بدھ 24 جون 2026 - 01:42
ماہ محرم حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کا درس ہے: مولانا اشرف تابانی

حوزہ/مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں جاری عشرۂ محرم الحرام کی مجالسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان عالمِ دین مولانا شیخ اشرف تابانی نے کہا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق و باطل، پاکیزگی و فساد اور اسلامی و غیر اسلامی تہذیبوں کے درمیان جاری دائمی جدوجہد کا روشن عنوان ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں جاری عشرۂ محرم الحرام کی مجالسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان عالمِ دین مولانا شیخ اشرف تابانی نے کہا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق و باطل، پاکیزگی و فساد اور اسلامی و غیر اسلامی تہذیبوں کے درمیان جاری دائمی جدوجہد کا روشن عنوان ہے۔

محرم میں حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کا درس موجود ہے: مولانا اشرف تابانی

انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں مسلمانوں کو فکری، ثقافتی اور اخلاقی محاذ پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور مغربی تہذیب جدید ذرائع اور صنعتوں کے ذریعے انسانی معاشرے خصوصاً خواتین کے حقیقی مقام اور کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مولانا شیخ اشرف تابانی نے کہا کہ قرآنِ کریم نے عورت کی عزت، عظمت اور مقام کو اس کے کردار، حیا، عفت اور تقویٰ سے وابستہ کیا ہے، جبکہ مادہ پرست تہذیب عورت کی شخصیت کو ظاہری زیب و زینت اور جسمانی کشش تک محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیوٹی پراڈکٹس اور فیشن انڈسٹری کے ذریعے خواتین کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی قدر و قیمت صرف ظاہری حسن میں ہے، حالانکہ قرآنِ مجید عورت کی حقیقی خوبصورتی کو اس کے اخلاق، حیا اور کردار میں قرار دیتا ہے۔

محرم میں حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کا درس موجود ہے: مولانا اشرف تابانی

انہوں نے حضرت مریمؑ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن نے خواتین کے لیے حضرت مریمؑ جیسی پاکیزہ اور باحیا شخصیت کو نمونہ قرار دیا ہے۔ ایک مسلمان عورت کی اصل زینت حیا، عفت، پاکدامنی اور بلند اخلاق ہیں، نہ کہ محض ظاہری آرائش و خوبصورتی۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ثقافت آزادی اور حقوقِ نسواں کے نام پر ایسے نظریات کو فروغ دے رہی ہے جو خاندانی نظام، اخلاقی اقدار اور انسانی شرافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

شیخ اشرف تابانی نے کہا کہ تاریخ میں یزیدیت صرف ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک نظام اور ایک طرزِ فکر کا نام ہے جو ظلم، استحصال، فریب اور اخلاقی انحطاط کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی طرح حسینی فکر عدل، حق، حریت، عزتِ نفس اور الٰہی اقدار کی علامت ہے۔

محرم میں حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کا درس موجود ہے: مولانا اشرف تابانی

انہوں نے کہا کہ آج بھی دنیا میں مختلف شکلوں میں یزیدی اور حسینی افکار موجود ہیں اور اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق و باطل میں تمیز کرتے ہوئے حسینی راستے کا انتخاب کریں۔

انہوں نے کہا کہ جدید دنیا میں طاقتور ممالک اور عالمی قوتیں انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے خوبصورت نعروں کے پیچھے اپنے سیاسی و معاشی مفادات کو تحفظ دیتی ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والے مظالم، جنگیں اور انسانی حقوق کی پامالیاں اس دوہرے معیار کی واضح مثال ہیں۔

مولانا اشرف تابانی نے کہا کہ نوجوان نسل کو سوشل میڈیا، جدید ذرائع ابلاغ اور فکری یلغار کے اس دور میں شعور، بصیرت اور دینی معرفت کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واقعۂ کربلا میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کے بعد اگر حضرت زینبؑ کا پیغام نہ ہوتا تو دنیا امام حسین علیہ السلام کے عظیم مقصد اور قربانی سے آگاہ نہ ہو پاتی۔

محرم میں حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کا درس موجود ہے: مولانا اشرف تابانی

انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ نے ظلم و جبر کے ماحول میں حق کا پرچم بلند رکھا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اہلِ حق مصائب و مشکلات کے باوجود اپنے اصولوں سے دستبردار نہیں ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماہِ محرم اہلِ ایمان کو یہ درس دیتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو قرآن و سنت، سیرتِ اہلِ بیتؑ اور تعلیماتِ حسینی کے مطابق استوار کریں، حیا، عفت، اخلاق اور انسانی اقدار کو فروغ دیں اور ہر دور کی یزیدی قوتوں کے مقابلے میں حق و صداقت کے علمبردار بن کر امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو زندہ رکھیں۔

محرم میں حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کا درس موجود ہے: مولانا اشرف تابانی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha