اتوار 22 مارچ 2026 - 11:14
دوہرا معیار؛ مردہ ضمیر

حوزہ/ آج ضرورت نعروں کی نہیں، اصولوں کی بحالی کی ہے۔ضرورت جذباتی جوش کی نہیں، اخلاقی جرات کی ہے۔اور سب سے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر یہ اہلیت پیدا کریں کہ اپنوں کی غلطی پر بھی وہی تنقید کریں جو دوسروں کی غلطی پر کرتے ہیں۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی I یہ محض اختلافِ رائے کا مسئلہ نہیں، یہ اصول اور مفاد کے ٹکراؤ کا المیہ ہے۔ جب ایک ہی واقعہ پر دو مختلف پیمانے اختیار کئے جائیں "ظالم کے لئے خاموشی اور مظلوم کے لئے مذمت" تو اسے سفارت کاری نہیں کہا جا سکتا، یہ کھلا دوہرا معیار ہے، اور اگر یہی روش علمی و دینی مراکز سے صادر ہو تو یہ محض لغزش نہیں رہتی، بلکہ ایک فکری دیوالیہ پن کی علامت بن جاتی ہے۔

مسلم ممالک کی موجودہ کیفیت ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ ریاستی مفادات کو “حکمت” کا نام دے کر اصولوں کو قربان کر دیا گیا ہے۔ وہی حکومتیں جو اپنی سرزمینوں پر غیر ملکی عسکری موجودگی کو “سلامتی” کے نام پر قبول کرتی ہیں، جب اسی موجودگی کے نتائج کسی دوسرے مسلم ملک پر آگ و بارود کی صورت میں برستے ہیں، تو زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ اور اگر کہیں سے ردِّ عمل آتا ہے، تو اسے ہی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔

یہ رویہ صرف سیاسی کمزوری نہیں—یہ اخلاقی انحطاط ہے۔

کیونکہ اصول سادہ ہیں کہ جارحیت جہاں سے ہو، مذمت وہیں ہونی چاہیے۔ معصوم جانوں کا نقصان ہو، تو آواز سب سے پہلے اور سب سے بلند ہونی چاہیے۔ اور اگر کوئی قوم اپنے دفاع میں کارروائی کرے، تو اس کے سیاق و سباق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مگر افسوس کہ اصولوں کو چھوڑ کر بیانیوں کا ساتھ دیا گیا اور بیانیہ عموماً طاقتور کے ہوتے ہیں۔

علمی مراکز—خصوصاً وہ ادارے جنہیں صدیوں سے امت کی فکری رہنمائی کا مقام حاصل رہا ہے—ان سے توقع یہ تھی کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر حق کا معیار قائم کریں گے۔ لیکن جب انہی حلقوں سے ایسے بیانات آئیں جو اصل جارحیت کو نظرانداز کریں اور ردِّ عمل کو ہی ہدفِ تنقید بنائیں، تو یہ صرف ایک پالیسی نہیں رہتی، بلکہ اعتماد کے بحران کو جنم دیتی ہے۔

یہاں سوال سخت مگر ناگزیر ہیں کہ کیا ہم نے “عدل” کو حالات کے مطابق ڈھالنے والی شے بنا دیا ہے؟ کیا “حق” اب طاقت کے توازن سے طے ہوگا؟ کیا علمی قیادت اپنی خودمختاری برقرار رکھ پائی ہے، یا وہ بھی ریاستی و عالمی دباؤ کی اسیر ہو چکی ہے؟

دوہرے معیار کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ سچ کو مبہم کر دیتا ہے۔ عوام الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں: اگر ہر فریق اپنی سہولت کے مطابق اصول بدل دے، تو پھر درست کیا ہے؟ غلط کیا ہے؟ اسی ابہام میں وہ خلا پیدا ہوتا ہے جسے انتہاپسندی، مایوسی اور بے اعتمادی پُر کرتی ہے۔

مسلم دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ یکساں اخلاقی معیار ہے—ایسا معیار جو دوست و دشمن، قریبی و دور والے، سب پر یکساں لاگو ہو۔ اگر ہم واقعی انصاف کے داعی ہیں، تو ہمیں یہ جرات پیدا کرنی ہوگی کہ جہاں ظلم ہو، اسے نام لے کر ظلم کہیں؛ جہاں جارحیت ہو، اسے واضح طور پر مسترد کریں؛ اور جہاں دفاع ہو، اسے اس کے تناظر میں سمجھیں—چاہے وہ ہمیں سیاسی طور پر کتنا ہی مشکل کیوں نہ لگے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستیں مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں، مگر علمی و دینی قیادت کا منصب مفادات سے بلند ہونا چاہیے۔ اگر یہ امتیاز بھی مٹ جائے، تو پھر معاشرے کے پاس کوئی ایسا پیمانہ باقی نہیں رہتا جس سے وہ حق و باطل کو پرکھ سکے۔

آج ضرورت نعروں کی نہیں، اصولوں کی بحالی کی ہے۔ضرورت جذباتی جوش کی نہیں، اخلاقی جرات کی ہے۔اور سب سے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر یہ اہلیت پیدا کریں کہ اپنوں کی غلطی پر بھی وہی تنقید کریں جو دوسروں کی غلطی پر کرتے ہیں۔

ورنہ تاریخ کا فیصلہ بڑا بے رحم ہوتا ہے—وہ نہ عہدوں کو دیکھتی ہے نہ بیانیوں کو، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ کون حق کے ساتھ کھڑا تھا اور کون مصلحت کے ساتھ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha