حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ اپنے تمام معاہدوں کا پابند رہا ہے اور جنگ سے بچنے کے تمام راستے آزماتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی سفارتی راستوں کو کھلا رکھے ہوئے ہے، لیکن طاقت کے ذریعے ایران کو جھکانے کا تصور محض وہم ہے۔ ان کے بقول باہمی احترام پر مبنی سفارت کاری جنگ کے مقابلے میں کم خرچ، زیادہ دانشمندانہ اور پائیدار راستہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دشمن کی کھلی اور خفیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ ایک نئی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی اور تقویت کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ قالیباف نے کہا کہ اگر دشمن نے دوبارہ ایران پر حملے کی کوشش کی تو اسے ایسا سبق دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور خطے کے کسی ملک سے دشمنی نہیں رکھتا۔ وزارت خارجہ نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کی اشتعال انگیز سازشوں سے ہوشیار رہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کی کسی بھی غلطی کا ایران بھرپور جواب دینا جانتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی کانگریس نے حالیہ جنگ کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے اربوں ڈالر مالیت کے متعدد جنگی طیاروں کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔ بیان کے مطابق ایران دنیا کی پہلی طاقت بن چکا ہے جس نے جدید F-35 جنگی طیارے کو مار گرایا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے بھی اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو جنگ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی۔ سپاہ نے کہا کہ حالیہ معرکوں میں ایران نے اپنی تمام عسکری صلاحیتیں استعمال نہیں کیں، اور اگر دشمن نے جارحیت جاری رکھی تو اسے ایسے مقامات پر سخت ضربیں لگائی جائیں گی جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔
ادھر لبنان میں حزب اللہ کے مجاہدین نے جنوبی لبنان کے علاقے حداثا کے قریب اسرائیلی فوج کی پیش قدمی روکنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھڑپوں کے دوران دو اسرائیلی مرکاوا ٹینک تباہ کر دیے گئے اور دشمن کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
اسرائیلی اخبار “اسرائیل ہیوم” نے بھی بعض صہیونی فوجی افسران کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ لبنان میں موجودگی بے فائدہ ثابت ہو رہی ہے اور اسرائیلی فوج اس جنگ میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔
دریں اثنا سپاہ پاسداران کی بحریہ نے اعلان کیا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 26 تیل بردار، تجارتی اور کنٹینر بردار جہاز ایرانی بحریہ کی نگرانی اور سکیورٹی میں آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت ایران کی اجازت اور رابطے کے تحت جاری ہے۔









آپ کا تبصرہ