حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مؤسسہ باقر العلوم قم المقدسہ میں 19 تا 21 اپریل 2026 کو "محورِ مقاومت: چیلنجز، مواقع اور امت کی سربلندی" کے عنوان سے تین روزہ خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں بڑی تعداد میں قلم کار، محققین، علمائے کرام، طلاب اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد موجودہ حالات میں محورِ مقاومت کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر گہرائی میں تحقیق اور تحلیل فراہم کرنا تھا۔

پروگرام کی تفصیلات
پہلا لیکچر (19 اپریل)
امریکہ-ایران مذاکرات و حکمت عملی" کے عنوان سے ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی نے تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے مذاکرات کے پس منظر، موجودہ صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی۔
دوسرا لیکچر (20 اپریل)
ایران، مقاومت اور لبنان: وفا اور چیلنجز" (جسے چپنیز کے عنوان سے بھی یاد کیا جا رہا ہے) کے موضوع پر ڈاکٹر صاحب نے خطاب کیا۔ اس سلسلے میں ایک اقتباس پیش کیا گیا:
کسی بھی قوم کی مقاومت تاریخ کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور علماء و فقہاء کی فکری ریاضت سے وجود میں آتی ہے۔ لبنان کی مقاومت بھی اسی روایت کا ایک تابناک باب ہے۔
ایران نے اپنا سب کچھ لبنان کے لیے لٹا دیا۔ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں، بلکہ تاریخ کی مسلمہ حقیقت ہے اور یہی وہ راز ہے جو لبنان کی مقاومت کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ مقاومت زندہ ہے، اور زندہ رہے گی۔ انشاءاللہ"

تیسرا لیکچر (21 اپریل)
"جنگ رمضان: دفاعِ عزت و کرامت امت" کے عنوان سے ڈاکٹر شیرازی نے امت مسلمہ کی عزت و کرامت کے تحفظ میں رمضان کی جنگ کی اہمیت اور اس کے پیغام پر تفصیلی گفتگو کی۔
پروگرام کے دوران شرکاء نے سوالات و جوابات کے ذریعے اپنی آراء کا اظہار کیا اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔
اختتام پر تمام شرکاء نے محورِ مقاومت کے فروغ اور امت کی سربلندی کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔










آپ کا تبصرہ