حوزہ نیوز ایجنسی قم المقدسہ میں مقیم ہندوستانی ممتاز شیعہ عالم دین، مولانا ڈاکٹر سید عباس مہدی حسنی نے انسانیت کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی سازشیں کے عنوان سے اپنی ایک تحریر میں کہا کہ انسانیت کی تاریخ زخموں سے لہو لہون اور خون سے رنگین ہے۔ جہاں ایک طرف انسانی اقدار پر مشتمل تہذیب(خالص محمدی اسلام ) انسان دوستی کے نعرے بلند کرتی ہے، وہیں دوسری طرف شیطان صفت طاقتیں انسانیت اور انسانی اقدار کے خلاف سازشوں میں سرگرم رہتی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا اتحاد آج اسی سیاہ چہرے کی بہترین مثال ہے جو اپنی انا اور مفاد پرستی کی خاطر پوری انسانیت کو قربان کرنے پر تلے ہے۔
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطینی عوام کو اپنے ہی وطن اور گھر میں قتل عام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کو سیاسی، اقتصادی اور فوجی ڈھال فراہم کی ہے۔ فلسطین کے خلاف جنگی جرائم، بچوں اور معصوم شہریوں کا قتل عام، پانی، خوراک اور ادویات کی ناکہ بندی — یہ سب انسانیت کے خلاف واضح جرائم ہیں۔
سر دست انسان دشمن سازشوں کے چند دلائل کا ذکر مقصود ہے:
پہلی دلیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب ہے
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے مطابق غزہ کی پٹی میں 2008 سے لے کر آج تک ہزاروں فلسطینی شہری — جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے — اسرائیلی بمباری میں مارے جا چکے ہیں۔ امریکہ کے فراہم کردہ جدید ہتھیاروں سے اسکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک منصوبہ بند نسل کشی ہے۔
دوسری دلیل اقتصادی محاصرہ اور اجتماعی سزا ہے-
اسرائیل نے غزہ کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ امریکہ اس محاصرے کو نہ صرف یہ کہ جائز قرار دیتا ہے بلکہ اسرائیل کو ہر قسم کی منجملہ سیاسی حمایت بھی فراہم کرتا ہے۔
تیسری دلیل ڈرون حملہ اور ٹارگٹ کلنگ ہے
امریکہ نے ایران؛ لبنان؛عراق اور یمن وغیرہ میں ڈرون حملوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہ شہری قتل کیے خود ڈرون آپریٹرز کی زبانی شہادتیں بتاتی ہیں کہ وہ شادیوں، جنازوں اور بازاروں کو نشانہ بناتے ہیں ستم بالای ستم یہ کہ ان جرائم پر کبھی کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔
چوتھی دلیل بدعنوان میڈیا اور پروپیگنڈا ہے
امریکہ اور اسرائیل نے عالمی میڈیا پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ مزاحمتی محاذ کے بے گناہ انسانوں کے قتل عام کو اپنا "دفاع" اور انکی مزاحمت کو "دہشت گردی" کا نام دیا جاتا ہے۔ مغربی میڈیا میں میناب کی معصوم اسکولی بچیوں کے لاشوں کے ٹکڑوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کو اہم ترین خبر بنایا جاتا ہے۔
ایران میں اسرائیل اور امریکہ نے مل کر اسکولوں،؛اسپتالوں؛یونیورسٹیوں ؛ آبادیوں۔۔۔پر بم اور میزائل برسائے جو کہ جنگی جرائم کا مصداق ہیں-
انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ ان سازشوں کا پردہ چاک کیا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کا یہ اتحاد امن، انصاف اور مساوات کے ہر عالمی معیار کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور ظالم اپنی زرق و برق عمارتوں کے ملبے تلے دب جاتے ہیں۔ الحمد للّٰہ انسانی ضمیر بیدار ہو رہے ہیں۔
ان شاء اللہ ایک دن یہ سازشیں خود اپنے بانیوں کے لیے وبال جان بن جائیں گی-









آپ کا تبصرہ