اتوار 5 جولائی 2026 - 18:38
جنابِ زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا؛ صبر، استقامت اور تحریک کی علامت

حوزہ/ جب ہم جنابِ زینبِ کبریٰؑ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک سوال آتا ہے کہ جنابِ زینبؑ کو اتنی عظمت کیوں حاصل ہوئی؟

تحریر: حافظہ تطہیر فاطمہ، جامعه المصطفٰی کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|

جب ہم جنابِ زینبِ کبریٰؑ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک سوال آتا ہے کہ جنابِ زینبؑ کو اتنی عظمت کیوں حاصل ہوئی؟

کیا آپؑ کی عظمت اس وجہ سے ہے کہ آپؑ حضرت رہرا اور امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہما السلام) کی دختر ہیں؟ یا اس وجہ سے کہ آپؑ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی بہن ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ آپؑ کی عظمت اس وجہ سے ہے کہ آپؑ نے اپنے زمانے نے امام کا ساتھ دیا، ان کی حمایت کی اور ہر مشکل مرحلے میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔

ایک ایسا وقت، جب بڑے بڑے لوگ حق کا ساتھ دینے کی ہمت نہ کر سکے۔ حضرت ابنِ عباس، حضرت عبداللہ ابنِ جعفر اور ابنِ زبیر جیسے افراد جہاں خاموش ہو گئے تھے، وہاں جنابِ زینبؑ نے حق کا دامن نہیں چھوڑا۔ ایسے حالات میں، جب مدینہ کے بہت سے بزرگ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ امام حسینؑ کے ساتھ کربلا جائیں یا نہیں، آپؑ نے اپنے وقت کے امام کی حمایت کی اور ان کے ساتھ کربلا تشریف لے گئیں۔

جب انسان آپؑ کی شخصیت پر نظر ڈالتا ہے تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ گویا آپؑ ایک خاتون کے وجود میں امیرالمؤمنینؑ کی بیٹی کی صورت میں ایک دوسری حسین ابنِ علیؑ ہیں۔

ہم آپؑ کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو اس میں ہمیں تین نمایاں پہلو نظر آتے ہیں۔

1۔ پہلا پہلو: جنابِ زینبِ کبریٰؑ کی تحریک

جنابِ زینبِ کبریٰؑ کی تحریک ایک ایسی تحریک تھی جس میں آپؑ شدید غم و مصائب سے گزر رہی تھیں۔ آپؑ نے اپنے بھائی کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا، اپنے بھتیجوں اور اپنے بیٹوں کو شہید ہوتے دیکھا، پھر خود اسیر ہوئیں اور زخمیوں و یتیموں سے بھرے ہوئے قافلے کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئیں۔

لیکن ان تمام مصائب کے باوجود آپؑ نے اپنی تحریک کو ترک نہیں کیا۔ آپؑ حق سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ آپؑ پر بے شمار مظالم ڈھائے گئے، مگر آپؑ نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا بلکہ ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں۔

آج بھی جب کوئی بہن یا بیٹی ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہے تو وہ جنابِ زینبؑ کو یاد کرتی ہے، کیونکہ آپؑ نے ہمیں حوصلہ، طاقت اور یہ درس دیا کہ پردے کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک عظیم انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

2۔ دوسرا پہلو: کربلا میں آپؑ کا کردار

آپؑ نے اس ٹوٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے قافلے کو سنبھالا جسے سنبھالنا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ کربلا میں خون نے تلوار پر فتح حاصل کی۔ بظاہر تو یزید کامیاب دکھائی دیتا تھا، لیکن امام حسینؑ کی شہادت نے پورے ماحول کو بدل کر رکھ دیا۔

بعد ازاں جب ہم توابین کی تحریک، مختار ثقفی کی تحریک اور زید بن علیؑ کے قیام کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کربلا میں اصل فتح تلوار کی نہیں بلکہ خون کی ہوئی تھی۔

اور اس خون کی فتح کی سب سے بڑی امین جنابِ زینبِ کبریٰؑ ہیں۔ اگر آپؑ نہ ہوتیں تو کربلا کا یہ خون شاید کربلا ہی کی سرزمین تک محدود رہ جاتا۔ اگر آج دنیا کو معلوم ہے کہ کربلا میں کیا ہوا، تو اس میں جنابِ زینبؑ اور امام سجادؑ کی عظیم جدوجہد کا بنیادی کردار ہے۔

آپؑ نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک خاتون تاریخ کے صرف حاشیے پر نہیں ہوتی بلکہ تاریخ کا رخ موڑنے والی ایک مؤثر شخصیت بھی بن سکتی ہے۔

3۔ تیسرا پہلو: جنابِ زینبؑ کے خطبات

آپؑ کی زندگی کا تیسرا اور نہایت اہم پہلو وہ تاریخی خطبات ہیں جو آپؑ نے انتہائی سخت اور کٹھن حالات میں ارشاد فرمائے۔ کبھی کوفہ میں اور کبھی یزید کے دربارِ شام میں، آپؑ نے حق کا ایسا پرچم بلند کیا جو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گیا۔

آپؑ کے خطبات سے آپؑ کے بلند کردار، غیر معمولی شجاعت اور بے مثال بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپؑ کو ہر طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، آپؑ پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، لیکن اس کے باوجود آپؑ نے یزید کے دربار میں پوری استقامت کے ساتھ فرمایا:
"ما رأيتُ إلا جميلاً"
"میں نے کربلا میں خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔"

اسی طرح آپؑ نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

"فَوَاللّٰهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا"
"خدا کی قسم! تم ہمارے ذکر کو کبھی مٹا نہیں سکتے۔"

گویا آپؑ نے اسی وقت اعلان کر دیا تھا کہ اہلِ بیتؑ کا ذکر کبھی ختم نہیں ہوگا، اور آج تاریخ اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے:
"فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ"
"تم میرا ذکر کرو، میں نے تمہارا ذکر کروں گا۔"

امام حسینؑ کربلا میں اللہ کے دین اور اس کے ذکر کو زندہ رکھنے کے لیے آئے تھے، اور چونکہ یہ اللہ کا وعدہ تھا، اس لیے یہ وعدہ ضرور پورا ہونا تھا۔

جب ہم جنابِ زینبؑ کے خطبات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ نے اپنے منصبِ الٰہی کو مکمل طور پر ادا کیا۔ نہ آپؑ کے لیے منبر تھا، نہ سامعین کی تائید، بلکہ آپؑ دشمنوں کے درمیان کھڑی ہو کر حق کی آواز بلند کر رہی تھیں۔

آپؑ نے کوفیوں کی بے وفائی کو بے نقاب کیا، حق و باطل کے درمیان واضح فرق بیان کیا اور ان لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جو اپنے فرض کو ادا نہ کر سکے۔

جنابِ زینبؑ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایک خاتون بھی تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے، دشمن کی ظاہری فتح کو حقیقی شکست میں تبدیل کر سکتی ہے، اور اپنے ایمان، صبر، استقامت اور بصیرت کے ذریعے ایک پورے نظام کو جھنجھوڑ سکتی ہے۔ عورت کمزور نہیں ہوتی؛ اگر وہ اپنے مقصد پر ثابت قدم رہے تو اس کی ایک تقریر، ایک خطبہ اور ایک موقف بھی تاریخ ساز ثابت ہو سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha