حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفی العالمیہ کے رئیس آیت اللہ عباسی کا شیخ جامعة الازہر مصر کے نام پیغام جاری کیا ہے جو آپ قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب ڈاکٹر احمد محمد احمد الطیب
امام اکبر، شیخ جامعة الازہر
السلام علیکم
میں آپ کی خدمت میں اپنے تعجب اور افسوس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اس بیان کے حوالے سے جو حالیہ دنوں میں جامعة الازہر کی فتویٰ کونسل کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، اور یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اس کے علاقائی پلید ساتھی اور صہیونی قبضہ کار حکومت کی جانب سے جارحانہ کارروائی جاری ہے۔ اس بیانیہ میں، مسلمانوں کے خون کی حرمت کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دیتے ہوئے، جمہوری اسلامی ایران کی طرف سے امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف علاقائی ممالک میں ان کے ٹھکانوں پر کی جانے والی فوجی کارروائی کی مذمت کی گئی ہے اور ان حملات کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں چند نکات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:
1. جنابِ عالی آگاہ ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران، ماہ رمضان المبارک میں اسلامی ایران پر حملہ کیا جس کا مقصد اسلامی ایران کو تہہ و بالا کرنا اور اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا تھا۔ جس کے نتیجے میں انقلاب اسلامی کے امام و عظیم رہبر، سائنسدان، متعدد فوجی کمانڈر اور ایرانی مظلوم عوام کی شہادت واقع ہوئیں۔ کیا آپ کی نظر میں اور جامعہ الازہر کی فتویٰ کونسل کے نزدیک، ایران کی قوم اور اس کی فوجی قوتوں کے پاس ایسی صورتِ حال میں مزاحمت کے علاوہ کوئی چارہ تھا؟ کیوں آپ اور اس معزز کونسل نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ صہیونی یہودیوں کی طرف سے ایک اسلامی ملک کی حدود کی اس کھلی جارحیت کی مذمت کریں؟ کیا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان نہیں ہے کہ: «من سمع مسلماً ینادی یاللمسلمین فلم یجبه فلیس بمسلم». ایرانی مسلمانوں کی اس مجبوری کی حالت میں، یہ خاموشی کیسے قابلِ جواز ہے؟
2. فتویٰ کونسل الازہر کے بیان میں، ایران کے ان حملات کو مذمت کا نشانہ بنایا ہے جو اس نے علاقائی ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر کیے ہیں۔ یہ بڑی عجیب منطق ہے! امریکہ نے علاقائی ممالک میں موجود اپنی سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے ایک اسلامی ملک پر حملہ کیا اور ہماری فوجی قوتوں نے جوابی کارروائی میں انہی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سے امریکی طیاروں کی پروازیں عمل میں آ رہی تھیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ الازہر کی فتویٰ کونسل نے حملہ آور کے حملے کو نظر انداز کرتے ہوئے، ہمارے بین الاقوامی، قانونی دفاعیہ حق اور ظالم قوتوں کو سزاء دینے کے عمل کو مذمت کا نشانہ بنا ڈالا! کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ نہیں فرمایا: «فَمَن اعتَدٰی عَلیکُم فاعتَدوا عَلیه بِمِثلِ مااعتَدٰی عَلیکُم» (البقرہ: 194)۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ کے چاہنے والے، آپ کے اس دوہرے رویے اور قرآنی حکم کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں، ایک سنگین فکری کشمکش کا شکار ہو جائیں گے؟
3. بیانیہ میں ایران کے علاقائی ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر حملوں کی مذمت کی گئی۔ ڈاکٹر الطیب صاحب! آپ کی جامعہ کی فتویٰ کونسل ان پڑوسی ممالک کو کوئی نصیحت کیوں نہیں کرتی کہ انہیں کسی اسلامی ملک کی سرزمین کو کافر حربی امریکہ کے حوالے نہیں کرنا چاہیے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ نہیں فرمایا: «یاایها الذین آمنوا لا تتخذوا الیهود و النصاری أولیاء بعضهم أولیاء بعض و من یتولهم منکم فانه منهم» (المائدہ: 51) ایک دوسری آیت میں ارشاد ہو رہا ہے: «لا یتخذ المومنون الکافرین أولیاء من دون المؤمنین و من یفعل ذلک فلیس من الله فی شئ» (آل عمران: 51) کیا کسی اسلامی ملک کی سر زمین ( زمین و آسمان) کو کافر حربی کے اختیار میں دینا، ان الٰہی اور قرآنی احکام کی واضح خلاف ورزی نہیں ہے؟
4. محترم صدر شیخ الازہر! ذرا عالم اسلام اور امت مسلمہ کے مستقبل پر بھی غور کریں! کیا اسرائیل اور امریکہ صرف ایران ہی کے دشمن ہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اسلامی ایران کا جرم غزۂ کے مظلوموں کا عملی طور پر دفاع کرنا ہے؟ میری برادرانہ تنبیہ کو سنجیدگی سے لیں کہ موجودہ المیے پر خاموشی مستقبل میں امتِ مسلمہ کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
*ڈاکٹر الطیب صاحب!* آئیں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں، قرآن کے سائے تلے جمع ہوں، اور قرآنی عدل کی بنیاد پر، پلید صہیونیت کے خلاف آواز اٹھائیں اور عملی اقدام کریں۔ قیامت کے دن اپنی آج کی گفتگو اور خاموشی کے بارے میں جواب دہی کی ذمہ داری تو اپنی جگہ، آنے والی نسلیں بھی ہماری آج کی باتوں اور اقدامات کا جائزہ لیں گی۔
والسلام علی من اتّبع الهدی
علی عباسی
سربراہ انٹرنیشنل یونیورسٹی المصطفیٰ ص
۲۹ رمضان المبارک ۱۴۴۷ ہجری









آپ کا تبصرہ