حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنگِ رمضان اپنے 33ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ دشمن نے ابتدا میں یہ گمان کیا تھا کہ وہ چند ہی دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ اندازہ غلط ثابت ہو رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایران کی مسلح افواج نئی حکمت عملی کے تحت اپنی طاقت اور برتری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے مقبوضہ علاقوں پر تازہ میزائل حملے کیے ہیں۔ گزشتہ دو گھنٹوں کے دوران چار میزائل حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں تل ابیب اور اس کے اطراف کے کم از کم 11 مقامات کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے بعد علاقے میں خطرے کے سائرن مسلسل بجتے رہے۔
دوسری جانب، ایرانی افواج دشمن کے ڈرونز کو بھی بڑی تعداد میں تباہ کر رہی ہیں۔ اب تک امریکی-صہیونی اتحاد کے 149 ڈرونز مار گرائے جا چکے ہیں۔
ادھر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی مجموعی "لہروں" کی تعداد 88 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حملے نہ صرف جاری ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ منظم، ہدف کے مطابق اور شدید ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، آبنائے ہرمز بدستور ایران کے عملی کنٹرول میں ہے، جس کے باعث مغربی ممالک کے جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے۔ خطے میں امریکہ کے بیشتر فوجی اڈے حالیہ حملوں کے بعد غیر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے، جو مغربی معیشت کے لیے سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
ان حالات میں امریکی کانگریس کے جنگ کے حامی حلقوں میں بھی یہ رائے ابھرتی جا رہی ہے کہ فوجی راستہ ناکام ہو چکا ہے، اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط کو تسلیم کرنا ہی واحد حل رہ گیا ہے۔









آپ کا تبصرہ