تحریر: مولانا صادق الوعد
حوزہ نیوز ایجنسی| آج کی دنیا ایک عجیب اور فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بارود کی بو ہے، عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں سازشوں کا بازار گرم ہے، اور نفسیاتی جنگ اپنے عروج پر ہے۔ ایسے طوفانی حالات میں، جب فضائیں دھمکیوں اور جنگی طیاروں کی گھن گرج سے بھری ہوئی ہیں، عالمی نقشے پر ایک ملک ایسا ہے جو کسی ناقابل تسخیر پہاڑ کی مانند کھڑا ہے—اسلامی جمہوریہ ایران۔ ایران کی اس بے مثال دلیری، غیر متزلزل استقامت اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات نے عالمی سطح پر دو مخصوص گروہوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اس وقت ان دو گروہوں کی پریشانی اور بوکھلاہٹ دیدنی ہے، جن کا نفسیاتی اور فکری تجزیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
پہلا گروہ: شکست خوردہ ذہنیت
یہ وہ گروہ ہے جو صدیوں سے استعمار اور عالمی طاقتوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔ اس گروہ میں وہ ممالک، حکمران اور دانشور شامل ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بقا صرف سپر پاورز کی غلامی، ان کے جوتے چاٹنے اور اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے میں ہے۔
ان کی پریشانی کا سبب کیا ہے؟
اس مرعوب اور شکست خوردہ گروہ کا سب سے بڑا سوال اور دردِ سر یہ ہے کہ: “ایران کیوں نہیں بھاگ رہا؟جب ان پر دباؤ پڑتا ہے تو یہ فوراّ اپنے ہوائی اڈے دے دیتے ہیں، اپنی معیشت گروی رکھ دیتے ہیں اور اپنی خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ انہیں توقع تھی کہ سخت ترین اقتصادی پابندیوں، فوجی دھمکیوں، اور عالمی تنہائی کے خوف سے ایران بھی گھٹنے ٹیک دے گا۔
لیکن ایران کا میدانِ عمل میں ڈٹے رہنا دراصل اس گروہ کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ایران کی شجاعت اس گروہ کو ان کی اپنی بزدلی، کھوکھلے پن اور ذلت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ اس لیے پریشان نہیں ہیں کہ ایران پر حملہ ہو جائے گا، بلکہ یہ اس لیے خوفزدہ ہیں کہ اگر ایران بغیر بھاگے، استقامت کے ساتھ کھڑا رہ کر کامیاب ہو گیا، تو ان کی موت واقع ہو جائے گی جس کے تحت وہ اپنی قوموں کو یہ درس دیتے آئے ہیں کہ طاقتور کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ایران کا وجود ان کی بزدلی پر ایک طمانچہ ہے۔
دوسرا گروہ
مادی وسائل پر غرور کرنے والے یہ دوسرا گروہ عالمی استکبارصیہونی طاقتوں اور ان کے مغربی سرپرستوں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی ٹیکنالوجی، ایٹمی وار ہیڈز، اسٹیلتھ طیاروں، آئرن ڈومز، اور معاشی تسلط پر غرور کیا ہے۔
ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے تمام تر فوجی اور تکنیکی حساب کتاب ایران کے سامنے آ کر فیل ہو جاتے ہیں۔ وہ دنیاوی لیبارٹریوں میں بیٹھ کر یہ حساب لگاتے ہیں کہ ہم اتنے بم گرائیں گے، اتنی پابندیاں لگائیں گے تو فلاں ملک اتنے دنوں میں ٹوٹ جائے گا۔ لیکن وہ حیران ہیں کہ چار دہائیوں کے محاصرے، دھمکیوں اور حالیہ شدید ترین جنگی جنون کے باوجود ایران کا معاشرہ اور قیادت خوف کا شکار کیوں نہیں؟
ان کا مادی دماغ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جنگ صرف لوہے اور بارود سے نہیں لڑی جاتی، بلکہ جنگ ارادوں اور ایمان سے لڑی جاتی ہے۔ وہ ایران کو اپنے مادی ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ ایران کی طاقت کا سرچشمہ وہ روحانی طاقت ہے، جس نے ان کے معاشرے کو موت کے خوف سے آزاد کر دیا ہے۔
ان دونوں گروہوں کی پریشانی کا جواب قرآنی اصطلاح نفسِ مطمئنہ میں پوشیدہ ہے۔" يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً" (سورہ الفجر: 27-28)
عام طور پر نفسِ مطمئنہ کو انفرادی عرفان کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں ایران کی پوری قوم اور قیادت ایک “نفسِ مطمئنہ” کا جیتا جاگتا اور مثال زدنی نمونہ بن چکی ہے۔ یہ نفسِ مطمئنہ اچانک پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسی ایمان کی انتہا ہے ۔ جب کسی قوم کے اندر یہ الٰہی عزتِ نفس پیدا ہو جائے کہ طاقت اور رزق کا سرچشمہ واشنگٹن یا تل ابیب نہیں بلکہ ذاتِ پروردگار ہے، تو پھر ان پر کوئی مادی دباؤ اثر نہیں کرتا۔
جس قوم کا آئیڈیل موت سے فرار کے بجائے شہادت کی آرزو ہو، اسے ایٹم بم یا طیارہ بردار بحری بیڑوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔ وہ قوم موت کو ایک تاریک کھائی نہیں، بلکہ خدا سے ملاقات کا حسین ترین دروازہ سمجھتی ہے۔شدید ترین بحرانوں میں بھی ایران کی قیادت کے بیانات اور فیصلوں میں کوئی عجلت یا بوکھلاہٹ نظر نہیں آتی۔ ان کے چہروں کا سکون اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کا رشتہ مادی دنیا سے کٹ کر کسی بلند تر روحانی مرکز سے جڑا ہوا ہے۔جیسا کہ ہم نے واضح کیا کہ ایران کا یہ سکون کسی سیاسی چالاکی یا ڈپلومیسی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ قرآن کے اس وعدے پر کامل یقین کا نتیجہ ہے کہ عزت صرف خدا، اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے۔
حرفِ آخر
آج کا دور حقائق کے بے نقاب ہونے کا دور ہے۔ جو بھاگنے کے عادی ہیں، وہ آج بھی مصلحتوں کے نام پر پسپائی کے بہانے تراش رہے ہیں۔ جنہیں مادی طاقت پر غرور ہے، وہ اپنی ہی ٹیکنالوجی کے بوجھ تلے دب کر نفسیاتی شکست کھا رہے ہیں۔
ان سب کے درمیان، اسلامی جمہوریہ ایران کا غیر متزلزل مؤقف تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جا رہا ہے۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ جب کوئی قوم تقویٰ کی ڈھال پہن کر اور نفسِ مطمئنہ کی منزل پر فائز ہو کر میدان میں اترتی ہے، تو وہ دنیا کے تمام فرعونوں کے لیے ایک ناقابلِ فہم اور ناگزیر حقیقت بن جاتی ہے۔ آج ایران کی دلیری صرف ایک ملک کی نہیں، بلکہ مظلومینِ جہاں کی بیداری کی علامت اور استقامت کی سب سے حسین، مستند اور مثال زدنی تصویر بن چکی ہے۔









آپ کا تبصرہ