جمعہ 3 اپریل 2026 - 20:29
استقلال؛ عالمی طاقتوں کی ایران اسلامی سے دشمنی کیوں؟

حوزہ/دنیا گزشتہ ایک ماہ سے ایک نئی اور شدید کشمکش کا منظر دیکھ رہی ہے۔ ایران اسلامی اور عالمی طاقتوں، بالخصوص شیطان اکبر اور ایپسٹن زادوں کے درمیان بھڑکی ہوئی جنگ کب تک جاری رہے گی، اس کا قطعی جواب کسی کے پاس نہیں۔ مگر اس ماحول میں ہر صاحب فہم کے دل میں ایک سوال شدت سے جنم لیتا ہے: آخر عالمی طاقتوں کو ایران اسلامی سے ایسی کیا دشمنی ہے؟ یقینا یہ عداوت صرف سیاسی ہے، نہ ہی وقتی؛ اس کی جڑیں کہیں زیادہ گہری بلکہ تمدنی اور تاریخی ہیں۔

از قلم: مولانا صادق الوعد قم ایران

حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا گزشتہ ایک ماہ سے ایک نئی اور شدید کشمکش کا منظر دیکھ رہی ہے۔ ایران اسلامی اور عالمی طاقتوں، بالخصوص شیطان اکبر اور ایپسٹن زادوں کے درمیان بھڑکی ہوئی جنگ کب تک جاری رہے گی، اس کا قطعی جواب کسی کے پاس نہیں۔ مگر اس ماحول میں ہر صاحب فہم کے دل میں ایک سوال شدت سے جنم لیتا ہے: آخر عالمی طاقتوں کو ایران اسلامی سے ایسی کیا دشمنی ہے؟ یقینا یہ عداوت صرف سیاسی ہے، نہ ہی وقتی؛ اس کی جڑیں کہیں زیادہ گہری بلکہ تمدنی اور تاریخی ہیں۔

یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران اور ان استکباری طاقتوں کے درمیان نہ کوئی براہ راست زمینی تنازع ہے، نہ نسلی و قومی جھگڑا۔ لہذا آخر وہ کون سا جرم ہے جس کے باعث پورا سامراج ایران کے خلاف صف آرا ہے؟

اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آدم نبی سے آج تک حق و باطل کا معرکہ جاری رہا ہے؛ کہیں موسیٰ اور فرعون کا مقابلہ، کہیں ابراہیمؑ اور نمرود کا تصادم، اور کہیں بعثت محمدی ص کے بعد ظلم و عدل کی مسلسل صف آرائی۔ لیکن عصر حاضر میں ایران اسلامی کو عالمی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بنانے والی بنیادی وجہ صرف یہ ازلی کشمکش نہیں، بلکہ اس کے ساتھ وہ چار اصول ہیں جو انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران نے اپنا واضح منشور بنا کر دنیا کے سامنے رکھے:

استقلال، آزادی، جمہوریت، اسلامیّت

یہ چار اصول وہ ستون ہیں جنہوں نے ایران کو استکبار کے سامنے ایک مستقل، اور خوددار ملک بنا دیا۔ اگر ایران ان میں سے کسی ایک پر بھی حقیقی معنوں میں سمجھوتہ کرلے تو وہی سامراجی قوتیں جو آج ایران کو خطرہ قرار دیتی ہیں، اگلے ہی دن اسی ایران کو اپنا مسئلے کا حل اور اتحادی کہنے لگیں۔

انقلاب اسلامی سے پہلے پورا ملک سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال تھا۔ شاہی دور میں نہ تیل پر ایرانی حکومت کا مکمل کنٹرول تھا، نہ دفاعی نظام پر؛ حتیٰ کہ پارلیمنٹ کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ اس نے ایسا توہین آمیز بل(کیپیٹل ازم) منظور کیا جس کے تحت کسی بھی امریکی شہری پر، خواہ وہ ایران کی سر زمین پر کوئی سنگین جرم ہی کیوں نہ کر بیٹھے ہو، ایرانی قانون نافذ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس پر مقدمہ ایرانی عدالت میں نہیں، امریکی عدالت میں چلتا۔ یعنی ایران، ایران میں رہتے ہوئے بھی قانوناً امریکہ کی محفوظ چراگاہ بنا دیا گیا تھا۔

ذلت کی انتہا یہ تھی کہ جہاں امریکی افسران، مشیران اور اہلکار رہائش پذیر ہوتے، وہاں یہ تحقیر آمیز بورڈ آویزاں رہتا:

یہاں ایرانی اور کتوں کا داخلہ ممنوع ہے

یہ صرف ایک عام فقرہ نہیں تھا؛ ایک پوری قوم کی خودیت پر رکھا گیا وہ زخم تھا جس نے بالآخر ایک عظیم انقلاب کی چنگاری کو بھڑکایا۔ صدیوں کی تہذیبی خودداری کو اس کے اپنے وطن میں غلام بنا دیا گیا تھا، اور یہی غلامی وہ پس منظر ہے جسے سمجھے بغیر آج کی دشمنی کا زاویہ اور گہرائی واضح نہیں ہوتی۔

جب انقلاب اسلامی برپا ہوا تو ایران نے پوری دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ اب وہ اپنی سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور تہذیبی سمت کا تعیّن خود کرے گا۔ یوں استقلال انقلاب کا پہلا اور بنیادی ستون بن کر سامنے آیا۔

یہ استقلال صرف جغرافیائی آزادی کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کا معنی یہ تھا کہ ایران:

اپنے وسائل اور دولت پر خود حاکم ہوگا

اپنی خارجہ و داخلہ پالیسی خود طے کرے گا

اپنی دفاعی حکمت عملی سے لیکر ثقافت، اخلاقیات، تعلیمی نظام ،اور طرز زندگی کے نظام سب کی سمت خود متعین کرے گا

اسی لیے، جمہوری اسلامی ایران سے دشمنی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ملت ایران نے خدا کے قانون کی حاکمیت کے سائے میں استقلال اور خودمختاری کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ایرانی قوم نے فیصلہ کر لیا کہ وہ نہ کسی طاقت کے سامنے جھکے گی، نہ کمزوری کا اظہار کرے گی، اور نہ ہی اپنے دین، ثقافت اور وسائل پر کسی بیرونی بالادستی کو قبول کرے گی۔ یہی استقلال استکباری قوتوں کے لیے سب سے بڑا جرم بن گیا اور انہوں نے ایران کے خلاف مسلسل محاذ آرائی کو اپنی ناگزیر اور مستقل پالیسی بنا لیا۔

جب تک ایران ایک خودمختار، اسلامی ملک کے طور پر، اور ایک ایسی حکومت کے ساتھ جو ایمان دار، بیدار اور انقلابی ملت پر تکیہ کرتی ہو، عالمی سیاست کے افق پر موجود رہے گا، اس وقت تک امریکا اور اس کے ہم نوا استکباری نظام کی دشمنی ختم نہیں ہوگی۔

یہی وہ عناصر ہیں جو استکباری طاقتوں کے مفادات کے خلاف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران اور خطے کے دوسرے ممالک ہمیشہ ان کے محتاج رہیں؛ ثقافتی طور پر ان کے رنگ میں رنگے جائیں، اقتصادی طور پر ان کے نظام سے بندھے رہیں اور سیاسی طور پر ان کی مرضی کے تابع چلیں۔

جب کوئی قوم خودمختار ہو، اپنے پیروں پر کھڑی ہو، اور اعلیٰ اہداف کی سمت خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہو تو وہ استکبار کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی ناراضی اور دشمنی کا اصل سبب یہی ہے۔ وہ اس وقت خوش ہوں گی جب ملت ایران اپنا دین، اپنی ثقافت، اپنی معیشت اور اپنا فیصلہ ساز نظام یکسر ان کے ہاتھ میں دے دے اور دوبارہ وہی کچھ بن جائے جو شاہ کے دور میں تھی ایک بظاہر آزاد مگر حقیقتاً غلام ریاست۔

استقلال کا یہی مفہوم انقلابِ اسلامی کے بنیادی شعار میں مجسم نظر آتا ہے:

لا شرقیہ ولا غربیہ

یہ نعرہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اعلان ہے کہ ملت ایران کسی بھی استکباری بلاک کی سرپرستی اور غلامی قبول نہیں کرے گی۔

یہ نعرہ: ایران کے استقلال قوم پر اعتماد اور مومن و انقلابی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر بھروسے کا زندہ استعارہ ہے، جو آج بھی تازہ اور جاوداں ہے۔ اس کے مقابلے میں استکباری طاقتوں کی خواہش یہ ہے کہ ملتِ ایران دوبارہ وابستگی قبول کر لے؛ اپنے ہاتھوں سے حاصل کی گئی آزادی و خودمختاری کو چھوڑ دے اور پھر سے امریکا کے حکم کی مطیع ہو جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر پہلوی کا طاغوتی نظام چل رہا تھا۔

پہلوی حکومت کی وابستگی ایسی شرمناک تھی کہ ایک امریکی سفارتکار نے خود لکھا کہ ہم شاہ کو بتاتے تھے:

تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے اور کس کی نہیں؛ کس ملک سے تعلق قائم کرنا ہے اور کس سے توڑ دینا ہے؛ کیا بیچنا ہے، کتنا بیچنا ہے، کس کو بیچنا ہے اور کس کو نہیں۔ یعنی ایک مسلمان ملک کی سیاست اور معیشت براہِ راست پہلے برطانیہ اور پھر امریکا کے نقشوں کے مطابق چلتی تھی۔ انقلابِ اسلامی نے اسی وابستہ، ایران کو ایک مستقل، باوقار اور سربلند ایران میں بدل دیا۔ فاسد، خائن، عیاش اور مال پرست حکمرانوں کی جگہ عوام کے حقیقی نمائندوں نے لے لی اور اقتدار ایک ایسی قیادت کے ہاتھ آیا جو ملت اور اس کے دین سے جڑی ہوئی اور وفادار تھی۔

آج ایران کی آزادی اور استقلال کوئی سستا حاصل کردہ عطیہ نہیں، یہ سینکڑوں ہزار بہادر، بیدار اور فداکار انسانوں کے خون کا ثمر ہے؛ زیادہ تر نوجوان، مگر سب کے سب انسانیت کے اعلیٰ ترین مدارج پر فائز۔

یہ استقلال، شہداء کی قربانیوں سے نکلی ہوئی ایک زندہ حقیقت ہے؛ اسی لیے وہ طاقتیں جو قوموں کو چند مراعات اور قرضوں کے بدلے غلام بنا لیا کرتی تھیں، ایران کے معاملے میں ناکام اور برہم نظر آتی ہیں۔اسی پس منظر میں اگر پورے سوال کا خلاصہ کیا جائے تو شہید رہبر معظم نے اس جواب ایک ہی جملے میں بیان فرماتے ہیں:

دشمنی کا اصل سبب ملت ایران کا استقلال اور اسلام و قرآن پر اس کی پختہ پابندی ہے۔

آج اسلامی جمہوریہ ایران، ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل سسٹم سے لے کر دیگر حساس اور جدید علمی و تحقیقی میدانوں میں جس طرح ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، وہ دراصل اس کے استقلال، خود اعتمادی اور خود انحصاری کا روشن ثبوت ہے۔ چالیس سے زائد برس تک کمر توڑ اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور مسلسل عالمی دباؤ کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑا رہنے کا حوصلہ دکھایا بلکہ علم و ٹیکنالوجی میں ایسی پیش رفت کی ہے جس نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان طاقتوں کی دشمنی اور مخاصمت کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ایران نے استقلال کے ساتھ آگے بڑھ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بغیر غیروں کے سہارے کے بھی ترقی ممکن ہے۔

یہ ترقی صرف ایک ملک کی پیش رفت نہیں، بلکہ ایک نظریے اور طرزِ فکر کی کامیابی ہے۔ بہت جلد یہی ایران اُن تمام مظلوم، محکوم اور ستم دیدہ اقوام کے لیے ایک زندہ اور عملی رول ماڈل بن کر اُبھرے گا جو آزادی، خود مختاری اور باوقار زندگی کی تمنا رکھتی ہیں۔

جب تک یہ استقلال، یہ ایمانی استقامت اور یہ قرآنی راستہ برقرار ہے، استکبار کی دشمنی بھی باقی رہے گی؛ اور جب تک ملت ایران بیدار اور باہوش ہے، کسی بھی زور، دھونس اور لالچ کے آگے جھکنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔

جاری ہے۔۔۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha