حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ الزہرا (س) کے شعبہ مطالعات اسلامی کی سربراہ ڈاکٹر زہرہ شریعت ناصری نے کہا ہے کہ جنگ کے حالات میں معاشرے کے بااثر اور تعلیم یافتہ افراد کی سب سے اہم ذمہ داری عوام میں صحیح آگاہی پیدا کرنا اور امید کو زندہ رکھنا ہے۔
حوزہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو علم، تجربہ اور سماجی اثر رکھتے ہیں، وہ عوام کی سوچ اور حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا فرض ہے کہ وہ صرف رائے نہ دیں بلکہ درست رہنمائی بھی کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان افراد کو چاہیے کہ وہ گہرے اور حقیقت پر مبنی تجزیے پیش کریں، جن میں حالات کے ممکنہ نتائج، خطرات اور مختلف راستوں کو واضح کیا جائے۔ ساتھ ہی ذاتی یا سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر سچ بات کہنا بھی ضروری ہے، چاہے وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
ڈاکٹر شریعت ناصری نے مزید کہا کہ ایک ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں کھل کر بات کی جا سکے اور مختلف رائے رکھنے والوں کو اپنی بات پیش کرنے کا موقع ملے۔ اگر ایسا ماحول نہ ہو تو لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہو جاتے ہیں، جو نقصان دہ ہے۔ میڈیا اور ثقافتی میدان سے وابستہ افراد کو بھی چاہیے کہ وہ جنگ کی وجوہات اور فیصلوں کو سادہ انداز میں عوام تک پہنچائیں تاکہ لوگوں میں اتحاد برقرار رہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جنگ کے باوجود انسانی جان، عزت اور اخلاقی اصولوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مذہبی اور اخلاقی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ غیر انسانی فیصلوں کے نتائج سے آگاہ کریں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکیں۔
انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود سب کو مل کر کام کرنا چاہیے اور ملک کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ تجربہ کار افراد کو چاہیے کہ وہ اختلافات کم کرنے میں کردار ادا کریں اور لوگوں کو انتشار سے بچائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران درست معلومات دینا بہت ضروری ہے تاکہ عوام میں خوف اور مایوسی نہ پھیلے بلکہ حوصلہ اور اعتماد پیدا ہو۔ حقیقت پر مبنی اور امید دلانے والی باتیں لوگوں کے حوصلے کو مضبوط بناتی ہیں۔
آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاشرے کے بااثر افراد اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے عوام کی رہنمائی کریں گے اور مشکل حالات میں اتحاد اور حوصلہ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔









آپ کا تبصرہ