حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں بڑھتی ہوئی صورتحال پر شیخ حمود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقاومت کا سیاسی پہلو کسی خاص سوچ یا مذہب کا محتاج نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، فیصلے خود لبنانی عوام کریں گے۔
شیخ حمود نے لبنانی حکومت کے 16 اپریل کے بیان پر سخت تنقید کی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان دشمنی نہیں، بلکہ حزب اللہ سے دشمنی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کوئی حکومت ایسا بیان کیسے دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ اسرائیل کو بہانے دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل غلطی نہیں کرتا۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ وہ صیہونیوں اور امریکہ کے خلاف پیچھے ہٹنے کا ڈھال نہ بنیں۔
شیخ حمود نے کہا کہ لبنان میں موجود مہاجر ہمارے رشتہ دار ہیں، اور ان کا ڈٹ کر رہنا خود مقاومت کا حصہ ہے۔ کچھ لوگ مقاومت اور عوام کے درمیان فرق ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے جنوبی لبنان کے بہادر لوگوں کو سلام کیا اور زور دے کر کہا کہ دشمن کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
شیخ حمود نے ایران کے بارے میں کہا کہ ایران نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے سامنے فوجی شکست کے بعد بڑے تضادات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے سمجھا تھا کہ مقاومت ختم ہو چکی ہے، وہ غلط تھے۔ مقاومت اسرائیلی حملوں کے باوجود دشمن کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے۔
شیخ حمود نے کہا کہ کچھ لوگ امریکہ کی برتری کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں، لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔
واضح رہے کہ 16 اپریل کے بیان کے بعد لبنان میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر سخت سیاسی کشمکش ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقے اس راستے کو مسترد کر رہے ہیں اور اسے قبضہ کاروں کے حق میں مجبوری قرار دے رہے ہیں۔ ادھر اسرائیلی فوج لبنان پر بمباری اور دھماکوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، کل انہوں نے بیروت کے جنوبی علاقے پر نیا حملہ بھی کیا ہے۔









آپ کا تبصرہ