تحریر: مولانا سید علی بنیامین نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری اور علمی امر ہے اور مختلف شخصیات کے سیاسی یا انتظامی فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ بعض اوقات سوشل میڈیا پر شخصیات کے خلاف ایسے منظم پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد تحقیق، انصاف اور دیانت کے بجائے افواہوں، مبالغہ آرائی اور بہتان پر ہوتی ہے۔
ایران کے سابق صدر جناب محمود احمدی نژاد کے حوالے سے بھی گزشتہ برسوں میں متعدد ایسے دعوے گردش کرتے رہے جن میں سے بہت سے غیر مستند، مبالغہ آمیز یا بے بنیاد ثابت ہوئے۔
کسی شخصیت کے مزاج کو سخت یا جارح قرار دینا ایک الگ بحث ہے، لیکن اس کے دینی رجحان، ذاتی دیانت اور قومی وابستگی کے بارے میں بغیر دلیل کے الزامات عائد کرنا نہ شرعاً درست ہے اور نہ اخلاقاً۔
تاریخ گواہ ہے کہ دشمن ہمیشہ اُن شخصیات کو متنازع بنانے کی کوشش کرتا ہے جو کسی نہ کسی پہلو سے امت یا ملت پر اثرانداز ہوں۔
کبھی جنرل اسماعیل قاآنی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں، کبھی محمود احمدی نژاد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانیؒ جیسی ممتاز اور تاریخ ساز شخصیت کو اختلافات کی آڑ میں متنازع بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اہلِ بصیرت کا شیوہ یہ نہیں کہ وہ ہر پھیلائی جانے والی بات کو تحقیق کے بغیر قبول کر لیں، بلکہ وہ حقائق کو جانچتے ہیں اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم تحقیق، انصاف اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائیں، حق کی آواز بنیں اور دانستہ یا نادانستہ دشمن کے بیانیے، اس کے پروپیگنڈے اور اس کی آواز کا حصہ نہ بنیں۔
قرآن مجید کی تعلیم بھی یہی ہے کہ کسی خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کی جائے، تاکہ لاعلمی میں کسی قوم یا فرد کے بارے میں ظلم اور ناانصافی کا ارتکاب نہ ہو۔









آپ کا تبصرہ