حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران پر امریکی اور صہیونی جارحیت کے تناظر میں ملک ایران میں عوامی یکجہتی کے مناظر دیکھنے کو ملے، جہاں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی بھرپور موجودگی نے قومی بیداری اور اجتماعی ذمہ داری کا واضح ثبوت پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، شورائے عالی انقلابِ ثقافتی کے حوزوی تخصصی کونسل کے سیکریٹری حجت الاسلام والمسلمین عباس ابراہیمی نے کہا کہ آج دشمن کی یلغار صرف عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ، میڈیا پروپیگنڈے اور سماجی انتشار پیدا کرنے کی کوششیں بھی اس کا حصہ ہیں۔ ایسے میں عوام بالخصوص خواتین کا بصیرت افروز کردار انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی معاصر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے استقلال اور مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، خواتین نے مردوں کے ساتھ مل کر حوصلہ، ایمان اور شعور کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بقول انقلابِ اسلامی نے ایرانی مسلمان عورت کو ایک باوقار، باصلاحیت اور بااثر سماجی شخصیت کے طور پر متعارف کرایا۔
عباس ابراہیمی نے کہا کہ ایرانی خواتین نے گزشتہ چار دہائیوں میں تعلیم، ثقافت، میڈیا، سیاست اور سماجی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج خواتین صرف خاندان کے سکون کی محافظ نہیں بلکہ قومی استقامت، مزاحمت اور اجتماعی ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد بھی ہیں۔









آپ کا تبصرہ