ایران – امریکہ جنگ اور تین خبروں کا تجزیہ

حوزہ / ایران کے متعلق یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ وہ ناقابل تسخیر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ حالیہ فتح اسے خطے کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر بھی سامنے لائے گی۔ ایک ایسی طاقت جسے مستقبل میں اسرائیل دھمکی دے گا تو لوگ لطیفہ سمجھ کر قہقہہ لگایا کریں گے۔

رعایت اللہ فاروقی ۔ پاکستانی صحافی اور کالم نگار

حوزہ نیوز ایجنسی | پچھلے 15 گھنٹوں کے دوران تین اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان پر بالترتیب بات کر لیتے ہیں:

پہلی خبر امریکی میڈیا کو لیک کی گئی کہ اسرائیلی لابی اور اس میں بھی بالخصوص میریم ایڈلسن ٹرمپ پر جنگ پھر سے شروع کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ لیک کے مطابق ٹرمپ نے لابی سے کہا ہے کہ جرنیل مجھے رپورٹ دے چکے کہ ہم مزید کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس پر لابی کا کہنا تھا کہ لمبی جنگ نہیں لڑنی بس مختصر دورانیے کا طاقتور حملہ مطلوب ہے۔

دوسری خبر روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن کی ٹرمپ کو کی گئی ٹیلیفون کال کی ہے۔ اس کال کے حوالے کریملن کے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر پیوٹن نے ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ ایران پر پھر سے حملہ خطرناک ثابت ہوگا۔ کریملن کے اس بیان میں ایک اہم جملہ یہ بھی شامل ہے کہ "ایران پر زمینی حملہ ناقابل قبول ہوگا"۔ سفارتی زبان سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ "وارننگ" انہی الفاظ میں پبلک کی جاتی ہے۔

ادھر امریکہ میں اس کال کے حوالے سے بھی لیک سامنے آگئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پیوٹن نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ آپ کو مختصر مگر طاقتور حملے کا مشورہ تو دیا جا رہا ہے مگر میں آپ کو بتا دوں کہ اس بار جنگ آپ کی مرضی سے بند نہیں ہوگی، یہ لمبی جائے گی، اور آپ کے کنٹرول میں نہیں رہے گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس واقعی سیریس ہے ؟

ایک چیز سے اس سیریسنس کا اندازہ ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیوٹن سے ملے تھے تو اس میٹنگ میں روس کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ بھی شریک ہوئے تھے۔ یہ روس کی جانب سے ملٹری اور انٹیلی جنس دونوں طرح کے تعاون کا سب سے واضح اشارہ تھا۔

تیسری خبر یہ ہے کہ صدر پیوٹن نے اسرائیلی وزیراعظم چوتین یاہو کو بھی کال کی ہے، اور اسے تجویز دی ہے کہ اگر تمہیں اسرائیل کے مستقبل کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہے تو ایسا ایگریمنٹ کروا دیتے ہیں جس میں اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی کور کر لیا جائے گا اور اس ایگریمنٹ پر میں اور صدر شی جن پنگ بھی بطور گارنٹر سائن کر دیں گے۔

اس فون کال کی اہمیت یہ ہے کہ اسرائیل کی صرف حسرتیں ناتمام نہیں رہیں بلکہ صہیونیوں کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ حالیہ جنگ نے اسرائیل کے مستقبل کو غیر محفوظ کردیا ہے۔ پہلے تو ایک ہوا بنا رہتا تھا کہ پتہ نہیں اسرائیل اور امریکہ مل کر ایران کا کیا کچھ اکھاڑ لیں گے مگر اب وہ ہوا باقی نہیں رہا، بلکہ ان دونوں کی اوقات ہی بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے جبکہ ایران کے متعلق یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وہ ناقابل تسخیر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ حالیہ فتح اسے خطے کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر بھی سامنے لائے گی۔ ایک ایسی طاقت جسے مستقبل میں اسرائیل دھمکی دے گا تو لوگ لطیفہ سمجھ کر قہقہہ لگایا کریں گے۔ سو پیوٹن نے چوتین یاہو کے اسی خوف کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

گیند اب ٹرمپ اور اس کے سرپرست اعلی چوتین یاہو کے کورٹ میں ہے۔

دیکھتے ہیں کیا نکلتا ہے !

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha