تحریر: ملک توفیق حسین وکھرون پلوامہ
حوزہ نیوز ایجنسی I آج دنیا جس دور سے گزر رہی ہے، وہ محض سیاسی کشمکش نہیں بلکہ حق و باطل کی کھلی جنگ ہے۔ ایک طرف مظلوموں کی آہیں ہیں، تو دوسری طرف ظالموں کی طاقت اور ان کے حامیوں کی خاموشی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ عالمِ اسلام، جو کبھی عدل و انصاف کا علمبردار تھا، آج انتشار، مفاد پرستی اور بے حسی کا شکار نظر آتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں مسلمانوں کو ایک جسم بن کر مظلوموں کے حق میں کھڑا ہونا چاہیے تھا، وہاں وہ باہمی اختلافات، مفادات اور اقتدار کی سیاست میں الجھ کر اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں۔ کئی مسلم ممالک آج کھل کر یا دبے الفاظ میں عالمی استکباری قوتوں بالخصوص امریکہ اور صہیونیت کے مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں صہیونیت، جو محض ایک سیاسی نظریہ نہیں بلکہ ایک جارحانہ اور توسیع پسندانہ منصوبہ ہے، نے فلسطین بالخصوص غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ معصوم بچوں، عورتوں اور نہتے انسانوں کا خون بہایا گیا، مگر عالمی ضمیر خاموش رہا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ظلم کے مقابلے میں کئی مسلم حکمران صرف بیانات تک محدود رہے، جبکہ بعض نے تو اپنے مفادات کی خاطر خاموشی اختیار کر کے اس ظلم کو تقویت دی خصوصاً عرب دنیا کے حکمرانوں کا طرزِ عمل نہایت افسوسناک ہے ایک طرف حرمین شریفین کی نسبت اور دینی قیادت کا دعویٰ، اور دوسری طرف شاہانہ محلات، عیاشیوں کی محفلیں اور مغربی طرزِ زندگی کا یہ تضاد امت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جب امت کا ایک حصہ خون میں نہا رہا ہو، تو دوسرے حصے کا عیش و عشرت میں ڈوبا ہونا ایک ناقابلِ تردید حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
ایسے تاریک دور میں کچھ قیادتیں اُمید کی کرن بن کر ابھرتی ہیں۔ شہید ملت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای اور ان کے شہید باوفا رفقاء رضوان اللہ تعالیٰ علیھم نے جس استقامت، جرأت اور نظریاتی پختگی کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا انہوں نے نہ صرف اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا بلکہ اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ قیادت کا اصل معیار سادگی، قربانی اور اصول پسندی ہے یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جب دنیا کے اکثر حکمران اپنی آسائشوں اور مفادات کے اسیر ہو چکے ہیں، وہاں ایرانی قیادت نے اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی اسی جدوجہد کا حصہ بنایا یہ طرزِ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کی جدوجہد ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک نظریے اور امت کی عزت کے لیے ہے۔
امت کی فلاح و بہبود کیلئے آج جو ایران میں قتل و شہادت کا منظر پیش آ رہا ہے، اسے محض نابودی یا شکست کے زاویے سے دیکھنا ایک بڑی فکری غلطی ہوگی قرآنِ مجید کی روشنی میں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں حقیقی معنوں میں “مرد” کہا گیا ہے: “من المؤمنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ”—یعنی اہلِ ایمان میں وہ مرد شامل ہیں جنہوں نے اپنے عہد کو سچ کر دکھایا اور کچھ دکھانے کے انتظار میں ہے! تاریخ گواہ ہے کہ ہر کوئی اس مقام پر فائز نہیں ہو سکتا، بلکہ وہی سچے اور باہمت افراد ہوتے ہیں جو اپنے خون سے وفا کی داستان رقم کرتے ہیں، اور یہی کردار آج ایرانی قیادت نے اپنے عمل سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ علامہ نے ایسی عظیم قربانیوں کی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ: “قتلِ ہزار انجمن سے ہوتی ہے سحر پیدا”—یعنی ایک نئی صبح کے طلوع کے لیے بے شمار ستاروں کا ڈوبنا لازم ہوتا ہے۔ جس طرح سورج کے نکلنے سے پہلے رات کے چمکتے ستارے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، اسی طرح ایک عظیم انقلاب کی صبح دیکھنے کے لیے بھی درخشاں ہستیاں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتی ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں عزت، خودداری اور آزادی کی روشنی میں سانس لے سکیں تاھم تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض معاشروں میں مغربی پروپیگنڈے نے اس قدر اثر ڈالا ہے کہ لوگ اپنی ہی نظریاتی اساس سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں ایران کے اندر بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو بیرونی بیانیے سے متاثر ہو کر حقائق کو مسخ شدہ انداز میں دیکھتا ہے۔ لیکن وقت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ سچائی دیرپا ہوتی ہے، جبکہ پروپیگنڈہ عارضی ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض تماشائی بن کر نہ بیٹھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خاموشی اکثر ظالم کے ہاتھ مضبوط کرتی ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا: "کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزازِ سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے"
اس کٹھن دور میں سب سے بڑی ضرورت بیداری، اتحاد اور بصیرت کی ہے۔ ہمیں مسلکی، لسانی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر دشمن کو پہچاننا ہوگا اور حق کا ساتھ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ہمیں عزت دے سکتا ہے بلکہ مظلوموں کے لیے امید کی کرن بھی بن سکتا ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ رب العزت اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی خاص نصرت، حفاظت اور استقامت سے نوازے وہاں کے باایمان عوام، مجاہدین اور قیادت کو صبر، حکمت اور کامیابی عطا فرمائے اور ان کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے رب العزت شہید ملت امام خامنہ ای اور ان کے رفقاءِ شہداء کی عظیم قربانی کو امتِ مسلمہ کی بیداری، غیرت اور اتحاد کا ذریعہ بنا دے۔ ان کی شہادت کو ملت کی حیاتِ نو، عزت و خودداری اور حق کی سربلندی کا پیش خیمہ قرار دے، تاکہ آنے والی نسلیں ان کے نقشِ قدم پر چل کر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہو سکیں۔
خدا وند عالم حق کو مٹانے والی قوتوں اور مظلوموں کو کچلنے کی سازشوں میں مصروف ہونے والوں کو ذلت و رسوائی کا نشان بنا دے۔ امریکہ اسرائیل اور ان کے حامیوں کو خاک میں ملا دے اور ان کے ظلم کو انہی کے لیے عذاب بنا دے۔۔۔۔آمین یا رب العالمین ۔









آپ کا تبصرہ