حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے بین الاقوامی دینی اور علمی اداروں کے سربراہوں نے دنیائے مسیحیت کے پیشوا پوپ لیو کے نام ایک خط میں، امریکی صدر کے جرائم کے خلاف جرأت مندانہ مؤقف پر شکریہ ادا کیا ہے۔
خط کا مکمل متن حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
دنیائے کیتھولک کے معزز پیشوا عالی جناب پوپ لیو چہاردہم
السّلام علیکم
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی حکومت اور غاصب صیہونی حکومت کے حملوں اور بے گناہوں کے قتل کی مذمت میں آپ کے مؤقف نے دنیا کے دینی لوگوں کو سربلند کیا ہے اور جابر امریکی صدر کے دباؤ کے سامنے کھڑے ہونے کی آپ کی جرأت، مختلف مذاہب کے علمائے کرام کے لیے نمونہ ہے۔
جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے: انبیائے الٰہی کی دعوت "انسانوں کے درمیان صلح اور دوستی" اور "ظلم اور قتل کی حرمت" رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک انسان کے بہیمانہ قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے:أنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفسًا بِغَیرِ نَفسٍ أوْ فَسادٍ فِی الأرضِ فَکَأنَّما قَتَلَ النّاسَ جَمیعًا. (قرآنِ کریم، سورۂ نمبر 5، آیت نمبر 32)
تاہم صرف پچھلے تین سالوں میں بچوں کی قاتل غاصب صیہونی حکومت نے امریکی حکومت کے تعاون سے متعدد ممالک پر حملے کرکے غزہ، لبنان، شام، ایران، عراق، یمن اور قطر میں ہزاروں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا ہے۔
ان مظالم کے تسلسل میں امریکہ اور اسرائیل کی ظالم فوجوں نے ایران کے خلاف اپنی حالیہ جنگ میں تمام ریڈ لائنز عبور کر لیں؛ بشمول:
- امریکہ اور اسرائیل نے عالم اسلام کے سب سے بڑے پیشوا کو شہید کر دیا، جو 90 ملین آبادی والے ملک کے سیاسی رہبر ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مختلف قومیتوں کے کروڑوں مؤمن لوگوں کے مرجع تقلید بھی تھے۔
- حملے کے پہلے ہی دن، امریکہ اور اسرائیل نے میناب شہر کے ایک پرائمری اسکول اور جنوبی ایران کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس کلب پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 200 نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، ساتھ ہی ان کے اساتذہ اور کوچز کو شہید کر دیا۔
- امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں ہزاروں طبی، امدادی اور بنیادی ڈھانچے کے مراکز کو تباہ کر دیا۔
- امریکہ اور اسرائیل نے سینکڑوں اسکولوں، یونیورسٹیوں، حوزہ ہائے علمیہ اور یہاں تک کہ خیراتی اداروں اور یتیم خانوں پر بھی حملہ کیا۔
- اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں میں مساجد، حسینیہ، گرجا گھروں اور عبادت گاہوں پر بھی حملہ کیا؛ یعنی مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہیں، جہاں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس گونجتی ہے۔وَلَوْلا دَفعُ اللهِ النّاسَ بَعضَهُمْ بِبَعضٍ لَهُدِّمَتْ صَوامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَسَاجِدُ یُذکَرُ فِیهَا اسْمُ اللهِ کَثِیرًا. (قرآنِ کریم، سورۂ نمبر 22، آیت نمبر 40)
جناب عالی!
اسلامی جمہوریہ ایران کے بین الاقوامی دینی اور علمی اداروں کی جانب سے، ہم آپ کے جرأت مندانہ مؤقف کی دل کی گہرائیوں سے قدردانی کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ طرزِ فکر استکبار اور جابروں کی خونریز جنگوں کے خاتمے کی بنیاد بنے گا۔
یہ تمام طاقت اور دولت جو اب سامراج اور صیہونیت کے ہاتھوں قتل و غارت گری پر خرچ ہو رہی ہیں؛ اگر اسے اخلاقی اقدار کی حکمرانی اور انسانی مشکلات کے خاتمے پر خرچ کیا جاتا تو انبیائے الٰہی"ابراہیم خلیل"، "موسیٰ کلیم"، " عیسیٰ روح اللہ" اور "محمد مصطفیٰ" صلوات اللہ علیہم کی تعلیمات کی حکمرانی ہوتی اور دنیا میں کوئی بھوکا اور مظلوم باقی نہیں رہتا۔
دنیا بھر میں قیام امن، آپ کی مسلسل کامیابی اور صحت اور ادیان اور مذاہب کے علمی مراکز اور عبادت گاہوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کے فروغ کی خواہش کے ساتھ!
دستخط کنندگان:
1. علیرضا اعرافی، اسلامی جمہوریہ ایران کے دینی مدارس کے سربراہ
2. محمد حسن اختری، مجمع جہانی اہلبیت (ع) کی سپریم کونسل کے چیئرمین اور بین الاقوامی عاشوراء فاؤنڈیشن کے سربراہ
3. حمید شہریاری، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے جنرل سیکرٹری
4. سید عبدالفتاح نواب، نمائندہ ولی فقیہ برائے حج و زیارت
5. احمد واعظی، دفترِ تبلیغات اسلامی کے سربراہ









آپ کا تبصرہ