حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم پر پابندی بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت لگائی گئی جس کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، ہمارا کبھی بھی دہشتگردی، فرقہ پرستی و شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں رہا ہم خود عرصہ دراز سے دہشتگردی کا شکار ہیں، ہم نے پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کی بنیاد رکھی اور ہمیشہ اتحاد و وحدت اُمت اور اتحاد بین المسلمین کا راستہ اپنایا۔
انہوں نے مزید کہا: سانحہ ترلائی اسلام آباد مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کی شفاف تحقیقات کرا کر اس سانحہ کے تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: اس وقت فتنہ الخوارج جیسی دہشت گرد تنظیموں کے چرچے ہیں اور ماضی کی طرح لسٹیں بھی شائع کی جا رہی ہیں جس میں بدقسمتی سے بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت ہمارا نام بھی شامل ہے۔ مدتوں سے ملک میں جاری انتہا پسندی، تکفیر، شدت پسندی اور کشت و کشتار جاری رہا جس کے نتیجے میں مختلف طبقات سے سینکڑوں شہداء و زخمی ہوئے اور ہزاروں متاثرین، پسماندگان اور لواحقین ہیں۔
انہوں نے کہا: انتہا پسندوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کیے رکھی، عارضی وقفے کو امن کا نام دیا جاتا رہا ہے۔ان تمام تر واقعات، مشکلات و نامساعد حالات کے باوجود ہم نے ہمیشہ وحدت امت اور اتحاد بین المسلمین کا راستہ اپنایا، درجنوں شہدا کے جنازوں پر کھڑے ہو کر بین المسالک ہم آہنگی، امن و امان اور قانون کی بالادستی کی بات کی، ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھنے اور موثر و فعال انداز میں چلانے میں وہ کردار ادا کیا جو بظاہر ناممکن تھا۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا: طوائف الملوکی کے اس نازک دور میں اعلامیہ ہائے وحدت اور ضابطہ ہائے اخلاق پر نہ صرف دستخط کئے بلکہ عمل کیا اور کرایا۔جس سے اتحاد و وحدت، برداشت و رواداری کو فروغ ملا، تکفیر اور انارکی کی نفی ہوئی، اتحاد بین المسلمین کو تقویت ملی اور مسالک کے درمیان روابط و میل جول سے ملکی و مسلکی فضا بہتر و خوشگوار ہوئی، اتحاد و وحدت کے وہ روح پرور مناظر منظم انداز میں پیش کیے جن سے 57 اسلامی ممالک میں ایک مثال قائم ہوئی۔
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اتحاد بین المسلمین کی کوششوں ،تمام مکاتب فکر و مسالک کے قائدین و اکابرین سمیت نچلی سطح تک حتی کہ مدارس و مراکز سے دوستانہ روابط اور ایک دوسرے کے باہمی احترام و تعلقات، برداشت و یکجہتی کے روشن موقف اور کردار کے باوجود بیلنس کی غیر منصفانہ، غیرآئینی و غیرقانونی پالیسی کے تحت ہمیں انتہاپسندوں، فرقہ پرست تکفیریوں اور اب فتنوں و مسلح جتھوں کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے، کالعدم کی لسٹ میں شامل کر کے نہ صرف ہمارے بنیادی، دستوری، شہری حقوق سلب کئے بلکہ ہماری اور عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی توہین و تضحیک کی جا رہی ہے، سالہا سال کی قانونی جدوجہد کے باوجود عرصہ دراز سے پابندی جاری ہے جس کا اب ختم ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام الناس کے اعتماد کی بحالی، آئین و قانون کی عملداری، بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا تاثر قائم ہو سکے۔
انہوں نے آخر میں کہا: ہم آپ صحافی حضرات کے ذریعہ ارباب اقتدار سے اپنے خلاف ہونے والے بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت غیر آئینی و غیرقانونی اقدامات کے ازالہ کا تقاضا کرتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ