حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امتِ مسلمہ کی عظیم شخصیات کی جدوجہد اور قربانیاں ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتی ہیں۔ انہی عظیم ہستیوں میں رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام، انقلابِ اسلامی اور مظلوم اقوام کے دفاع کے لیے وقف کر دی۔ ان کی بصیرت افروز قیادت، استقامت، اور ظلم و استکبار کے خلاف جرات مندانہ مؤقف نے عالمِ اسلام بالخصوص نوجوان نسل میں بیداری، مزاحمت اور حریتِ فکر کو فروغ دیا۔
ان کی شہادت کی خبر سے عالمِ اسلام میں گہرے رنج و غم کی فضا قائم ہو گئی اور ہر طرف تعزیت و سوگواری کا ماحول پیدا ہوا۔ اسی سلسلے میں اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی جانب سے شہید رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ان کی فکر و مشن کو اجاگر کرنے کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں 11 مقامات پر تین روزہ تعزیتی کیمپس کا انعقاد کیا گیا۔
ان تعزیتی کیمپس میں مومنین، تنظیمی کارکنان، مختلف مکاتبِ فکر کے افراد اور عوام الناس نے شرکت کی۔ شرکاء نے شہید رہبر کی علمی، فکری اور انقلابی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، تعزیتی پیغامات درج کیے اور ان کے عظیم مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مومنین نے انقلابِ اسلامی ایران اور نظامِ ولایتِ فقیہ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے تجدیدِ عہد کیا کہ وہ شہید رہبر کے افکار و نظریات کو معاشرے میں فروغ دینے اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
یہ تعزیتی کیمپس نہ صرف شہید رہبر کی یاد کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنے بلکہ نوجوان نسل کو ان کی جدوجہد، بصیرت اور استقامت سے روشناس کرانے کا بھی اہم ذریعہ ثابت ہوئے۔









آپ کا تبصرہ