پیر 23 مارچ 2026 - 18:35
دین فروش مفتی

حوزہ/ آج کا سب سے بڑا فتنہ یہ نہیں کہ حق کمزور ہے، بلکہ یہ ہے کہ باطل کو حق کا لباس پہنا کر بیچا جا رہا ہے۔ دینی اقدار کو اس طرح موڑا جا رہا ہے کہ ظلم، عدل دکھائی دے اور مزاحمت، جرم نظر آئے۔ جب زبان بدل دی جائے تو ذہن بدلنے میں دیر نہیں لگتی، اور جب ذہن بدل جائیں تو ضمیر خود بخود مر جاتا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I زمانہ شاید ویسا ہی ہے… مگر نظر بدل گئی ہے۔ حق اب بھی حق ہے، مگر اسے پہچاننے والی آنکھیں دھندلا گئی ہیں۔محراب و منبر اب بھی قائم ہیں، مگر ان کی آوازوں میں وہ جرات باقی نہیں رہی جو کبھی ایوانِ ظلم کو ہلا دیتی تھی۔ کبھی یہی جگہیں تھیں جہاں سے سچ، سچ کہلایا کرتا تھا اور باطل، باطل۔ مگر آج وہی منبر ایسے الفاظ ادا کر رہے ہیں جو حقیقت کو دھندلا دیتے ہیں اور فریب کو دلیل کا لباس پہنا دیتے ہیں۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ تغیر زمانے میں نہیں آیا… بلکہ انسان کے باطن میں اتر گیا ہے

اور یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا انحراف نہیں، بلکہ ایک طویل تاریخی تسلسل کا نتیجہ ہے۔ تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھئے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جب بھی اقتدار اور دین کا گٹھ جوڑ ہوا، سب سے پہلے ضمیر کی قیمت لگائی گئی۔ بنو امیہ کے دور میں جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی تو درباروں کو ایسے علما درکار تھے جو ظلم کو “اطاعتِ امیر” کا لبادہ پہنا سکیں۔ چنانچہ وہی ہوا—کربلا کے میدان میں تلواریں کم تھیں، فتوے زیادہ تھے۔ حق کو باغی اور باطل کو خلیفہ ثابت کرنے کے لیے منبر استعمال ہوئے، اور دین کی زبان کو سیاست کی ترجمانی بنا دیا گیا۔

کربلا محض ایک معرکہ نہیں تھا، وہ ضمیر کا امتحان تھا۔ ایک طرف امام حسین علیہ السلام تھے، جن کے پاس حق تھا مگر طاقت نہیں؛ اور دوسری طرف یزید بن معاویہ تھا، جس کے پاس طاقت تھی مگر حق نہیں۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ یزید جیت گیا—بلکہ یہ ہے کہ کچھ اہلِ علم نے اس کی جیت کو “جواز” فراہم کیا۔ یہی وہ موڑ تھا جب فتوے نے تلوار کا ساتھ دیا، اور منبر نے دربار کے سامنے سر جھکا دیا۔

یہ روایت یہیں ختم نہیں ہوئی۔ بنو عباس کے دور میں “علماء السلاطین” کی ایک پوری جماعت سامنے آئی، جن کا کام حکمرانوں کے ہر اقدام کو شرعی رنگ دینا تھا۔ ظلم کو “مصلحت” کہا گیا، جبر کو “حکمت” کا نام دیا گیا، اور خاموشی کو “تقویٰ” بنا کر پیش کیا گیا۔ یوں دین کا وہ چہرہ، جو عدل، جرات اور حق گوئی کا آئینہ دار تھا، آہستہ آہستہ دھندلا گیا، اور اس کی جگہ ایک ایسا چہرہ سامنے آیا جو خوف، مفاد اور مصلحت کا ترجمان تھا۔

پھر تاریخ نے ایک نیا رخ لیا۔ استعماری دور آیا، اور ضمیر فروشی نے ایک نیا لباس پہن لیا۔ اب فتوے صرف بادشاہوں کے لیے نہیں بلکہ سامراجی طاقتوں کے لیے دیے جانے لگے۔ کہیں جہاد کو بغاوت کہا گیا، کہیں غلامی کو امن کا نام دیا گیا، اور کہیں مزاحمت کو فساد قرار دے کر دبانے کی کوشش کی گئی۔ گویا قلم اور منبر دونوں ایک ایسی زنجیر میں جکڑ دیے گئے جس کا سرا طاقت کے ایوانوں میں تھا۔

اور آج ہم اسی پرانی کہانی کا ایک اور باب دیکھ رہے ہیں۔ زبان بدل گئی ہے، لہجہ شائستہ بنا دیا گیا ہے، اصطلاحات کو “علمی” رنگ دے دیا گیا ہے—مگر حقیقت آج بھی وہی ہے: یہ دین فروش ملا اور مفتی ایک بار پھر دین و ایمان کا سودا کر کے فتوے بیچ رہے ہیں، الفاظ کو آراستہ کر کے ضمیر کی قیمت وصول کر رہے ہیں، اور دین کے نام پر دین ہی کی روح کو زخمی کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جامعہ الازہر کے سرکاری بیان نے اس رویے کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف ایران کی کارروائیوں کو بلا جھجھک “غیر مبرر جارحیت” قرار دے دیا گیا، اور دوسری طرف اس کھلی حقیقت پر پردہ ڈال دیا گیا کہ یہ سب اس پس منظر میں ہو رہا ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کی واضح مداخلت، عرب ممالک میں قائم ان کے فوجی اڈے، اور مسلسل عسکری دباؤ موجود ہے۔

سوال سیدھا اور تلخ ہے: جب اصل حملہ آور—امریکہ و اسرائیل—کا نام لینے سے گریز کیا جائے، اور ان عرب حکمرانوں کا ذکر تک نہ ہو جو اپنی سرزمین اس جارحیت کے لیے مہیا کر رہے ہیں، تو پھر انصاف کہاں باقی رہ جاتا ہے؟ یہ توازن نہیں، بلکہ کھلی جانبداری ہے؛ یہ تجزیہ نہیں، بلکہ حقیقت سے فرار ہے۔

یہ محض ایک رائے نہیں، بلکہ واضح جھکاؤ ہے۔ یہ وہ خاموشی ہے جو بولتی ہے، اور وہ بیان ہے جو حقیقت کو چھپاتا ہے۔ جب طاقتور کا نام لینے سے گریز کیا جائے اور ردِعمل دینے والے کو ہی مجرم بنا دیا جائے، تو یہ عدالت نہیں—صاف جانبداری ہے

یہاں مسئلہ کسی ایک فتوے کا نہیں، پوری فکر کے بگاڑ کا ہے۔ جب دین کے نمائندے اقتدار کے دروازوں پر جا کھڑے ہوں تو الفاظ نہیں، ضمیر بدلتے ہیں۔ انصاف سب سے پہلے قربان ہوتا ہے، حق سب سے پہلے پسِ پشت ڈالا جاتا ہے، اور مصلحت کو دین کا نام دے دیا جاتا ہے۔ پھر فتویٰ نہیں نکلتا—حکم نامہ جاری ہوتا ہے، جس میں سچ کم اور اقتدار کی خوشنودی زیادہ ہوتی ہے۔

یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں دین کی روشنی مدھم کر دی جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کیا جاتا ہے جو بظاہر مذہبی، مگر حقیقت میں مفاد کا ترجمان ہوتا ہے۔ حق کو الجھا دیا جاتا ہے، باطل کو سنوار دیا جاتا ہے، اور عوام کے سامنے ایسا نقشہ پیش کیا جاتا ہے جس میں ظلم چھپ جائے اور ردِّ ظلم ہی جرم بن جائے۔

قرآن اس موقع پر کسی مصلحت، کسی دباؤ، کسی خوشنودی کو نہیں مانتا—وہ سیدھا کہتا ہے: انصاف پر قائم رہو، چاہے وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ﴾(النساء: 135)

یعنی انصاف پر قائم رہو،خواہ وہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

اور ایک اور مقام پر:﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ﴾(البقرہ: 194)

یعنی زیادتی کا جواب دیا جا سکتا ہے—مگر انصاف کے ساتھ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بیانات میں یہ قرآنی توازن موجود ہے؟ کیا مظلوم اور طاقتور دونوں کے لیے ایک ہی معیار اختیار کیا جا رہا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں بلکہ انحراف کا ہے۔

آج کا سب سے بڑا فتنہ یہ نہیں کہ حق کمزور ہے، بلکہ یہ ہے کہ باطل کو حق کا لباس پہنا کر بیچا جا رہا ہے۔ دینی اقدار کو اس طرح موڑا جا رہا ہے کہ ظلم، عدل دکھائی دے اور مزاحمت، جرم نظر آئے۔ جب زبان بدل دی جائے تو ذہن بدلنے میں دیر نہیں لگتی، اور جب ذہن بدل جائیں تو ضمیر خود بخود مر جاتا ہے۔

یہ وہ خطرناک مرحلہ ہے جہاں قومیں تلوار سے نہیں، فریب سے ہاری جاتی ہیں۔ انہیں مارا نہیں جاتا—انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی ٹھیک ہیں۔ انہیں دبایا نہیں جاتا—انہیں قائل کیا جاتا ہے کہ ظلم ہی نظام ہے اور خاموشی ہی نجات۔ یہی وہ زہر ہے جو رگوں میں اتارا جاتا ہے، آہستہ آہستہ، اور جب تک احساس ہوتا ہے… سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔

یہ تحریر کسی ایک فرد یا ادارے پر حملہ نہیں، بلکہ ایک مہلک رویے کا پردہ چاک ہے—وہ رویہ جس میں دین کو ڈھال بنا کر اسی دین کے اصولوں کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔ یہ یاد دہانی نہیں، ایک انتباہ ہے کہ تاریخ صرف واقعات درج نہیں کرتی، وہ چہروں سے نقاب بھی اتارتی ہے، اور لفظوں سے زیادہ خاموشیوں کا حساب لیتی ہے۔

کل جب یہ دور تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہوگا تو صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کس نے کیا کہا، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کس نے سچ کو چھپایا، کس نے باطل کو سہارا دیا، اور کس نے ضمیر بیچ کر خاموشی اختیار کی۔ وہاں نہ الفاظ بچائیں گے نہ تاویلیں—صرف سچ کھڑا ہوگا۔

یاد رکھیں، خاموشی کوئی پناہ نہیں ہوتی۔

یہ ایک فیصلہ ہوتی ہے۔

یا تو وہ حق کے ساتھ ہوتی ہے…

یا کھلے باطل کے ساتھ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha