جمعہ 17 اپریل 2026 - 19:53
جنگ کا 48واں دن: لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھل گئی: ایران کی شرائط تسلیم، اسرائیل و امریکہ کو نئی سفارتی شکست

حوزہ/ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو محدود شرائط کے ساتھ دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو محدود شرائط کے ساتھ دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق جنگ بندی کے باقی عرصے کے لیے تجارتی جہازوں کو مخصوص راستوں کے تحت گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم یہ سہولت صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی اور ایرانی ضوابط کی پابندی لازمی ہوگی۔

ایرانی حکام نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی عارضی بحالی دراصل لبنان میں صہیونی حملوں کے خاتمے سے مشروط تھی، اور جب تک یہ شرط پوری نہیں ہوئی تھی، ایران نے گزرگاہ کو کھولنے سے انکار کیا۔ اس پیش رفت کو سفارتی سطح پر ایران کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیل کی پسپائی پر عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے بھی ردعمل دیا ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے لکھا کہ ایران کے سخت مؤقف نے اسرائیل پر دباؤ بڑھایا، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق یہ جنگ بندی درحقیقت ایران اور اس کے اتحادیوں کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کسی کمزور فریق کے ساتھ جنگ بندی نہیں کرتا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے مطالبات منوانے میں کامیابی حاصل کی۔

اسی دوران ایران کے مذہبی و علمی حلقوں کی جانب سے بھی عالمی سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں۔ متعدد اسلامی شخصیات اور اداروں نے پاپ لیو چہاردم کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف ان کے جرات مندانہ مؤقف کو سراہا گیا ہے۔

فوجی سطح پر بھی ایران نے اپنی تیاریوں کو برقرار رکھا ہے۔ سپاہ پاسداران نے ملٹری سے کے موقع پر جاری بیان میں واضح کیا کہ ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا “فیصلہ کن اور تباہ کن” جواب دیا جائے گا۔

علاقائی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب عاصم منیر نے ایران کے فوجی حکام سے ملاقات میں جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ ایرانی کمانڈرز نے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور اپنی دفاعی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

اسی دوران امریکی بحریہ کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب USS Dwight D. Eisenhower میں اچانک آگ لگنے کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہو گئے، جس نے امریکی فوجی تیاریوں پر سوالات کھڑے کر دیے۔

مجموعی طور پر لبنان میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایران کے حق میں مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کو ایک اور سفارتی و عسکری ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha