اتوار 22 مارچ 2026 - 11:16
آہ لاریجانی ! 

حوزہ/ ڈاکٹر علی لاریجانی کی موت کا دکھ ہر اس انسان کو ہوا جس کا دین، سیاست، اور فلسفہ سے شغف رہا ہے۔ ایک فلسفی مارا گیا۔ ایک ڈپلومیٹ کی شہادت ہوئی۔’موت کا ایک دن معین  ہےـ‘ ، مرنا تو سب کو ہے مگر زندہ وہی رہتا ہے جس کی موت اسے معزز بنا دے۔

تحریر: عظمت علی

حوزہ نیوز ایجنسی I ڈاکٹر علی لاریجانی کی موت کا دکھ ہر اس انسان کو ہوا جس کا دین، سیاست، اور فلسفہ سے شغف رہا ہے۔ ایک فلسفی مارا گیا۔ ایک ڈپلومیٹ کی شہادت ہوئی۔’موت کا ایک دن معین ہےـ‘ ، مرنا تو سب کو ہے مگر زندہ وہی رہتا ہے جس کی موت اسے معزز بنا دے۔مذہب، فلسفہ اور سیاست میں فرد وحید مسلمانوں سے مایوس کر اللہ کی رحمت میں پناں گزین ہوگیا۔ اسے دکھ تھا ، در د تھا، تکلیف تھی۔ موت سے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ مسلمان ہماری حق کی لڑائی میں ہمارے ساتھ نہیں ہیں ۔ہم تنہا ہیں مگر عزم حسینی ساتھ ہے: زندہ رہیں گے تو عزت کے ساتھ ۔

وہ کوئی خطیب نہیں تھا ، فلسفی تھا ۔ اس کے الفاظ تہہ دار تھے ، معانی کے سمندر سموئے ہوئے۔ اس نے اپنی مشرقی حیات میں مغربی فلسفہ کو جگہ دی اور دونوں کے امتزاج سے دین و سیاست کو سمجھا ۔ چار دہائی پر محیط اس کے علمی، سیاسی اور سفارتی خدمات ہمارے لیے درس عبرت بھی ہیں اور تاریخ کا روشن مینارہ بھی۔ وہ کوئی گرج دار آواز والاںمقرر نہیں تھا ، نرم لہجہ میں دل کو جھنجوڑ دینے والا مصنف تھا۔ مغربی دنیا کے بے تاج بادشاہ کانٹ پر کتابیں لکھتا تھا۔ اس نے مغربی فلسفہ پڑھا ، دینی پرورش پائی اور ایک متوازن حیات کو لے کر آگے بڑھا اور آخر میں شہادت کے جام نوش فرماکر دنیا کو سوگوار کر گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha