منگل 2 جون 2026 - 14:26
وحدت و انسجام کامیابی کی پہلی شرط، مضبوط دفاع اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں؛ آیت اللہ العظمیٰ سبحانی

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفر سبحانی نے صدر جمہوریہ کے دفتر کے سربراہ ڈاکٹر محسن حاجی میرزائی سے ملاقات میں قومی اتحاد و یکجہتی کو موجودہ حالات میں کامیابی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نہ صرف دشمن کے مقابلے میں قوت و طاقت حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ مناسب حالات میں مذاکرات کی بھی حمایت کرتا ہے، لہٰذا مضبوط دفاع اور مذاکرات دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفر سبحانی نے صدر جمہوریہ کے دفتر کے سربراہ ڈاکٹر محسن حاجی میرزائی سے ملاقات میں قومی اتحاد و یکجہتی کو موجودہ حالات میں کامیابی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نہ صرف دشمن کے مقابلے میں قوت و طاقت حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ مناسب حالات میں مذاکرات کی بھی حمایت کرتا ہے، لہٰذا مضبوط دفاع اور مذاکرات دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفر سبحانی نے قرآن کریم کی آیت «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا» کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی قوم بحرانوں سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اتحاد و انسجام کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کنویں میں گرے ہوئے شخص کو نکالنے کے لیے رسی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح مشکلات سے نجات کے لیے وحدت و یکجہتی ناگزیر ہے۔

انہوں نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملک کی ذمہ داری سنبھالی ہے، اس لیے انہیں پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہنا چاہیے، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے اور کسی قسم کی مایوسی یا شکست کے احساس کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دینا چاہیے۔

مرجع تقلید نے مذاکرات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے امام خمینیؒ کا ایک واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ہر معاملے میں معیار اسلام کی تعلیمات ہونی چاہئیں۔ ان کے بقول بعض افراد مذاکرات کو پسند نہیں کرتے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے۔

آیت اللہ سبحانی نے کہا کہ اسلام ایک طرف دشمن کے مقابلے میں طاقت و آمادگی کا حکم دیتا ہے اور دوسری طرف صلح و مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات بذاتِ خود کوئی منفی چیز نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس کے نتائج کی ہے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے ملک کی خودمختاری، قومی مفادات اور عوامی مطالبات کا تحفظ ممکن ہو تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، بصورت دیگر مناسب فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سب کو مذاکراتی عمل کی حمایت کرنی چاہیے، تاہم حتمی رائے اس کے نتائج کو سامنے رکھ کر قائم کی جائے۔ ان کے مطابق بہترین راستہ یہ ہے کہ ملک ایک طرف مضبوط دفاعی صلاحیت کا حامل ہو اور دوسری طرف مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے، کیونکہ بہت کچھ فریقِ مقابل کے رویّے پر منحصر ہوتا ہے۔

آیت اللہ سبحانی نے اپنے خطاب کے اختتام پر تجویز پیش کی کہ گزشتہ چار دہائیوں میں مختلف ذمہ داریاں نبھانے والے تجربہ کار افراد کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کیا جائے، کیونکہ ان کے تجربات اور آرا ملک و قوم کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

ملاقات کے آغاز میں صدر جمہوریہ کے دفتر کے سربراہ ڈاکٹر محسن حاجی میرزائی نے حکومت کی اہم پالیسیوں، منصوبوں اور حالیہ جنگی حالات کے دوران انجام دیے گئے اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha