پیر 27 اپریل 2026 - 21:11
ایران کی دفاعی طاقت میں غیر معمولی اضافہ، اسرائیل اندرونی بحران میں مبتلا

حوزہ/ خطے میں حالیہ جنگ کے بعد ایک واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف ایران نے اپنے دفاعی نظام میں کافی خود انحصاری حاصل کر لی ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے اندر مایوسی اور بے یقینی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بدلتی صورتحال صرف جنگی طاقت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی اور عوامی سطح پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں حالیہ جنگ کے بعد ایک واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف ایران نے اپنے دفاعی نظام میں کافی خود انحصاری حاصل کر لی ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے اندر مایوسی اور بے یقینی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بدلتی صورتحال صرف جنگی طاقت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی اور عوامی سطح پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔

ایران کی وزارت دفاع کے مطابق اب ملک ایک ہزار سے زیادہ اقسام کے ہتھیار خود بنا رہا ہے، جن میں میزائل، ڈرون اور دیگر جدید آلات شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے پچھلے کئی برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ نظام صرف ایک جگہ پر نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں پھیلا ہوا ہے، تاکہ اگر کہیں نقصان بھی ہو تو کام جاری رہ سکے۔ اس میں ہزاروں سرکاری اور نجی ادارے بھی شامل ہیں، جو اس نظام کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیل کے اندر صورتحال مختلف ہے۔ حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کا اپنی فوج اور جنگی کامیابیوں پر اعتماد کم ہو گیا ہے۔ پہلے جو لوگ سمجھتے تھے کہ ایران کو بڑا نقصان پہنچا ہے، اب ان کی تعداد کافی کم ہو چکی ہے۔ اسی طرح ملک کے اندر خود کو محفوظ سمجھنے کا احساس بھی کم ہوا ہے۔ خاص طور پر لبنان کی طرف سے خطرے کا احساس بڑھ گیا ہے، جس سے لگتا ہے کہ اسرائیل ایک سے زیادہ محاذوں پر دباؤ میں ہے۔

جنگ کا اثر عام لوگوں پر بھی پڑا ہے۔ ایران میں شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے، اور جو عمارتیں متاثر ہوئی ہیں ان میں بھی زیادہ تر عام لوگوں کے گھر اور کاروبار شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا بوجھ عام عوام پر بھی پڑ رہا ہے۔

لبنان میں حزب اللہ نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ جواب دے گا۔ حالیہ کارروائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محاذ اب بھی فعال ہے اور اسرائیل کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔

ان حالات کے باوجود ایران میں روزمرہ زندگی جاری ہے۔ حج کے لیے زائرین کو بھیجنے کا فیصلہ اس بات کی نشانی ہے کہ ملک معمولات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جنگ کے بعد حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔ ایران مضبوط نظر آ رہا ہے، جبکہ اسرائیل کے اندر بے چینی اور غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha