حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 6 جولائی 1980ء کو "یوم فقہ جعفریہ" کی مناسبت سے جاری اپنے بیان میں کہا: یہ دن عادلانہ نظام کے قیام اور آئینی و بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئینی و قانونی معاہدوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا: جب تک عوامی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی پاسداری نہیں ہوگی، ملک ترقی اور استحکام کے سفر میں پیچھے رہ جائے گا۔
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: پاکستان کی سیاست میں یہ روایت رہی ہے کہ ہر آنے والا نظام اپنے نعرے لے کر آیا مگر مرحوم ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن کے نعرے پر تمام مکاتب فکر کو تشویش لاحق ہوئی کہ کہیں کوئی خاص مسلک نافذ نہ کر دیا جائے۔ اسی تشویش کو 6 جولائی 1980ء کے پرامن، قانونی اور مہذب احتجاج نے ایک واضح سمت دی۔ یہ احتجاج 12/13 اپریل 1979ء کو بھکر میں ہونے والے عوامی اجتماع کا تسلسل تھا، جس کی سرپرستی بلند پایہ شخصیات نے کی۔
انہوں نے مزید کہا: اس احتجاج کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا اور حکمرانوں کو یہ باور کرانا تھا کہ مسلم سکالرز، محققین اور فقہا کی علمی کاوشوں سے استفادہ کرتے ہوئے جدید تقاضوں کے مطابق ایک عادلانہ نظام نافذ کیا جائے، جو انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تعصب سے بالاتر ہو۔
قائد ملت جعفریہ نے یاد دلایا کہ کنونشن کے بعد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں علامہ سید گلاب علی شاہ، علامہ سید صفدر حسین نجفی، کرنل ریٹائرڈ سید فدا حسین اور سید شبیر حسین ایڈووکیٹ شامل تھے۔ اس کمیٹی نے جنرل ضیا الحق سے ملاقات میں ایک معاہدہ طے کیا، جس کے نتیجے میں ستمبر 1980ء کو آئین کی دفعہ 227 میں ترمیم کر کے ایک توجیہہ کا اضافہ کیا گیا، مگر افسوس کہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد اب تک نہیں ہو سکا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: 6 جولائی صرف عادلانہ نظام کے قیام کا دن نہیں بلکہ یہ وحدت امہ کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں تمام مکاتب فکر اور مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جا رہا اور پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے منفی انداز اختیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام اور معاشرے کے سنجیدہ طبقات سے اپیل کی کہ وہ اس دن کو "تجدید عہد" کے طور پر منائیں اور نئے حوصلے کے ساتھ اپنے حقوق کی جدوجہد تیز کریں تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بنایا جا سکے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے اس موقع پر تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے اتحاد اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئینی و قانونی معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی۔









آپ کا تبصرہ