جمعہ 17 اپریل 2026 - 14:12
امام امت شہید کی نظر میں بصیرت، حادثوں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت

حوزہ/ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر دن کوئی نئی خبر، نیا واقعہ، نیا بحران سامنے آتا ہے۔ اس سیلاب واقعات میں اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کیسے دیکھ رہے ہیں؟

تحریر: مولانا صادق الوعد

حوزہ نیوز ایجنسی| ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر دن کوئی نئی خبر، نیا واقعہ، نیا بحران سامنے آتا ہے۔ اس سیلاب واقعات میں اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کیسے دیکھ رہے ہیں؟

یہی طرزِ نگاہ ہی دراصل بصیرت ہے اور یہی ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی کمی اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔ امام امت شہید کی پوری فکری جدو جہد کا مرکزی نکتہ بھی یہی تھا کہ امت مسلمہ صرف واقعات کی شکار نہ رہے، بلکہ بصیرت کے ساتھ تاریخ بنائے۔ اسلامی تمدن کی از تعمیر کرے۔

بصیرت محض آنکھ سے دیکھ لینے کا نام نہیں، یہ دل کی بینائی ہے

آنکھ منظر کو دیکھتی ہے، دل معنی کو سمجھتا ہے۔ بصیرت وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان ظاہری ہنگاموں کے پیچھے چھپی حقیقت کو پہچانتا ہے؛ جذبات کے شور میں بھی اصولوں کی آواز سن لیتا ہے؛ وقتی فائدے کے پردے میں لپٹی ہوئی دیرپا نقصان دہ چیزوں کو بھی دیکھ لیتا ہے۔

قرآن کریم میں بصر اور بصیرت کا بار بار ذکر اسی لیے ہے کہ انسان صرف ظاہری آنکھ کے سہارے نہیں، بلکہ باطنی شعور کے ساتھ زندگی گزارے۔

دینی نقطۂ نظر سے بصیرت وہ گہری، مطمئن اور یقینی آگاہی ہے جو انسان کو یہ توفیق دیتی ہے کہ وہ واقعات کی سطح سے آگے بڑھ کر ان کے اسباب اور مقاصد تک پہنچے، اور ہر حادثے سے کوئی اصول، کوئی سبق، کوئی راستہ اخذ کر سکے۔

سیاسی اور سماجی سطح پر بصیرت کی ضرورت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب حالات پیچیدہ، غبار آلود اور متضاد ہوں۔ فتنہ اسی کو کہتے ہیں کہ حق و باطل، سچ و جھوٹ، خیر و شر اس انداز سے باہم مخلوط ہو جائیں کہ سطحی نگاہ فرق نہ کر سکے، ہجوم کی سمت کچھ ہو اور حقیقت کا رخ کچھ اور۔ ایسے میں وہی لوگ قائم رہتے ہیں جن کے پاس بصیرت ہوتی ہے؛ باقی سب کسی نہ کسی نعرے، کسی نہ کسی ہجوم، کسی نہ کسی فریب انگیز کشش کے اسیر ہو جاتے ہیں۔

امام امت شہید کے افکار میں بصیرت کی یہی روح نمایاں ہے۔

انہوں نے بار بار تاکید کی کہ: امت اگر صرف جذبات پر چلے گی تو ہر نعرہ، ہر لہر اور ہر حادثہ اسے ادھر سے ادھر کر دے گا؛ لیکن اگر بصیرت پیدا کر لے گی تو ہر فتنہ اس کے لیے بیداری کا مرحلہ اور ہر بحران تربیت کا سامان بن جائے گا۔

اسی تناظر میں انسانی رویّے کے چار درجے سامنے آتے ہیں:

1. عامیانہ نظر– خبر سنی، غصہ یا جوش آیا، تبصرہ کیا اور آگے بڑھ گئے۔ نہ پس منظر دیکھا، نہ انجام پر غور کیا۔

2. ابتدائی شعور – کچھ لوگ اثرات اور پیغام پر سوچتے تو ہیں، مگر ظاہری حد سے آگے نہیں بڑھتے۔

3. تحقیقی سطح – یہاں لوگ واقعے کے پیچھے مؤثر قوتوں، مفادات اور پوشیدہ ہاتھوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

4. بصیرت کی سطح – یہ سب سے اونچا درجہ ہے؛ یہاں انسان ہر واقعے سے اصول، درس اور نمونہ اخذ کرتا ہے۔ حادثہ اس کے لیے عارضی شور نہیں رہتا، مستقل رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

بینش اسلامی کی رو سے یہی چوتھا درجہ اصل مطلوب ہے۔ امام امت شہید کی فکر بھی اسی نکتے پر مرکوز تھی کہ مسلمان محض ردِّ عمل کی نفسیات سے نکل کر اصولی، باشعور اور دوررس نگاہ پیدا کریں۔

ان کے نزدیک بصیرت یہ تھی کہ:

امت دشمن کو بھی پہچانے، اپنے کمزور نکات کو بھی دیکھے، تاریخ کے تجربات کو بھی سمجھے، اور حال کے فیصلوں کو مستقبل کے انجام سے جوڑ کر کرے۔

بصیرت نہ ہو تو اخلاص بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔

نیت صاف، جذبہ سچا، مگر سمجھ کم ہو تو انسان اپنی طاقت غلط جگہ، غلط وقت، غلط طریقے سے خرچ کر دیتا ہے۔ غلط ترجیحات، غلط اعتماد، غلط توقعات… اور نتیجہ یہ کہ تھک بھی جاتا ہے اور منزل بھی نہیں ملتی۔ بصیرت دراصل اخلاص اور جذبے کی حفاظت کا نام ہے۔

امام امت شہید بارہا متنبہ کرتے رہے کہ جو امت اخلاص کے ساتھ بصیرت کو جمع کر لیتی ہے، وہ ہاری ہوئی جنگوں کو بھی موڑ سکتی ہے؛ اور جو اخلاص کو اندھی جذباتیت کے حوالے کر دیتی ہے، وہ جیتے ہوئے مواقع بھی گنوا دیتی ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم خبروں کے عادی ہیں، تفکر کے عادی نہیں۔

ایک معمولی نیوز ہمیں ہلا دیتی ہے، دوسری آتی ہے تو پہلی بھول جاتی ہے۔ ہم معلومات سے بھرے ہوئے ہیں مگر معانی سے خالی؛ اسی لیے ہم بار بار وہی غلطیاں دہراتے ہیں، پھر افسوس بھی وہی دہراتے ہیں۔

امام امت شہید کی فکر کا ایک اہم پیغام یہی تھا کہ امت کو خبر کی سطح سے اٹھا کر فکر اور بصیرت کی سطح پر لایا جائے؛ تاکہ وہ دیکھنے کے ساتھ سوچے اور سوچنے کے ساتھ راستہ بھی متعین کرے۔

بصیرت کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم ہر اہم واقعے کے بعد کم از کم اتنا ضرور سوچیں:

یہ کیوں ہوا؟

اس سے کس کو فائدہ، کس کو نقصان ہے؟

اور میرے لیے اس میں کیا سبق ہے، مجھے اپنے رویے میں کیا بدلنا چاہیے؟

جب فرد اس سطح تک پہنچتا ہے تو وہ ہجوم کا ایک اور جذباتی فرد نہیں رہتا، ایک باشعور انسان بن جاتا ہے۔ اور جب پوری قوم اس سطح پر آجائے تو وہ صرف تاریخ سننے والی امت نہیں رہتی، تاریخ بنانے والی امت بن جاتی ہے۔ یہی وہ امت ہے جس کی تشکیل امام امت شہید کے خوابوں میں تھی۔

بالآخر مذکورہ باتوں کو چند جملوں میں یوں سیمیٹ سکتے ہیں:

قومیں صرف وسائل سے نہیں، بصیرت سے بنتی ہیں؛ انسان صرف طاقت سے نہیں، درست نگاہ سے بڑا ہوتا ہے اور امت صرف تعداد سے نہیں،بلکہ بصیرت اپنے اندر پیدا کر کے عروج پاتی ہے۔

اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کوئی حقیقی سرمایہ دینا چاہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ انہیں دیکھنا ہی نہیں، دیکھ کر سمجھنا سکھائیں، سمجھ کر راستہ منتخب کرنا سکھائیں اور راستہ چن کر، ثابت قدم رہنا بھی۔ یہ وہ پیغام ہے جو بصیرت بھی دیتی ہے، اور امامِ امتِ شہید کے افکار بھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha