حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سید ہادی افقهی نے بعض علاقائی ممالک کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارات عملاً "عربی زبان بولنے والی صہیونی حکومت" میں تبدیل ہو چکا ہے، اور اگر یہی روش جاری رہی تو ایران اسے صہیونی اڈے کے طور پر دیکھتے ہوئے کارروائی کرے گا۔
انہوں نے تہران میں حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے صرف دو راستے رکھے ہیں؛ یا ہتھیار ڈالے جائیں یا جنگ قبول کی جائے، لیکن ایران نے اس سوچ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
سید ہادی افقهی نے کہا کہ اگر امریکہ جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اسے ماضی کی طرح ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول امریکہ عسکری محاذ پر ناکامی کے بعد جنگ بندی کی درخواست کرتا ہے اور پھر مذاکرات کی طرف واپس آ جاتا ہے۔
انہوں نے ایران کے مطالبات کے حوالے سے کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ، جنگ کا رکنا، ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز میں ایران کے کردار کو تسلیم کرنا کوئی شرط نہیں بلکہ ایران کے جائز، قانونی اور منصفانہ مطالبات ہیں۔
افقهی نے کہا کہ اگر امریکہ ان مطالبات کو قبول کرتا ہے تو امریکی عوام کی نظر میں وہ سب سے بڑا شکست خوردہ ملک قرار پائے گا، کیونکہ پھر اسے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی وجہ بھی بتانا پڑے گی۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو "صہیونی مہم جوئی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت بنیامین نیتن یاہو کر رہے ہیں جبکہ امریکہ اس میں عملی اور عسکری کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرِ مغربی ایشیا نے مزید کہا کہ ایران نے پاکستانی حکام کو واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ مذاکرات کے اصولی مخالف نہیں، لیکن مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب وہ منصفانہ ہوں اور ایران کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے بعض عرب ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات اور بحرین پر ایران کے خلاف حملوں میں تعاون کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ الٹا ایران پر ان ممالک کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
افقهی نے خبردار کیا کہ امارات کو امریکہ اور صہیونی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگی ترک کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ جنگ میں ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن آئندہ ایسا ضروری نہیں ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران نے صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، اور اگر ان اڈوں کو دوبارہ ایران کے خلاف استعمال کیا گیا تو ایران ان کی دوبارہ تعمیر کی اجازت نہیں دے گا۔
سید ہادی افقهی نے آخر میں کہا کہ ایران جنگ کو وسعت دینا نہیں چاہتا، لیکن اگر دشمنانہ اقدامات جاری رہے تو تہران سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔









آپ کا تبصرہ