حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران کی سفارتی سرگرمیاں اور امریکی داخلی حالات بیک وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورۂ اسلام آباد بغیر کسی امریکی نمائندے سے ملاقات کے اختتام پذیر ہونا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ ایران اپنی سفارتی حکمت عملی کو آزادانہ انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ان کی دوبارہ واپسی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جو اس معاملے کی حساسیت کو مزید بڑھاتا ہے۔
ادھر امریکہ کے اندر سیاسی اور شخصی سطح پر بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ حرکات و بیانات نے نہ صرف عوامی سطح پر تشویش پیدا کی ہے بلکہ ان کے قریبی حلقوں میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ان کی بھتیجی میری ٹرمپ نے کھل کر ان کی ذہنی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ امریکی میڈیا اور سیاسی شخصیات بھی ان کی غیر مستقل پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہیں۔
یہ صورتحال صرف امریکہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اسرائیل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صہیونی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے متضاد بیانات نے اسرائیلی فوج کو شدید الجھن میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جنگی حکمت عملی غیر واضح ہو کر رہ گئی ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات اسرائیل کے لیے پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
امریکی عوام میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ تازہ سروے کے مطابق 55 فیصد امریکی شہری ٹرمپ کے مواخذے کے حامی ہیں، جو ایک غیر معمولی رجحان ہے۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے حامیوں میں بھی اختلافات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جو آنے والے وقت میں امریکی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایک حیران کن معاشی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ معروف ماہر معیشت اسٹیو ہانکے کے مطابق ایران پر حملوں کے باوجود اس کی کرنسی میں بہتری دیکھی گئی ہے، جو امریکی پالیسیوں کے برعکس ایک غیر متوقع نتیجہ ہے۔ یہ پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اقتصادی میدان میں بھی صورتحال یکطرفہ نہیں رہی۔
عسکری سطح پر ایران نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو اسے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول کو برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت حساس مقام ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جہاں امریکہ داخلی اور خارجی دباؤ کا شکار ہے، وہیں ایران سفارتی، عسکری اور معاشی سطح پر خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ