تحریر: حاجرہ بتول جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
خلاصہ
حضرت فاطمہ الزہرا (س) کو اسلام کی سب سے ممتاز اور محترم خواتین میں شمار کیا جاتا ہے۔ اہل سنت کے محدثین و علماء نے اپنی مستند کتب میں ان کی فضیلت، مقام و قرب نبوت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی روایات کی روشنی میں حضرت فاطمہ الزہرا (س) نہ صرف رسول خدا (ص)کی بیٹی ہیں؛ بلکہ امتِ مسلمہ کی خواتین کے لئے اعلیٰ نمونہ، افضل خاتون، الہام کی سر چشمہ ہیں۔ اس لئے اہل سنت کی معتبر احادیث اور کتب کی بنیاد پر حضرت فاطمہ الزہرا(س) کی ٖفضیلت کو واضح کررہے ہیں، تاکہ امت کو آپ (س) کی فضیلت سے روشناس کروائیں۔ موجودہ دور میں کچھ لوگوں نے بعض اختلافات و غلط فہمی کی وجہ سے یا جو صُمٌ بُکمٌ عُمیٌ کے مصداق ہیں نے حضرت فاطمہ الزہراء (س) کی فضیلت کو کم کرنے اور چھپانے کی کوشش کی ہے۔ اس لیےضروری ہے کہ ہم اپنی اس چھوٹی تحقیق میں اہل سنت کی روایات سے ثابت کریں گے تاکہ حقائق عام ہوں اور امت کی ہدایت ممکن ہوسکے۔ اہل سنت کی معتبر کتابوں سے حضرت فاطمہ الزہرا(س) کی فضیلت کی حدیثیں جمع کی گئی ہیں اور علماء کی تشریحات سے ان کی اہمیت کو سمجھایا گیا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہرا (س)کا مقام بلند و بالا ہے ان کی شخصیت اسلام کی جامع تصویر پیش کرتی ہیں۔ آپ کی سیرت سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، اور آپ کی زندگی کی ہر بات مسلمانوں کے لیے ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت فاطمہ(س) کی شخصیت کو جاننا اور ان کے فضائل پر غور کرنا ہر مسلمان کے ایمان کی تکمیل کا ایک اہم حصہ ہے۔اہل سنت کی روایات واضح کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ (س) کی فضیلت صرف امامیہ سے مختص نہیں ہے امت کو چاہیے کہ ان کی سیرت کو اپنا کر دین میں کامیابی حاصل کریں۔
کلیدی الفاظ
فاطمۃ الزہراء، مقام و عظمت، فضیلت، اہل سنت، روایات
مقدمہ
اللہ تعالیٰ نے جن ہستیوں کو اپنی معرفت کا ذریعہ بنایا اور اپنے پیغامات و احکامات کی تبلیغ کا وسیلہ قرار دیا۔ ان کے سید و سردار ہمارے نبی حبیبِ خدا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی(ص) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہمیں ان کی امت ہونے کا شرف و اعزاز عطا کیا۔ جس طرح وہ خود تمام انبیاء سے افضل ہیں اسی طرح ان کی امت تمام امتوں سے افضل ہے۔ خداوند عالم نے آنحضرت (ص) پر جو کتاب نازل فرمائی وہ ہر آسمانی کتاب سے افضل ہے، لہٰذا جس طرح اللہ کی ذات اور اس کی وحدانیت کا انکار کفر ہے اسی طرح حضور(ص) کی رسالت اور ختم نبوت کا انکار بھی کفر ہے اور قرآن مجید کا انکار بھی کفر ہے، بلکہ اس کی کسی بھی آیت کا انکار کفر ہے، جس طرح قرآن کتابِ ہدایت ہے اسی طرح ہر فرمانِ نبوی (ص) بھی سرچشمہ و ہدایت اور ضامن سعادت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں کی عظمت کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے اس کا بھی انکار نہیں ہوسکتا، ان عظیم ومقدس ہستیوں میں ایک پاکیزہ نام سیدہ فاطمہ الزہرا (س) کی ذات گرامی ہے۔
حضرت فاطمہ الزہرا (س) کا شمار ان مقدس شخصیات میں ہوتا ہے جن کی زندگی ہر پہلو میں بے مثال ہے۔ آپ نہ صرف خاتونِ جنت تھیں بلکہ آپ کی علمی، روحانی اور اخلاقی فضیلتیں بھی ہر دور کے مسلمان کے لیے رہنمائی کا باعث رہی ہیں۔ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی شخصیت کو جاننا اور ان کے فضائل پر غور کرنا مسلمان کے ایمان کی تکمیل کا ایک حصہ ہے۔ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی آفاقی شخصیت کسی مسلمان کے لیے ڈھکی چپھی نہیں ہے۔ آپ نے زبان وحی سے تربیت اور امامت کے سائے میں زندگی بسر کی۔ آپ عالمہ، معّلمہ، محدثہ، زکیہ، طاہرہ، عذرا وغیرہ جیسےالقابات سے جانی جاتی ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) نے کئی جگہوں پر آپ مسلمہ کے سامنے تعارف پیش کیا اور آپ کی عظمت کو بخوبی بیان کیا۔
حضرت فاطمہ الزہرا (س) کے بارے میں لکھنے کی باقاعدہ ابتداء پہلی صدی ہجری سے ہی ہوگئی۔ جس کی بہت ساری مثالیں کتب الفہرست میں مل جاتی ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں چند ایک کتابوں کے اقتباسات کے علاوہ ہمارے ہاتھ ان اہم ابتدائی کتابوں سے خالی ہے۔ اہل سنت کے نزدیک حضرت فاطمہ الزہرا (س)کی عظمت بہت بلند ہے وہ رسول کی لاڈلی بیٹی، اہلبیت میں شامل، سیدۃ نساءالعالمین، جگر گوشہ رسول (ص) اور ان کی عظمت مسلم ہے۔ آپ (س) کے فضائل سیرت اور مقام و مرتبہ اہل سنت کی کتابوں میں تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ آج کے زمانے میں کچھ کم بصیرت لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی فضیلت ومقام صرف امامیہ سے مختص ہیں جو رسول خدا (ص)کا احترام کرتے ہیں رسول خدا (ص) کے فضائل و مقام کو تو بیان کرتے ہیں، لیکن گوشہ رسول (ص)کی فضیلت کے قائل نہیں ہیں۔ جب ہم قرآن مجید کی طرف نگاہ کر کے دیکھتے ہیں تو ہمیں کئی ایسی آیات ملتی ہیں جن آیات کا کی مصداق حضرت فاطمۃالزہرا (س) کی ذات ہے بہت ساری ایسی روایات ہیں جو حضرت فاطمہ الزہرا (س) کے بارے میں اہلسنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حقیقت کو واضح کیا جائے، تاکہ حق کے راستے سے بھٹکنے والوں کی ہدایت ممکن ہوسکے۔
حضرت فاطمہ الزہرا (س) کا فیض انسانوں سے بھری اس دنیا کے کسی چھوٹے سے گروہ تک محدود نہیں اگر حقیقت بین اور منطقی نگاہوں سے دیکھا جائے تو پوری انسانیت حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی احسان مند نظر آتی ہے اور یہ کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔ جیسا کہ پوری انسانیت، اسلام، قرآن انبیائے الٰہی اور رسول اکرم (ص)کی تعلیمات کی رہین منت ہے۔ تاریخ میں ہمیشہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ آج بھی ایسی صورتحال ہےاور ہر گزرتے دن کے ساتھ اسلام اور حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی معنویت کا نور مزید واضح ہوتا جائے گا اور بشریت اسے بہتر انداز میں محسوس کرے گی۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود کو پیغمبر اعظم (ص)کے خاندان سے منسوب ہونے کے لائق بنائیں۔ البتہ خاندان رسالت، ان کے اعزاء اور ان کی ولایت سے سرشار لوگوں سے منسوب ہونا بہت مشکل کام ہے در اصل وہ تمام نیکیوں اور بھلائیوں کا سرچشمہ ہیں جو دین محمدی کے آبشاروں سے تمام انسانیت اور تمام خلق خدا کو نصیب ہوتی ہیں بہت سے لوگوں نے ان کمالات کو چپھانے اور ان کے انکار کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوئے (کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے) وللہُ مُتِمُ نُورِہ وَلَو کَرہَ الکَافِرُون اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا خواہ کفار بُرا مانیں۔ ہمیں خود کو اس منبع نور سے قریب کرنا چاہیے اور نور کے مرکز سے قُربت کا لازمی نتیجہ، نورانی ہونا ہے۔ ہمیں صرف محبت کے ذریعے ہی نہیں، بلکہ عمل سے بھی نورانی ہونا چاہیے۔
مفہوم فاطمہ
فاطمہ کے لغوی معنٰی
(ف،ط،م) سے لیا گیا ہے جس کے معنی رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی بیٹی فاطمہ الزہرا(س) ہیں۔
فاطمہ سے مراد رسول اکرم (ص)کی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرا (س) ہیں۔
فاطمہ، حضرت فاطمہ الزہرا (س) کو کہا گیا ہے۔
فاطمہ مشتق فطم کے مصدر سے جس کی معنیٰ کاٹنا، جدا کرنا،الگ کرنا۔ لفظ فاطمہ صیغہ فاعلی ہے ظاہری لحاظ سے، لیکن معنیٰ مفعول رکھتا ہے کاٹا ہوا، جدا ہوا کے معنی میں ہے۔
اصطلاح میں
فاطمہ ،فطم سے ہے جس کی معنٰی روکنے اور چھوٹنے کے ہیں ۔ دودھہ چہوڑنے والے بچے کو فطیم کہتے ہیں۔ گویا فاطمہ الزہرا (س) لوگوں کو دوزخ کی آگ سے روکنے والی ہیں۔ اس بنا پر کہا گیا ہے کی اللہ تعالٰی نے ان کو اور ان کے محبین کو آتش دوزخ سے محفوظ رکھنے والی ہیں۔ فاطمہ عورتوں کے نام میں سے ایک نام ہے، قتیبی نے کہا ہے فاطمہ عورتوں کی سردار رسول خدا (ص)کی بیٹی اور حضرت امام علی ؑ کی زوجہ ہیں۔
تعارف فاطمہ زہراء
حضرت فاطمہ (س) کی ولادت کے بارے میں اہل سنت و شیعہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی ولادت ۲۰ جمادی الثانی بعثت سے ۵ سال قبل ہوئی اور ہم شیعہ کے نزدیک حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی ولادت ۲۰ جمادی الثانی بعثت کے ۵ سال بعد ہوئی۔ آپ کے والد بزرگوار سرکار دو عالم خاتم النبیین، سید المرسلین حضرت محمد مصطفی (ص)ہیں،اور آپ کی والدہ گرامی حضرت خدیجۃالکبریٰ (س) ہیں، امیرالمؤمنین امام علی ابن ابی طالبؑ آپ کے شوہر، امام حسن و حسین آپ کے فرزند اور زینب و کلثوم آپ کی بیٹیاں ہیں،آپ اہل بیت میں شامل ہیں حضرت فاطمہ الزہرا (س) وہ خاتون تھیں، مدافعہ رسالت تہیں۔ آیت تطہیر اور حدیث بضعۃ آپ کی شان میں بیان ہوئی ہیں۔ رسول خدا ؐ نے خود فرمایا ہے کہ فاطمہ (س) سیدۃالنساءالعلمین ہیں میرا روح ہے میرا حصہ ہے ان کی خوشی ،میری خوشی اللہ کی خوشی ہے اور ان کی ناراضگی ،میری ناراضگی اللہ کی ناراضگی ہے۔
حضرت فاطمۃ (س) کا فاطمہ نام کیوں؟
حضرت امام صادق ؑ نے فرمایا:
حضرت فاطمہ الزہرا (س) کا نام فاطمہ اسلئے رکھا گیا کہ آپ فساد اور برائیوں سے محفوظ اور معصوم ہیں اور امام صادق ؑنے بحارالانوار کی جلد ۴۳ میں فرمایا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کا نام فاطمہ اسلئے رکھا گیا کہ آپ کی ہستی مبارک کی حقیقت کے درک کرنے کی قدرت نہیں ہے۔
ذہبی (متوفی ۷۴۸ ھہ)نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے مروی اس روایت کو نقل کیا ہے ۔جب فاطمہ بنت رسول خدا ؐ کی ولادت ہوئی تو آپ نے ان کا نام ’’منصورہ‘‘ رکھا۔ اس وقت جبرئیل نازل ہوئے اور فرمایا: اے محمد اللہ تعالیٰ نے آپ اور آپ کی بیٹی کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے زیادہ محبوب بچی اس دنیا میں نہیں آئی ہے۔ لہٰذا ان کا نام جو آپ نے رکہا ہے۔ اس سے زیادہ اچہا نام جو رکھا جا سکتا ہے وہ فاطمہ ہے، کیونکہ وہ اپنے چاہنے والوں کو آگ سے دور کردیتی ہیں۔
خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا (س)کا نام فاطمہ کیوں رکھا گیا ؟ اس حوالے سے فریقین کی کتابوں میں بہت ساری روایتیں موجود ہیں ان میں سے ایک یہاں پیش کر رہے ہیں۔ جسے علماء شیعہ و محدثین کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے علماء مورخین و محققین نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِنَّمَا سُمِّیَتْ ابْنَتِیْ فَاطِمَۃَ لِاَنَّ اللّٰہُ تَعَالیٰ فَطَمَھَا وَ فَطَمَ مَنْ اَحَبَّھَا مِنْ النَّارِ
رسول خدا ؐ نے فرمایا: بے شک میری بیٹی فاطمہ کا نام فاطمہ اسلئے رکھا گیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے چاہنے والوں کو جہنم سے دور کردیتا ہے حضرت فاطمہ الزہرا (س) کو امام علی ؑ اور رسول خدا ؐ بھی اسی نام سے یاد کیا کرتے تہیں،کتب رجالی ، تاریخی وغیرہ میں بھی آپ کو فاطمہ نام سے یاد کیا گیا ہے۔
القابات حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا
الزہراء
امام نبہانی ؒنے حضرت فاطمہ الزہرا (س) کے القابات کر بارے میں فرمایا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کو کبھی حیض نہیں آیا تھا اور جب آپ (س)کے ہاں بچے ولادت مبارک ہوئی تھی تو آپ (س) اسی وقت پاک ہو جاتی تھیں۔یہاں تک کہ آپ کی کبھی نماز بھی قضاء نہیں ہوئی تہی اس لئے آپ کو زہراء کہا جاتا ہے۔
جناب عائشہ ؓبیان کرتی ہیں:
کُنَّا نَخِیْظُ وَ نَغْزِلُ وَ نَنْظِمُ الاِبْرَۃَ بِالَّیْلِ فِیْ ضَوْءِ وَجْہِ فَاطِمَۃَ.
شب کی تاریکی میں ہم حضرت فاطمہ زہراء (س) کے نور سے سیتے تھے اور بُنتے تھے۔
’’ وَ لِذَالِکَ سُمِّیَتْ زَھْرَا ‘‘ چونکہ آپ کا چہرہ بہت نورانی تہا لہذا آپ کو زہرا کہتے ہیں۔
البتول
بتول یعنی الگ ہونے والی (الگ شدہ) کیونکہ زہرا (س) خدا کی جانب دنیا سے الگ ہوئیں اور وہ معرفت، قول و فعل گفتار و کردار اور اخلاق میں عورتوں سے ممتاز تھین اور بری صفات سے الگ اور دور ہیں ایک روایت میں رسول اکرمؐ سے نقل کیا گیا۔ ہم آپ سے سنتے ہے کہ فاطمہ بتول، مریم بتول کی معنی ٰ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: بتول اس عورت کو کہتے ہیں جس نے کبہی سرخی نہ دیکہی ہو نہ ہی وہ حائضہ ہوتی ہے کیونکہ انبیاء کی بیٹیوں میں ایک بری چیز ہے۔
حضرت عائشہ سے فرمایا:
یَا حُمَیْرُ اِنَّ فَاطِمَۃَ لَیْسَتْ نِسَآءِ الآدَمِیِییْنَ لَا لَعْتَلَّ کَمَا تَعْتَلْنَ
اے حمیرا بے شک فاطمہ دوسری عورتوں کی مانند نہیں ہے وہ حائض نہیں ہوتی جس طرح دوسری عورتیں حیض دیکھتی ہیں۔
طاہرہ و طیبہ
طاہرہ طہر سے نکلا ہے یعنی تمام چیزوں سے پاک ہونے والی اور یہ معّظمہ ہر ناپاکی اور پلیدی سے پاک تہیں۔ جیسا امام صادق ؑ نے فرمایا: حَرَّمَ اللّٰہُ النِّسَاءَ عَلیٰ عَلِیٍ مَا دَامَتْ فَاطِمَۃُ حَیَّۃً لِاَنَّھَا طَاھِرَۃٌ لَا تَحِیْضُ
جب تک فاطمہ زندہ تہیں خدا نے عورتوں کو علی پر حرام رکہا کیونکہ یہ معظّمہ ہمیشہ پاک تہیں۔ اور خون حیض نہیں دیکھا۔
موسیٰ ابن جعفر نے فرمایا:
اِنَّ فَاطِمَۃَ عَلَیْھَا السَّلام صِدِّیْقَۃٌ شَھِیْدَۃٌ وَ اِنَّ بَنَاتِ الاَنْبِیَاءِ لَا یَطْمِثْنَ
بے شک فاطمہ راستگو اور شھیدہ ہیں اور انبیاء کی بیٹیاں خون حیض نہیں دیکہتی۔ طاہرہ لقب آپ کو پاک و پاکیزہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے لقب طیبہ بھی آپ کا بہت مشہور لقب ہے اور اہم ترین بات یہ ہے کہ عام طور پر آپ (س) کو طیبہ، طاہرہ کہا جاتا ہے۔
یہ لقب بہی آپ کو پاک و پاکیزہ ہونے کی وجہ سے ملا ایک اور روایت کے مطابق سیدہ سلام اللہ علیہا کے القابات میں طاہرہ زکیہ اور طیبہ بہی ہیں۔ جس کی معنیٰ ہیں ہر قسم کی آپ (س) کو ظاہری و باطن کی پاکیزگی حاصل تہی حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں بے شک سیدہ فاطمۃ الزہرا (س) پاکدامن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد پر اور ان کے محّبین پر جہنم کی آتش کو حرام قرار دیا ہے۔
راضیہ
راضیہ یعنی پروردگار سے خوش ہونے والی قضا اور قدر اور مصیبتوں پر راضی ہونا جیسا کہ کسی مخلوق نے بھی جناب سیدہ جتنے مصائب نہیں دیکہے اور کوئی خاندان بھی نسل زہرا کی مانند بلا و مصیبت میں گرفتار نہیں ہوا، جبکہ وہ بلاؤں اور مصیبتوں پر راضی بہی تہی اور مقام رضا کامل کا اعلیٰ ترین مقام اور خدائے ذولجلال کی طرف تقرب کی انتہاء ہے۔ یہ لقب اس وجہ سے مشہور کہ آپ ذات کبریاء اور حضور اکرم (ص) کی رضا پر راضی بہ رضا تہیں۔
سيدة نساء العالمين
لقب سيدة نساء العالمین زیادہ مشہور لقب ہے اس لئے کہ حضرت محمد مصطفی رضا کی ایک حدیث مبارکہ ہے کہ سیدہ فاطمہ نساء العالمین سیدہ فاطمہ تمام عورتوں کی سردار ہیں۔
صدیقہ
زیادہ سچ بولنے والی خانوں کو صدیقہ کہتے ہیں۔ وہ خاتوں جو عمل اورہر گفتار و کردار اور اسی طرح ایمان میں سچی ہو۔ جناب عائشہ نے حضرت فاطمہ الزہر اس کےبارے میں فرماتی ہیں:
ما رَأيتُ أحَداً قَطُّ ’’ اَصْدَقَ‘‘ مِنْ فَاطِمَۃَ غَيْرَ أَبيهَا
میں نے حضرت فاطمہ الز ہرا (س) سے زیادہ سچ بولنے والا ان کے والد بزرگوار کسی کو نہیں دیکھا
حضرت فاطمہ (س )کے اور بھی القابات بیان ہوئے ہیں جیسے مرضیہ محدثہ، عذرہ، ام ابیها، فخر مریم وغیرہ
کائنات کی سب سے افضل خاتون
ہو سکتا ہے کہ ابتداء میں ہی ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت مریم اور حضرت فاطمہ اور دیگر تمام عورتوں سے افضل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ علی نساء العالمین کھ کر انہیں فضیلت عطا کی ہے۔ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے دو اہم اصلی منابع یعنی قرآنی آیات اور روایات کریمہ میں کس کو افضل قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں سورہ آل عمران، ۴۲ ،۴۳ میں ارشاد باری تعالی ہوا ہے کہ واذ قَالَتِ المَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ اِن الله اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَك وَصطَفَاكِ على نساء العالمينَ يَا مَرْيَمُ اقْني لِرَبِّكِ وَاسْجُدِى وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِمِينَ.
اور یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! بلاشبہ اللہ نے تمہیں (اپنے خاص اہداف کے لیے )منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک و پاکیزہ بنانا ہے۔ اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔ اے مریم ! اپنے پروردگار کی بارگاہ میں خاضع، فروتن اور اطاعت گزار رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو ان دو آیات میں دو نکتہ قابل غور وفکر ہیں۔ دنیا کی عورتوں پر حضرت مریم (س) کا مقام اور مرتبہ اور فضیلت یہ آیت بالکل سورہ بقرہ کی آیت نمبر 47 کی مانند ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے:
یا بني إسرائيل أذكروا نعمتي التي أنعمْتُ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي فَضْلَتُكُمْ عَلَى العالمین
اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو جس سے میں نے تمھیں نوازا اور یہ کہ میں نے تمھیں تمام عالمین پر فضیلت عطا کی ۔
ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دوسروں کی نسبت افضل امت قرار دیئے گئے ہیں اور تمام امتوں اور تمام اعصاراور ازمنہ میں آنے والی صاحب ایمان قوموں سے افضل نہیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالٰی نے امت اسلامی سے مخاطب ہو کر فرمایا : کنتم خیر امۃ ( بقرہ ۴۷)یعنی تم (مسلمان) بهترین امت ہو۔ سب سے خیر ،بہتر، برتر اور افضل امت بنی اسرائیل نہیں بلکہ امت مسلمہ ہے۔
اسی طرح حضرت مریم)س) برگزیدہ خاتون ہیں اپنے زمانے کی عورتوں کی نسبت سے یھی بات روایات سے ثابت ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں عبد الله بن عباس ، حسن ابن جریح نے کہا ہے " اصطفاءِمریم " سے مراد ہے کہ وہ اپنے زمانے کی عورتوں کی نسبت افضل اور برگزیدہ تھیں۔ ابن انباری ، ابن عباس اور سُدی سے یھی قول اکثر مفسرین و محدثین سے بھی نقل ہوا ہے کہ حضرت مریم (س) اپنے زمانے کی عورتوں سے برتر اور پسندیدہ اور برگزیدہ تھیں اکثر اہل سنت کے مفسرین نے یہی قول صحیح اور قابل قبول قرار دیا ہے ۔
رکوع کرنے والوں کے ساتھ: ان دو آیتوں میں حضرت مریم اور بنی اسرائیل کو حکم ہوا ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کریں اور ان ہی دو آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریم اور بنی اسرائیل سے بہتراوربرتر لوگ بھی ہیں کیونکہ بنی اسرائیل اور حضرت مریم سے کہا گیا ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کریں اور ان کی ہمراہی کریں اور ان کی اقتداء کریں - رکوع کرنے والے در حقیقت حضرت مریم اور بنی اسرائیل کے امام و پیشوا ہیں چنانچہ وہ حضرت مریم(س) اور بنی اسرائیل سے افضل ہیں۔ اب خداوند عالم رکوع کرنے والوں کو متعارف کرواتا ہے کہ خداوند عالم سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۵
اِنَّما وَلِیّکُم اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِیْمُونَ الصَّلَوَةَ وَ يُوتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاکِعُون -
تمھارا حاکم و سرپرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر (س) اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں جبکہ وہ رکوع کر رہے ہوتے ہیں یعنی یہ رکوع کرنے والے اہل بیت عصمت و طہارت ہیں بالخصوص ابو الآئمہ امیر المومنین امام علیؑ ہیں۔
محمود آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں تحریر کیا ہے کہ اس آیت سے حضرت زہرا (س)پر حضرت مریم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے بشرطیکہ اس آیت میں نساء العالمین سے مراد تمام زمانوں اور تمام ادوار کی۔ خواتیں مراد ہوں مگر چونکہ کہا گیا ہے کہ اس آیت میں مراد حضرت زمانے کی عورتیں ہیں لہذا ثابت ہے کہ مریم (س) فاطمہ الزہرا (س) پر فضیلت نہیں رکھتی۔
آلوسی کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اِنَّ فَاطِمَة البَتُول اَفْضَلُ النِّسَاءِ المُتَقَدِمَاتِ وَالمُتّْخرَاتِ بے شک فاطمہ تمام گذشتہ اور آئندہ عورتوں سے افضل ہیں ۔ آلوسی کے بقول اس حدیث سے تمام عورتوں پر حضرت سیدہ فاطمہ (س) کی افضلیت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جناب سیدہ (س) رسول اللہ کی روح و جان ہیں ، چنانچہ حضرت فاطمہ الزہرا (س) حضرت عائشہ ام المؤمنین پر بھی برتری رکھتی ہیں۔
الزرقانی لکہتے ہیں جو رائے امام القریزی، قطب الخضیری اور امام السیوطی نے واضح دلیلوں کی روشنی میں منتخب کی ہے یہ کہ حضرت فاطمہ(س) حضرت مریم سمیت دنیا کی تمام عورتوں سے افضل و بر تر ہیں۔
فاطمه جزء رسول خدا
محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں اس حدیث کو درج کیا ہے کہ حضرت مسوربں مخرمہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐنے ارشاد فرمایا :اِنَّ فَاطِمَۃَ بِضعَة مِنِّى فَمَنْ اَغضَبَھَا اَغظَبَنِی
بےشک فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا میرے ہے لہذا جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا۔
یہ حدیث سن کر اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں ایسی کون سی فضیلت ہے ہر اولاد کے لیے والدین یہی کہتے ہیں اور ہر اولاد اپنے والدین کا جزء ہی ہوتی ہے لیکن وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ عام والدین کا جزء ہونا اور سرور دور جہاں سید الانبیاء کی ہستی کا جزء ہونا دونوں میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے جس طرح تمام پھولوں کی خو شبو سے گلاب کے پھول کی خوشبو کا فرق محسوس کیا جاتا ہے جس طرح کے باقی روشنیوں کے مقابلے میں سورج کی روشنی کا فرق کیا جاتا ہے اسی طرح عام والدین کا جزء ہونا اور سید الاوصیاء جیسے والد کا جود ہونا بھی بڑا فرق رکھتا ہے اور اس حقیقت کو علماء اہل سنت نے بھترین انداز میں بیان کیا ہے کہ سرور کائنات (س) کی ذات اقدس سے نسبت اور وکمال تک پہنچا دیتی ہے حتی کہ وہ اشیاء جو ذات پیغمبر (ص) سے متصل نہیں ہے بلکہ جدا ہیں، لیکن ان کے وجود مبارک سے نسبت کے سبب ان کا مرتبہ وشان بہت بلند و بالا ہے۔
اور یہی حدیث جامع ترمذی میں محمد بن عیسیٰ ترمزی نے رقم طراز کی ہے کہ عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت امام علیؑ نے ذکر کیا ابو جھل کی لڑکی سے نکاح کریں اور یہ خبر جب رسول اکرم ؐکو پہنچی تو رسول اکرم ؐنے ارشاد فرمایا: فاطمہ بصنعة منی.... فاطمہ میرا حصہ ہے جس نے اُسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی۔
حضرت فاطمہ الزہراء (س) اہل بیت میں شامل:
خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا. (سوره احزاب آیت ۳۳)
بس اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ تم اہل بیت سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے اور تمھیں ایسا پاک و پا کیزہ رکھے جیسا کہ حق ہے۔ اس آیت کریمہ کی شان نزول میں متواتر روایات سے یہ ثابت ہے کہ یہ آیت حضرت ام سلم (س) کے گھر میں نازل ہوئی۔ اس وقت وہاں پرحضور اکرم ہے، امیر المومنین امام علیؑ، حضرت سیدہ زہرا (س)، اور حسنین علیهم السلام موجود تھے۔ خود ام المومنین ام سلمہ(س)نے حضور اکرم سے خوشی ظاہر کی میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ شامل ہو کر چادر کے نیچے داخلے ہو جاؤ۔مگر حضور اکرم کرم ؐنے منع فرمایا اور کہا ’’ واَنتَ فِی خَیر ‘‘ تم بھلائی پر ہو مگر یہ آیت ہم پانچ افراد سے مخصوص ہے۔
اس وقت رسول خدا اللہ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا: یہ لوگ میرے گھر والے ہیں۔ اور خاص لوگ ہیں میرے سو تو ان کی نجاست دور کردے اور پاک کردے ۔ اور ان کو بخوبی یعنی اخلاق حسینہ اور عادت رذیلہ سے دور رکھ۔
یہ حدیث صحابہ کرام کا وہ گروہ جنہوں نے آیت تطہیر کے شان نزول کو اسی ترتیب کے ساتھ نقل کیا ہے وہ یوں ہے سعد بن ابی وقاص ،انس بن مالک، ابن عباس ام سلمہ ، ابوہریرہ ، معقل بن یسار، ابوطفیل ،جعفر حبان حبيرة، ابوبرزہ اسلمی ، مقداد بن اسود۔
وہ روایات جو مذکورہ صحابہ نے نقل کی ہیں اور اس موضوع پر ایک ہی رائے کے حامل ہیں کہ آیت تطہیر حضرت ام سلمہ کے گھر پر نازل ہوئی جو صرف پنجتن کی شان میں نازل ہوئی ہے اور ازدواج مطہرات میں سے کوئی ایک بھی اس میں شامل نہیں ہے ۔ یہ مسلمات میں سے ہیں ۔ صحابہ کرام میں سے ۳۰۰ افراد نے اسی ترتیب کے ساتھ اور آیت کا نزول حضرت ام سلمہ کا گھر بتاتے ہوئے نقل کیا ہے ۔ ان تین سو افراد کا مکمل تعارف جو مختلف صدیوں میں زندگی گزار چکے ہیں علامہ عبد الحسین امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں مفصل تحریر کیا ہے ۔ ان تمام تین سو افراد نے جو روریات جو رسول اکرم ؐسے نقل کی ہیں اُس میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضور اکرم ؐسے پوچھا گیا کہ یہ آیت کریمہ کس کی شان میں نازل ہوئی ہے ؟ تو حضور اکرم اللہ نے جواب دیا ۔ میں، علیؑ، فاطمہ، حسنؑ و حسینؑ کی شان میں۔
اگر مذکورہ بالا بیانات میں توجہ و غور و فکر کریں تو بلاشک خاطر الزہرا (س) آیت تطہیر میں شامل ہیں نیز آپ کلمہ اہل بیت میں بھی شامل ہیں ۔ اگر اسے بھی نظر انداز کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رسول اکرم نے اس حقیقت کو اور مزید واضح اور روشن کرنے کے لئے ایک خوبصورت انداز اختیار کیا ہے جسے صحابہ کرام میں سےنو افراد نے نقل کیا ہے کہ آیت تطہیر کے نازل ہونے کے بعد سے تقریباً آپ ؐکی وفات کے قریب تک غالبا ً ہر روز آپ کا معمول یہ تھا کہ صبح کی نماز کے لئے گھر سے نکلتے وقت یعنی مسجد پہنچنے سے پہلے حضور اکرم ؐحضرت صدیقہ الزہرا(س) کے گھر کے دروازے پر یوں فرماتے تھے: السَّلامُ عَلَىكُم يَا اھلَ البَيتِ انمَا يُرِيدُ اللّٰہُ لِيدُ هِبَ عَنكُم الرِّجسَ اَھلَ البَيتِ وَيُطھِّرَكُمْ تَطْهِيراً.









آپ کا تبصرہ