حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن حجت الاسلام و المسلمین سید محمود نبویان نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ دشمن دوبارہ ایران کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب رواں سال جون میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو 12 دن بعد وہ جنگ بندی پر مجبور ہوگئے، لیکن چھ ماہ بعد دوبارہ حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ اگر دوبارہ جنگ بندی کی جائے تو کیا اس بات کی ضمانت ہے کہ دشمن آئندہ حملہ نہیں کرے گا؟ اسی لیے ایران اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک طویل مدت کے لیے ملکی سلامتی یقینی نہ ہو جائے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب امریکہ کو خطے سے نکالا جائے۔
نبویان نے دعویٰ کیا کہ اب تک بڑی تعداد میں امریکی اور برطانوی شہری اور فوجی اہلکار خطے سے نکل چکے ہیں، جو ایران کی پالیسی کی کامیابی کا حصہ ہے۔
انہوں نے تنگۂ ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ایران کی اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے، اور جنگ کے بعد ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے مطابق یہاں نئے قواعد نافذ کرے گا۔ ان کے مطابق جو ممالک امریکہ یا اسرائیل کو اپنے ہاں اڈے دیں گے، انہیں تنگۂ ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ جہازوں کے ساتھ ساتھ وہ ممالک بھی اس گزرگاہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے جو ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہیں یا اس کے اثاثے منجمد کیے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی ملک ایران کے اثاثے روکے ہوئے ہے تو اسے پہلے وہ رقم واپس کرنا ہوگی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران کی طاقت تین چیزوں پر مشتمل ہے: عوام کی حمایت، دفاعی صلاحیت (خصوصاً میزائل طاقت) اور تنگۂ ہرمز پر کنٹرول۔ تاہم سب سے اہم عنصر خدا کی مدد، دعا اور اہل بیتؑ سے توسل ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔









آپ کا تبصرہ