جمعہ 1 مئی 2026 - 17:16
امریکہ اور صہیونیوں کا خلیج فارس کے نئے معادلات میں سمندری پانیوں کی تہہ میں غرق ہونے کے علاوہ کوئی مقام نہیں

حوزہ / قم المقدسہ میں نمازِ جمعہ کے خطیب نے یومِ خلیج فارس کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی کے پیغام کے ۱۰ اسٹریٹجک محوروں کی وضاحت کی اور اس اہم نکتے پر زور دیا کہ ایران ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ذلیل کر رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں نمازِ جمعہ کے خطیب آیت اللہ سید محمد سعیدی نے یکم مئی 2026ء کو قم کے مصلیٰ قدس میں منعقدہ جمعہ کے خطبوں میں رہبر معظم انقلاب کے یومِ خلیج فارس کے موقع پر پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: شہید رہبر انقلاب کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ مشکلات اور خطرات میں عوام کو مواقع دکھاتے اور ان کی بہترین رہنمائی کرتے تھے، واقعات کے مقابلے میں غیر فعال رویہ اختیار نہیں کرتے تھے اور ملت تک امید کا پیغام پہنچاتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا: رہبر معظم انقلاب کا خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر پیغام اسی امید کے احساس سے بھرپور تھا جس میں انہوں نے راستہ متعین کر دیا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ کبھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

قم کے امام جمعہ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر پیغام سے درج ذیل 10 اسٹریٹجک نکات کا تذکرہ کیا:

پہلا: نئے باب کا آغاز: امریکہ کی شکست کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا معاملہ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔

دوسرا: علاقے کی بیداری: دنیا نے جنوبی ایران کی بحری افواج کا استحکام اور ایرانی عوام کی غیرت کو غیروں کے تسلط کے خلاف اٹھتے دیکھا۔

تیسرا: عالمی نظریے میں تبدیلی: عوامی رائے اور یہاں تک کہ علاقے کے حکمرانوں کے لیے یہ واضح ہو گیا کہ علاقہ میں امریکہ کی موجودگی عدم تحفظ کا باعث ہے۔

چوتھا: امریکی رعب کا زوال: امریکی اڈے اپنی حفاظت بھی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

پانچواں: علاقے کا روشن افق: خلیج فارس کا مستقبل امریکہ کے بغیر اور قوموں کی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر وضع کیا گیا ہے۔

چھٹا: علاقے کی مشترکہ تقدیر: ایران اور خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ہمسایے مشترکہ مستقبل رکھتے ہیں۔

ساتواں: غیروں کے کردار کا خاتمہ: لالچی بیرونی طاقتوں کا علاقے کے مستقبل میں کوئی مقام نہیں ہے۔

آٹھواں: مزاحمت کی اسٹریٹجک فتح: یہ کامیابی مضبوط ایران کا نتیجہ اور علاقے اور دنیا میں نئے نظام کی تشکیل کا آغاز ہے۔

نواں: ابھری ہوئی قوم: اندرون اور بیرون ملک کئی ملین ایرانی نظام ِا سلامی کے راستے کی پشت پناہی اور تمام قومی صلاحیتوں کے محافظ اور نگہبان ہیں۔

دسواں: سلامتی اور ترقی کا استحکام: آبنائے ہرمز کے انتظام سے علاقے کی تمام قوموں کے لیے سلامتی، خوشحالی اور اقتصادی مفادات حاصل ہوں گے۔ بِاِذنِ الله وَلَو کَرِهَ الکافرون۔

حضرت معصومہ (س) کے حرم کے متولی نے مزید کہا: ایران ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ذلیل کر رہا ہے۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کا خلیج فارس کے نئے معادلات میں خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ میں غرق ہونے کے علاوہ کوئی مقام نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha