جمعہ 1 مئی 2026 - 18:38
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول، امریکہ دباؤ میں، حالات پلٹ گئے

حوزہ/ یومِ خلیج فارس کے موقع پر رہبر معظم نے ایک اہم اور جامع پیغام جاری کرتے ہوئے خطے میں ایک “نئے دور” کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ خلیج فارس نہ صرف ایک عظیم الٰہی نعمت ہے بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک سرمایہ بھی ہے جس پر ماضی سے بیرونی طاقتوں کی نظریں رہی ہیں۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یومِ خلیج فارس کے موقع پر رہبر معظم نے ایک اہم اور جامع پیغام جاری کرتے ہوئے خطے میں ایک “نئے دور” کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ خلیج فارس نہ صرف ایک عظیم الٰہی نعمت ہے بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک سرمایہ بھی ہے جس پر ماضی سے بیرونی طاقتوں کی نظریں رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس خطے کا نظم و نسق مقامی ممالک کے ہاتھ میں ہو اور غیر ملکی، خصوصاً امریکی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے لیے نئے قانونی اور انتظامی قواعد خطے کے تمام ممالک کے لیے ترقی اور استحکام کا باعث بنیں گے۔

ادھر امریکی میڈیا پلیٹ فارم Axios نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ محدود مگر شدید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات میں دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی فوج مختصر اور طاقتور حملوں کے ذریعے ایران کو جوہری معاملے پر لچک دکھانے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔

اس کے جواب میں سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے کمانڈر حاجی زادہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کوئی جارحیت کی گئی تو ایران نہ صرف امریکی اڈوں بلکہ بحری بیڑوں کو بھی نشانہ بنائے گا، اور دشمن کو “طویل اور دردناک” نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لبنان کے محاذ پر حزب اللہ نے اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے بنت جبیل میں اسرائیلی مرکاوا ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں نے اعتراف کیا ہے کہ نتن یاہو کی قیادت میں فوج حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مؤثر جواب دینے میں ناکام ہو رہی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے ان کی ساکھ میں شدید گراوٹ کا بھی ذکر کیا ہے۔

دوسری جانب معاشی محاذ پر بھی جنگ کے اثرات نمایاں ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف 40 روزہ جنگ نے امریکہ کو ایک کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا، جو ویتنام جنگ کے مقابلے میں بھی ایک بڑا معاشی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں ایران اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے جبکہ امریکہ کو عسکری، سفارتی اور معاشی سطح پر بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha