ہفتہ 21 مارچ 2026 - 16:20
لہو میں بھیگی عید

حوزہ/ آج عید ہے، مگر یہ کیسی عید ہے کہ فضا میں خوشبو نہیں، بارود کی بُو ہے؛ تکبیروں کی جگہ چیخیں ہیں اور گلے ملنے کے بجائے کفن لپٹے جسم ایک دوسرے سے لپٹے پڑے ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I آج عید ہے، مگر یہ کیسی عید ہے کہ فضا میں خوشبو نہیں، بارود کی بُو ہے؛ تکبیروں کی جگہ چیخیں ہیں اور گلے ملنے کے بجائے کفن لپٹے جسم ایک دوسرے سے لپٹے پڑے ہیں۔

اسی ہنگامۂ غم میں ایک ایسا چراغ بجھا دیا گیا ہے جس کی روشنی صرف ایک ملک نہیں، پوری امت کے لیے امید تھی—شہید رہبر۔ وہ محض ایک فرد نہیں تھا بلکہ ایک فکر، ایک سمت اور ایک زندہ ضمیر تھا۔ اس کی موجودگی مظلوم کے لیے ڈھال اور ظالم کے لیے للکار تھی۔

عید کے دن اس کا منظر کچھ اور ہی ہوتا تھا—تہران کی فضا تکبیروں سے گونجتی، لاکھوں دل ایک مرکز پر دھڑکتے، اور اس کے بلند ہوتے ہاتھوں کے ساتھ دعائیں آسمان کو چھوتی تھیں۔ مگر آج وہی شہر خاموش ہے؛ صفیں تو قائم ہیں مگر دل ٹوٹ چکے ہیں، نگاہیں منتظر ہیں مگر دروازہ ساکت ہے۔ وہ امام جس کی اقتداء عبادت کو احساس میں بدل دیتی تھی، آج خود مٹی کی آغوش میں ہے۔

یہ سب محض حادثہ نہیں…

یہ اس منظم ظلم کا نتیجہ ہے جسے دنیا طاقت کا توازن کہہ کر چھپا دیتی ہے۔ شیطانی قوتیں—امریکہ اور اسرائیل—اپنی طاقت کے نشے میں انسانیت کو روند رہی ہیں؛ بمباری صرف عمارتوں پر نہیں، انسان کے وقار پر ہو رہی ہے۔ اسکول، اسپتال، گھر—سب ان کی درندگی کا نشانہ ہیں۔ یہ جنگ نہیں، زندگی کے ہر امکان کا قتل ہے۔

اسی سفاکی کے بیچ وہ رہبر نشانہ بنا…

اور اس کی شہادت محض ایک جان کا زیاں نہیں، ایک عہد کا ٹوٹنا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امت کا سر جھک گیا ہو اور کارواں کا علم زمین پر آ گرا ہو۔ وہ رہبر جو شبوں کو جاگ کر امت کے درد پر آنسو بہاتا، جو اپنے آرام کو قربان کر کے مظلوموں کے لیے کھڑا ہوتا، آج خاموش کر دیا گیا۔

ایران کی سرزمین پر معصوم بچوں کا خون بہا—وہ ننھے ہاتھ جو قلم تھامنے نکلے تھے، کفن میں لپٹ گئے؛ ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں اور باپوں کے کندھوں پر مستقبل کے جنازے آ گئے۔ ہزاروں زخمی ہیں جن کے زخم صرف جسم پر نہیں، روح پر ہیں۔ پانی، بجلی، اسپتال—زندگی کے وسائل تک نشانے پر ہیں، گویا موت نے ہر دروازے پر پہرہ بٹھا دیا ہو۔

اور ادھر لبنان…

وہ بھی اسی ظلم کی لپیٹ میں ہے؛ بستیاں مٹ رہی ہیں، بچے خاک میں لت پت ہیں، مائیں بین کر رہی ہیں۔ اسے بھی ایک اور غزہ میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور دنیا کی خاموشی اس ظلم کی سب سے بڑی پشت پناہی ہے۔

مگر ان تمام زخموں کے درمیان سب سے گہرا زخم اس رہبر کی جدائی ہے، اس لیے کہ رہبر کا قتل صرف ایک انسان کا قتل نہیں بلکہ ایک سمت، ایک حوصلہ اور ایک اجتماعی شعور کو زخمی کرنا ہے۔

آج عید ہے… مگر اس رہبر کے بغیر کیسی عید؟

یہ جشن نہیں، ایک یتیم امت کی خاموش فریاد ہے۔

اے اللہ! اس رہبرِ شہید کو اپنے قرب میں جگہ دے، اس کے خون کو امت کی بیداری بنا، اور ہمیں حق کے اس راستے پر ثابت قدم رکھ جس پر وہ چلتا رہا۔

آمین…

أَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha