کی آواز بنتا ہے، جو زبان سچ کے لیے بلند ہوتی ہے، جو فکر انسانیت کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے، وہ اپنے اندر کارِ زینبی کی ایک جھلک رکھتی ہے۔حضرت زینبؑ نے یہ بھی سکھایا کہ قیادت صرف اختیار کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ حقیقی رہنما وہ نہیں جو آسان حالات میں آگے بڑھے، بلکہ وہ ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی اصولوں پر قائم رہے۔
آج دنیا کو ایسی ہی زینبی بصیرت کی ضرورت ہے؛ ایسی بصیرت جو نفرت کے بجائے انصاف کو فروغ دے، جہالت کے بجائے علم کو عام کرے، خاموشی کے بجائے حق گوئی کو اختیار کرے اور مایوسی کے بجائے امید پیدا کرے۔
ماہِ صفر ہمیں صرف غم کی یاد نہیں دلاتا بلکہ ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ اسیرانِ کربلا کا سفر ہمیں بتاتا ہے کہ مشکلات انسان کے ارادے کو ختم نہیں کر سکتیں، اگر مقصد بلند ہو۔
امام حسین علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ باطل کے سامنے جھکنا نہیں، اور حضرت زینبؑ نے سکھایا کہ حق کی حفاظت آخر تک کرنی ہے۔
حسینؑ نے خون دیا، زینبؑ نے اس خون کا پیغام دیا۔
حسینؑ نے قربانی کی مثال قائم کی، زینبؑ نے قربانی کو شعورِ انسانیت بنا دیا۔
اسی لیے آج بھی کربلا زندہ ہے، عاشورا زندہ ہے، صفر کا پیغام زندہ ہے اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی آواز زندہ ہے۔
سلام ہو اس عظیم خاتون پر جس نے شکست کے لمحے کو فتح کے اعلان میں بدل دیا، جس نے قید کے سفر کو انقلاب کا سفر بنا دیا، اور جس نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ جب حق کی آواز بلند ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے خاموش نہیں کر سکتی۔
جو شہید ہو گئے، انہوں نے کارِ حسینی ادا کر دیا اور جو باقی ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے کردار، اپنے علم، اپنی زبان اور اپنے قلم سے کارِ زینبی ادا کریں۔









آپ کا تبصرہ