پیر 18 مئی 2026 - 19:44

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید رہبر انقلاب اسلامی کے تاریخی پیغام "پیشرفتہ اور مفید حوزہ" کے ایک سال مکمل ہونے پر اس منشور کے بین الاقوامی پہلوؤں کے جائزے کے لیے پہلی تخصصی بروز اتوار 27 اردیبہشت 1405 بمطابق 17 مئی 2026ء مرکز مدیریت حوزه علمیه کے زیر اہتمام حوزہ علمیہ ایران کے میڈیا اور سائبر اسپیس سینٹر میں منعقد ہوئی۔

اس نشست میں حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری، جامعۃ المصطفی العالمیہ کے امور تحقیق کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین عابدی نژاد اور مطالعات راهبری تحقیقی بین الاقوامی کمیٹی حوزه علمیه کے مدیر ڈاکٹر علی رضا نائیج نے اپنے نظریات اور تجزیے پیش کیے۔

حجت الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے اس نشست کے آغاز میں رہبر شہید (رہ) کے اس پیغام کو حوزہ کے مختلف شعبوں میں اہم تبدیلیوں کا سرچشمہ قرار دیا اور کہا: اس منشور کی مختلف جہتوں سے اہمیت ہے اور اس میں بین الاقوامی پہلو بھی نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا: اس منشور کے متن میں 150 سے زائد ایسے الفاظ اور کلیدی تصورات پائے جاتے ہیں جو عالمی مسائل اور ایران کی جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہیں جیسے استعمار، استکبار، صیہونی حکومت، برطانیہ، عالم اسلام، حوزہ نجف اور عالم اسلام کی بااثر شخصیات۔ یہ سب اس اسٹریٹجک دستاویز پر حاکم بین الاقوامی سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: اس منشور میں حوزہ علمیہ کو محض ایک تعلیمی یا تبلیغی ادارہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک تبدیلی لانے والا اور اثر انگیز مرکز قرار دیا گیا ہے جس کا مشن انبیاء اور انقلاب اسلامی کے مشن کے تسلسل میں متعین کیا گیا ہے۔

حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے حوزہ کے علمی، تبلیغی اور تہذیبی شعبوں میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: حوزات علمیہ کو عالمی سطح پر علمی مرجعیت حاصل کرنی چاہیے، نئے عالمی مسائل کے مطابق علمی پیداوار ہونی چاہیے اور عالمی علم کی حدود کے ساتھ تنقیدی تعامل قائم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: تہذیب ساز فقہ، تہذیب ساز انسانی علوم اور امت ساز دینی نقطہ نظر ان اہم محوروں میں سے ہیں جن پر اس منشور کے بین الاقوامی پہلوؤں کے حصول کے لیے توجہ دینی چاہیے۔

نشست کے اختتام پر حجت الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے نتیجہ اخذ کیا کہ "منشور حوزہ پیشرو و سرآمد" حوزات علمیہ کے لیے ایک اہم بین الاقوامی دستاویز ہے اور آج کے عالمی حالات نے حوزہ کے تہذیبی اور عالمی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت کو دو برابر کر دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha