صبرِ حسینی سے انتظارِ مہدی تک کا سفر!

حوزہ/کربلا صرف صبر کی داستان نہیں، بلکہ توفیقِ الٰہی کی سب سے بڑی تجلی ہے۔ عاشوراء کے دن ایک ایک کر کے اصحاب جاتے رہے۔ اہلِ بیتؑ قربان ہوتے رہے۔ جوان بیٹے میدان میں گئے۔ بھائی جدا ہوئے۔ بھتیجے شہید ہوئے۔ چھ ماہ کا بچہ بھی قربان ہو گیا۔

تحریر: سیدہ دعا زہراء رضوی، جامعہ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|

صبر کی اقسام

صبر کی تین قسمیں ہیں:

۱۔صبرٌ عَلٰی الطَّاعَة: یعنی اللّه کی اطاعت پر ثابت قدم رہنا اور صبر کرنا.

خداوندِ عالم سورۀ مریم آیت نمبر ۶۵ میں فرماتا ہے: رَبُّ السَّماوَاتِ وَالاَرضِ۔۔۔۔فَاعبُدُہُ وَاصطَبِر

آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے،پس اسکی عبادت کرو ،اسکی عبادت پر صبر سے جمے رہو.

۲۔صبرٌ عَلٰی المَعصِیَه: یعنی گناہ کے موقع پر اپنے نفس کو روک لینا۔

خداوندِ عالم سورۀ کہف آیت نمبر ۲۸ میں فرماتا ہے:وَاصبِر نَفسَکَ۔۔عَینَاکَ عَنھُم

اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اسکی رضا چاہتے ہیں۔

۳۔صبرٌ عَلٰی المُصِیبَه: یعنی جب آزمائش آۓ تو اللّه سے شکوہ نہ کرنا۔

خداوندِ عالم سورۂ بقرہ آیت نمبر ۱۵۵ میں ارشاد فرماتا ہے:وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ

ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دو۔

اس آیت میں اللہ نے پہلے امتحان کا ذکر کیا اور پھر صبر کی بشارت دی۔ گویا دنیا امتحان کی جگہ ہے اور کامیابی صبر سے ملتی ہے۔

حضرت ایوبؑ کی زندگی دیکھ لیجیے؛ مال گیا، اولاد گئی، صحت گئی، لیکن اللہ سے تعلق نہ ٹوٹا۔ امیرالمؤمنینؑ کی زندگی دیکھ لیجیے؛ حق چھن گیا لیکن اسلام کی حفاظت کے لیے صبر فرمایا۔ سیدہ زہراؑ کی زندگی دیکھ لیجیے؛ مصائب آئے لیکن رضائے خدا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

اور ان تمام صبروں کی معراج کربلا میں نظر آتی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا انسان اپنی طاقت سے اتنا صبر کر سکتا ہے؟

قرآن جواب دیتا ہے:وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللّٰهِ

صبر کرو، اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔

یعنی صبر کی اصل قوت انسان کے اندر نہیں، خدا کی عطا کردہ توفیق میں ہے۔

اسی لیے کربلا صرف صبر کی داستان نہیں، بلکہ توفیقِ الٰہی کی سب سے بڑی تجلی ہے۔ عاشورا کے دن ایک ایک کر کے اصحاب جاتے رہے۔ اہلِ بیتؑ قربان ہوتے رہے۔ جوان بیٹے میدان میں گئے۔ بھائی جدا ہوئے۔ بھتیجے شہید ہوئے۔ چھ ماہ کا بچہ بھی قربان ہو گیا۔

لیکن امام حسینؑ کے کلمات پر غور کیجیے۔

ہر مصیبت پر خدا کا شکر اور ذکر کرتے ہوۓ نظر آۓ۔۔

کیوں؟

کیونکہ جس دل کو توفیقِ الٰہی نصیب ہو جائے وہ مصیبت کو بھی رضائے خدا کے راستے میں دیکھتا ہے۔

حضرت علی اکبرؑ میدان میں گئے۔ امامؑ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر عرض کیا:

"پروردگار! گواہ رہنا، میں نے اپنی سب سے عزیز امانت تیرے راستے میں پیش کر دی۔"

حضرت عباسؑ شہید ہوئے تو دل ٹوٹ گیا، لیکن خدا سے رابطہ نہ ٹوٹا۔

حضرت علی اصغرؑ کی شہادت پر بھی امامؑ نے آسمان کی طرف رخ کیا اور فرمایا:

"یہ مصیبت میرے لیے اس لیے آسان ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔"

یہی توفیقِ الٰہی ہے۔

مصیبت سب پر آتی ہے، لیکن ہر شخص حسینؑ نہیں بنتا۔

غم سب کو ملتے ہیں، لیکن ہر شخص انہیں عبادت میں تبدیل نہیں کر سکتا۔

کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب خدا کی توفیق شاملِ حال ہو تو انسان آزمائشوں میں بھی شکست نہیں کھاتا۔

اسی لیے عاشوراء کی شام جب ہر ظاہری سہارا ختم ہو چکا تھا تب بھی امام حسینؑ کی زبان پر شکوہ نہیں تھا بلکہ رضا تھی۔

یہی صبرِ حسینیؑ ہے۔

اگر کربلا اُس زمانے کا امتحان تھی تو آج ہمارے زمانے کا امتحان عصرِ غیبت ہے۔

آج ہم اپنے امامؑ کی جدائی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آج دین پر قائم رہنا، حلال و حرام کی حفاظت کرنا، ایمان کو فتنوں سے بچانا، حق کا ساتھ دینا اور باطل کے سامنے نہ جھکنا، یہی عصرِ غیبت کا صبر ہے۔

لیکن یہ صبر بھی توفیقِ الٰہی کے بغیر ممکن نہیں۔

اسی لیے حقیقی منتظر ہر روز اللہ سے صرف ظہور کی دعا نہیں مانگتا بلکہ توفیق کی دعا مانگتا ہے۔

"پروردگار! مجھے ایسا بنا دے کہ جب میرے امامؑ آئیں تو میں ان کی نصرت کے قابل ہوں۔"

منتظر وہ نہیں جو صرف ظہور کا انتظار کرے۔

منتظر وہ ہے جو اپنے کردار کو امامؑ کے مطابق بنائے۔

اپنے گھر کو دین کا گھر بنائے۔

اپنی اولاد کو اہلِ بیتؑ کی محبت پر تربیت دے۔

حق کا ساتھ دے۔

ظلم سے نفرت کرے۔

اور ہر حال میں خدا کی اطاعت پر قائم رہے۔

کربلا کا پیغام صرف رونا نہیں ہے۔

کربلا کا پیغام یہ ہے کہ اگر حسینؑ نے شدید ترین مصیبتوں میں خدا کا دامن نہیں چھوڑا تو ہم بھی اپنے حالات میں خدا سے تعلق مضبوط کریں۔

آج ہمارے زمانے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ امامؑ کب آئیں گے، سوال یہ ہے کہ جب آئیں گے تو کیا ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے قابل ہوں گے؟

غیبت امتحانِ وفاداری ہے۔ آسان وقت میں دعویٰ آسان ہے، پر غیبت کے اندھیرے میں دین پر قائم رہنا، فتنوں سے بچنا - یہی حقیقی انتظار ہے۔

امامؑ کو آنسو نہیں، کردار چاہیے: اپنے نفس پر حکومت، ایمان کی ثابت قدمی اور قربانی چاہیۓ

اسی لیے انتظار "صبرِ حسینی کا تسلسل" ہے۔ کربلا میں امامؑ نے دین بچایا، آج ہم پر ذمہ ہے کہ امامؑ کے آنے تک اس دین کی حفاظت کریں۔

آج عصرِ غیبت میں استقامت کی مثال رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی ذات ہے۔ انہوں نے فرمایا: "مؤمن نہ ظلم کرتا ہے نہ ہی ظلم سہتا ہے"۔

اور آج فلسطین کی مائیں ہمیں صبر کا درس دے رہی ہیں۔

انکےگھر شہید ہوگئے، انکے بچے شہیدہوگئے، روٹی نہیں ہے، پانی نہیں ہے پر زبان پر صرف ایک ہی جملہ ہے "حسبنا اللہ و نعم الوکیل"۔

بم گرتے ہیں، وہ سجدے بڑھا دیتے ہیں۔ ظلم بڑھتا ہے، یہ استقامت بڑھا دیتے ہیں۔ یہی صبرِ حسینی ہے۔

تو آج ہم ان کے لیے کیا کریں؟

ہم تلوار نہیں اٹھا سکتے، پر قلم اٹھا سکتے ہیں۔ آواز اٹھا سکتے ہیں۔ بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔ دعا کر سکتے ہیں۔

ہر محفل میں، ہر پوسٹ میں، ہر مجلس میں ظالم اسرائیل کو لالکار سکتے ہیں کہ "فلسطین تنہا نہیں"۔ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔۔

یہی آج کا جہاد ہے۔ یہی عصرِ غیبت کی نصرت ہے۔

اللھم عجل لولیك الفرج۔ یا رب الحسینؑ بحق الحسینؑ اشف صدر الحسینؑ بظہور الحجة

  • زینبی قیادت

    زینبی قیادت

    حوزہ/عاشوراء کے بعد کا مرحلہ درحقیقت "زینبی قیادت" کا مرحلہ تھا، جس میں ایک ایسی خاتون نے، جس کے سامنے اپنے بھائی، بیٹوں اور عزیزوں کی شہادت کا منظر تھا،…

  • حضرت فاطمۃ الزہراء (س) کی فضیلت اہلِ سنت کی روایات میں

    حضرت فاطمۃ الزہراء (س) کی فضیلت اہلِ سنت کی روایات میں

    حوزہ/حضرت فاطمہ الزہرا (س) کو اسلام کی سب سے ممتاز اور محترم خواتین میں شمار کیا جاتا ہے۔ اہل سنت کے محدثین و علماء نے اپنی مستند کتب میں ان کی فضیلت،…

  • مقصد کربلا، آمادگی برائے سپاہ امام (ع)

    مقصد کربلا، آمادگی برائے سپاہ امام (ع)

    حوزہ/جیسے ہی محرم الحرام کی آمد ہوتی ہے، ہر طرف سوگ عزاء کا فرش بچھتا ہے۔ برسوں سے ہم غمِ حسین سے آشنا ہیں، کالے لباس پہنتے ہیں اور ہر آنکھ اشکبار نظر…

  • ہم ابھی کربلا نہیں پہنچے!

    ہم ابھی کربلا نہیں پہنچے!

    حوزہ /کتنی صدیوں سے ہر سال ایک ہی سوال پوچھا جارہا ہے کہ آپ لوگ ماتم کیوں کرتے ہیں؟؟ اور شاید ہمیں جواب دینا نہیں آیا جو یہ سوال آج بھی پوچھا جاتا ہے یا…

  • حضرت قاسمؑ کا تصورِ سعادت اور آج کا ڈیجیٹل جوان!

    حضرت قاسمؑ کا تصورِ سعادت اور آج کا ڈیجیٹل جوان!

    حوزہ/ہر دور کا نوجوان سعادت، خوشی اور کامیابی کی تلاش میں رہتا ہے۔ البتہ ہر زمانے میں خوشی کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ آج کا نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں زندگی گزار…

  • دور حاضر میں عورت کی آزادی کا تصور!

    دور حاضر میں عورت کی آزادی کا تصور!

    حوزہ/تاریخِ بشریت گواہ ہے کہ جب بھی حق و باطل کا معرکہ برپا ہوا، عفت مآب اور شجاع خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ وہ عظیم فداکاریاں انجام دیں جنہوں نے تاریخ…

  • علم و دانش کا بیش بہا سمندر

    علم و دانش کا بیش بہا سمندر

    حوزہ/قدرت نے مجھے علم کا ایسا سمندر عطا کیا جس کی لہریں میرے ساتھ خوب مستیاں کرتیں، کبھی خاموشی کے ساتھ میری تنہائی کا سہارا بنتی، میں نے خدا کا بہت شکر…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha