حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید ڈاکٹر علی لاریجانی، ان کے فرزند ارجمند شہید مرتضیٰ لاریجانی اور ان کے ہمراہ دیگر شہداء کے چہلم کی تقریب، استاد شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری (رضوان اللہ علیہم) کے یومِ شہادت کے موقع پر قم شہر میں حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (س) میں علماء، جامعہ مدرسین اور خبرگان رہبری کے اراکین، اسلامی مشاورتی اسمبلی (مجلس شورائے اسلامی) کے نمائندگان، حوزوی ذمہ داروں، مراجع عظام تقلید کے دفاتر کے نمائندگان، صوبائی حکام اور مختلف طبقوں کے عوام کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
بین الاقوامی قاری احمد ابوالقاسمی کی جانب سے تلاوت قرآن کریم، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای حفظہ اللہ تعالیٰ کے ڈاکٹر علی لاریجانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر جاری کردہ پیغام کی قرائت، محمد حسین پویانفر اور حنیف طاہری کی مرثیہ خوانی اور محمد رسولی (مذہبی شاعر) کی شاعری اس تقریب کے دیگر پروگرام تھے۔

جامعہ مدرسین، حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل اور مرکز مدیریت کی جانب سے منعقدہ شہداء کے چہلم کی اس تقریب میں حجت الاسلام والمسلمین حامد کاشانی نے شہید علی لاریجانی کی شخصیت، علمی اور روحانی جہات کو واضح کیا اور اس تقریب کے استاد شہید مرتضیٰ مطہری (رح) کے یومِ شہادت سے ہم آہنگ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ہم آہنگی کو گہرے ثقافتی اور فکری پیغامات کا حامل قرار دیا۔
انہوں نے شہید لاریجانی کی ایک اہم خصوصیت حوزہ علمیہ سے ان کا حقیقی عقیدہ بتایا اور کہا: کچھ ذمہ دار محض اپنے مرتبے کو برقرار رکھنے کے لیے علماء سے رابطے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کا حوزہ علمیہ کے کردار پر گہرا یقین تھا اور علماء کے ساتھ ان کا تعلق برسوں کے اشتراک عمل اور مشترک فہم کا نتیجہ تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین کاشانی نے شہید لاریجانی کی اہل بیت (ع) کی سیرت میں عقلانیت سے دلچسپی کا بھی ذکر کیا اور کہا: وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ دینی اور سیاسی مسائل کے تجزیے میں جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ تمام ائمہ معصومین (ع) نے اپنے خاص حالات میں بہترین فیصلہ کیا ہے اور سطحی نگاہ سے کسی ایک نمونے کو دوسرے پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں شہداء کے بلند مرتبے اور ان کے خاندانوں کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بے شک اپنے عزیزوں کا کھونا سب کے لیے مشکل ہے لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ جو کچھ اس کی راہ میں دیا جائے گا اس کا بہترین بدلہ دیا جائے گا، یقینی ہے۔ شہداء کے خانوادے اللہ کی خاص عنایت کے مستحق ہیں اور بلاشبہ امام زمانہ (عج) کی خصوصی توجہ کا مرکز بنیں گے۔









آپ کا تبصرہ