حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ نجف اشرف حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے حسینیہ اعظم فاطمیہ نجف اشرف میں خطبۂ جمعہ کے دوران کہا: ایک طرف جنگ کے نقارے بج رہے ہیں اور ہر سمت سے دھمکی آمیز بیانات گونج رہے ہیں تو دوسری طرف ٹرمپ نے ایران کو 15 دن کی مہلت دی ہے۔ اس کے مقابل ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں خطے میں منعقد کر رہا ہے اور اقوامِ متحدہ کو پیغام بھیجا ہے کہ اس ملک پر کسی بھی جارحیت کو تمام امریکی اڈوں کے خلاف جائز دفاعی جواب کا حق سمجھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا: کسی صورت بھی کسی کے فائدے میں نہیں کہ خطہ شعلہ ور ہو۔ ایران ایک سخت جان جنگجو کی طرح ہے اور کھیل کے اصول بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا کو اس غیبی دستِ مدد کو یاد رکھنا چاہیے جس نے طبس میں ایران کی مدد کی اور انسانی مداخلت کے بغیر امریکی طیاروں کو زمین بوس کیا۔
امام جمعہ نجف اشرف نے "غزہ امن کونسل" کے انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ کونسل واشنگٹن میں امریکہ کی نگرانی میں تشکیل دی گئی ہے۔ خلیج فارس کے پانچ عرب ممالک نے اس کے لیے پانچ ارب ڈالر عطیہ کیے ہیں مگر اس رقم کا دسواں حصہ بھی غزہ کے لیے مختص نہیں کیا گیا۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ کونسل درحقیقت دنیا پر تسلط حاصل کرنے اور اقوام متحدہ کے کردار کو معطل کرنے کی کوشش ہے۔









آپ کا تبصرہ