بدھ 1 اپریل 2026 - 12:48
عالمی افق کی دہلیز پر بعثتِ خلق اور جوان ہوتا انقلاب!

حوزہ/ایران اور عالمی طاغوت کے درمیان جاری یہ معرکہ محض ایک جنگ نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک نئے موڑ کی تمہید معلوم ہوتا ہے۔ اب تک کے نتائج کو دیکھا جائے تو ایرانِ اسلامی نے وہ استقامت اور حوصلہ دکھایا ہے جس کا اعتراف دوست و دشمن سب کر رہے ہیں۔ شاید دنیا میں محورِ مقاومت کے سوا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایران اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور عالمی سیاست کے نام نہاد سپر پاورز کو حیرت میں ڈال دے گا۔

تحریر: صادق الوعد قم ایران

حوزہ نیوز ایجنسی| ایران اور عالمی طاغوت کے درمیان جاری یہ معرکہ محض ایک جنگ نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک نئے موڑ کی تمہید معلوم ہوتا ہے۔ اب تک کے نتائج کو دیکھا جائے تو ایرانِ اسلامی نے وہ استقامت اور حوصلہ دکھایا ہے جس کا اعتراف دوست و دشمن سب کر رہے ہیں۔ شاید دنیا میں محورِ مقاومت کے سوا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایران اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور عالمی سیاست کے نام نہاد سپر پاورز کو حیرت میں ڈال دے گا۔
امریکا اور اس کے حامیوں کا اندازہ یہ تھا کہ اگر ابتدائی دنوں میں قیادت کے بڑے ستون، حتیٰ کہ سپریم لیڈر تک کو نشانہ بنا دیا جائے تو ایران کا نظام لرز جائے گا اور وہ بغیر کسی مزاحمت کے گھٹنے ٹیک دے گا۔ گویا ان کے خیال میں سب کچھ محاسبہ شدہ تھا، ہر چال پہلے سے سوچی سمجھی۔ مگر ایک حقیقت ایسی تھی جسے وہ اپنے حساب و کتاب میں شامل کرنا بھول گئے تھے—اور وہ تھی بعثتِ خلقِ خدا۔

رہبرِ معظمِ انقلاب، شہید سید علی خامنہ ای سے جب ان کے بعد قیادت کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بڑے اطمینان سے فرمایا تھا کہ جب وقت اور ضرورت آئے گی تو خداوندِ مدبر و حکیم اپنے بندوں میں سے ایسے لوگوں کو مبعوث کرے گا اور ایسا راستہ کھول دے گا جس کا کسی کے فہم و ادراک میں بھی گمان نہ ہوگا۔ تاریخ نے گویا اسی وعدے کی تصدیق کر دی۔
جب ماہِ رمضان کی سحری کے پُرسکون لمحوں میں ان کی شہادت کا اعلان ہوا تو ایران کی فضا یکایک سوگ میں ڈوب گئی۔ مساجد کے دروازے کھل گئے، حرموں کے صحن بھر گئے، اور گلی کوچوں میں لوگ اشکبار آنکھوں کے ساتھ جمع ہونے لگے۔ پورا ایران ایک دل بن گیا جو غم اور عزم کے ساتھ دھڑک رہا تھا۔ صرف ایران ہی نہیں، بلکہ جہاں جہاں دلِ مسلم دھڑکتا ہے وہاں سوگواری کی لہر دوڑ گئی گلگت بلتستان کی وادیوں سے لے کر کشمیر کے پہاڑوں تک، اور افریقہ کے دور دراز علاقوں تک فضا سوگوار ہو گئی۔
مگر یہ سوگ صرف آنسوؤں تک محدود نہ رہا۔ اس نے عزم میں ڈھل کر ایک نئی قوت پیدا کی۔ شہادت کے بعد ایران کے شہروں میں دن رات لوگوں کے ہجوم سڑکوں، چوراہوں اور خیابانوں میں جمع ہونے لگے۔ وہ انقلاب اور سپاہِ اسلام کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کر رہے تھے۔ بعض مجتہدین نے تو یہاں تک کہا کہ موجودہ حالات میں رات کے وقت سڑکوں پر نکل کر حمایت کا اظہار کرنا واجبِ کفائی کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ گویا ایک قوم بیدار ہو چکی تھی۔
یہ بیداری صرف ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ ایک تہذیبی شعور کی علامت دکھائی دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں اسی طرح کے اجتماعی احساس سے جنم لیتی ہیں۔ اس جنگ کے بعد یقیناً نہ صرف ایران کا نقشہ بدلے گا بلکہ عالمی منظرنامہ بھی نئی صورت اختیار کرے گا۔

علامہ محمد اقبال نے ایک زمانے میں ایک امید افزا پیش گوئی کی تھی:

تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

آج محسوس ہوتا ہے کہ یہ مصرع محض شاعرانہ خیال نہیں بلکہ ایک تاریخی امکان کی طرف اشارہ تھا۔ مگر شاید آنے والا زمانہ اس سے بھی آگے بڑھ جائے۔ ممکن ہے کہ تہران صرف عالمِ مشرق ہی کا نہیں بلکہ پورے کرۂ خاکی کا جنیوا بن کر ابھرے—ایک ایسا مرکز جہاں نئی عالمی فکر اور نئے تمدنی اصول جنم لیں۔
یقیناً اس منزل تک پہنچنے کے لیے قربانیوں کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ خون کے نذرانے، صبر کی آزمائشیں اور مشکلات کی گھاٹیاں تاریخ کے ہر بڑے انقلاب کا حصہ رہی ہیں۔ آج جو لوگ سڑکوں پر نکل کر اپنے عزم کا اظہار کر رہے ہیں، وہ دراصل اسی آنے والے عالمی نقشے کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔ یہ صرف احتجاجی ریلیاں نہیں بلکہ ایک نئے تمدنِ اسلامی کی تمہید ہیں۔ گویا عالمی افق پر ایک نئی تہذیب کی نقاب کشائی ہو رہی ہے۔

رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد ایران کی فضا میں ایک نعرہ گونجنے لگا: دستِ خدا عیاں شد، خامنہ ای جواں شد

یہ نعرہ محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف قیادت جوان ہوئی ہے؛ درحقیقت اس لمحے میں اسلام کی روح تازہ ہوئی ہے، انقلاب کی توانائی پھر سے جوان ہوئی ہے، اور ایک قوم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہادتیں راستے کو ختم نہیں کرتیں بلکہ اسے مزید روشن کر دیتی ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ ایک نئے باب کے دہانے پر کھڑی ہے—اور اس باب کے ابتدائی حروف شاید اسی سرزمین پر لکھے جا رہے ہیں جہاں آج بھی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں مگر دلوں میں ایک نئی صبح کی امید بھی روشن ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha