تحریر: مولانا معراج حیدر خان اعظمی، مقیم جون پور
حوزہ نیوز ایجنسی I زمانہ بدل چکا ہے۔ فاصلے سمٹ چکے ہیں، علم عام ہو چکا ہے، اور حق تک رسائی اب چند مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہی۔ ایسے ترقی یافتہ دور میں اُمّتِ تشیع کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون کس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ایک اُمّت بن کر اپنے اصل مقصد—رضائے الٰہی اور پیغامِ اہل بیتؑ—کو دنیا تک پہنچا پا رہے ہیں؟
ہماری تاریخ میں مختلف فکری و عملی رجحانات رہے ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں دین کی خدمت کی۔ اصولی حضرات نے عقل، اجتہاد اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق احکام کے استنباط کو فروغ دیا، تاکہ دین ہر دور میں زندہ اور قابلِ عمل رہے۔ اس کے برعکس اخباری مکتب نے روایاتِ اہل بیتؑ کی حفاظت اور ان پر کامل اعتماد کو اپنا شعار بنایا، تاکہ دین اپنی اصل شکل میں محفوظ رہے۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: دین کی بقا اور حقیقت کی حفاظت—صرف راستے مختلف ہیں۔
البتہ اصولی و اخباری کے جزئیاتی اختلافات کو اس حد تک بڑھانا کہ وہ اتحاد کو متاثر کریں، ہرگز دانشمندی نہیں؛ کیونکہ قرآن ہمیں واضح ہدایت دیتا ہے:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"
(سورہ آلِ عمران 3:103)
اسی طرح مولائی حضرات محبتِ اہل بیتؑ کو محور بنا کر دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ تبرائی فکر باطل سے بیزاری اور حق کی صراحت کو ضروری سمجھتی ہے۔ اگر یہ دونوں پہلو اعتدال کے ساتھ جمع ہو جائیں تو وہی کامل تشیع بنتی ہے جس میں محبت بھی ہو اور معرفت بھی، قربت بھی ہو اور بصیرت بھی۔ قرآن میں اہلِ ایمان کی یہ صفت بیان ہوئی:
"أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" (سورہ الفتح 48:29)
میدانِ عمل میں تبلیغی افراد دین کے پیغام کو عام کرنے میں سرگرم رہتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ"
(سورہ النحل 16:125)
جبکہ اصلاحی فکر رکھنے والے معاشرے کے اندرونی امراض—اخلاقی کمزوریوں، بدعات اور انحرافات—کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: "إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ" (سورہ ہود 11:88)
ایک بیرونی محاذ پر کام کرتا ہے، دوسرا اندرونی محاذ پر؛ اور دونوں کی ضرورت کسی بھی زندہ اُمّت کے لئے ناگزیر ہے۔
اسی طرح مقصر اور غالی جیسے عنوانات بھی تاریخ میں پیدا ہوئے۔ مقصر وہ سمجھے گئے جنہوں نے اہل بیتؑ کے مقام کو مکمل طور پر نہ پہچانا، جبکہ غالی وہ کہلائے جنہوں نے حد سے تجاوز کر کے ایسے عقائد اختیار کئے جو تعلیماتِ اہل بیتؑ کے خلاف تھے۔ ائمہؑ نے دونوں انتہاؤں سے بچنے کی تلقین فرمائی اور اعتدال کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔
امام جعفر صادقؑ کا ارشاد ہے: "إيّاكم والغلوّ فينا، قولوا إنّا عبيدٌ مربوبون" (الکافی، ج1، ص269)
اور دوسری طرف: "هلك فينا رجلان: محبٌ غالٍ ومبغضٌ قالٍ" (نہج البلاغہ، حکمت 117 کے مضمون کے قریب مفہوم)
یہ روایات ہمیں بتاتی ہیں کہ اصل راستہ اعتدال، شعور اور وحدت کا ہے، نہ کہ انتہاؤں کا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تمام فکری و عملی پہچانوں کو تصادم کا سبب بنانے کے بجائے تکامل کا ذریعہ بنائیں۔ اصولی کی اجتہادی بصیرت، اخباری کی روایت سے وابستگی، مولائی کی محبت، تبرائی کی غیرت، تبلیغی کی محنت اور اصلاحی کی درد مندی—اگر یہ سب ایک مرکز پر جمع ہو جائیں، تو ایک ایسی طاقت وجود میں آتی ہے جو اُمّت کو عروج تک لے جا سکتی ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ"
(سورہ الحجرات 49:10)
اور امیرالمؤمنینؑ کا فرمان ہے: "كونوا كالجسد الواحد"
(غرر الحکم، حدیث 1020 کے مفہوم کے مطابق)
جب ایک جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ اگر اُمّتِ تشیع اس حقیقت کو سمجھ لے، تو کوئی اختلاف اسے تقسیم نہیں کر سکتا۔
آج ہر فرد کے پاس علم تک رسائی ہے، ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ نہ کوئی لقب نجات کی ضمانت ہے اور نہ کوئی گروہ بندی کامیابی کی دلیل۔ اصل معیار تقویٰ، اخلاص اور عمل ہے۔ جیسا کہ امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا: "لا ينفعُ مع الاسمِ عملٌ سيّئ، ولا يضرُّ مع العملِ الحسنِ اسمٌ" (غرر الحکم، حدیث 10499)
لہٰذا وقت کی پکار یہی ہے کہ ہم اختلافات کو پہچانیں، مگر انہیں نفرت میں تبدیل نہ کریں۔ ہم اپنے اپنے دائرے میں کام کریں، مگر ایک دوسرے کی نفی نہ کریں۔ ہم اپنی شناخت برقرار رکھیں، مگر اُمّت کی وحدت کو اس پر قربان نہ کریں۔
آؤ! ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں اصولی و اخباری، مولائی و تبرائی، تبلیغی و اصلاحی—سب ایک ہی قافلے کے مسافر ہوں؛ قافلۂ حق، جس کی منزل رضائے الٰہی اور جس کی قیادت اہل بیتؑ کی تعلیمات کے ہاتھ میں ہو۔ یہی اتحاد ہماری قوت ہے، یہی ہماری بقا، اور یہی ہمارے مستقبل کی ضمانت۔
والسلام









آپ کا تبصرہ