حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پٹنہ/ مدارسِ اسلامیہ کو درپیش چیلنجوں، مذہبی آزادی کے تحفظ اور دینی تعلیمی اداروں کے مستقبل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے 11 نومبر کو مدارسِ اسلامیہ کنونشن کے انعقاد کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں 20 اکتوبر کو پٹنہ میں ائمۂ مساجد کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں مدارس و مساجد کو درپیش مسائل، دینی اداروں کے تحفظ، عوامی بیداری اور ملی اتحاد کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امارتِ شرعیہ کے میٹنگ ہال میں منعقدہ اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام ناظم امارتِ شرعیہ مفتی محمد سہراب ندوی نے کہا کہ دینی مدارس نے ہندوستان کی تعمیر و ترقی اور برطانوی اقتدار سے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مدارس سے وابستہ علما و مشائخ کی قربانیاں ملک کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں، تاہم ان کے بقول موجودہ دور میں بعض فسطائی عناصر کی جانب سے مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی بیداری، اتحاد اور منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ کے مستقبل، مذہبی آزادی کے تحفظ اور دینی اداروں کے خلاف سرگرمیوں سے متعلق خدشات کے پیش نظر عوام کو ان اداروں کی تاریخی، تعلیمی اور سماجی خدمات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ائمۂ مساجد اور علما پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں شعور بیدار کریں اور دینی اداروں کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔
مفتی محمد سہراب ندوی نے بتایا کہ امارتِ شرعیہ کے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت میں 11 نومبر 2026 کو پٹنہ میں گاندھی میدان کے قریب واقع باپو سبھاگار آڈیٹوریم میں مدارسِ اسلامیہ کنونشن منعقد ہوگا۔ اس اجتماع میں بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے مدارس کے ذمہ داران، علما، دانشوران اور ماہرینِ تعلیم شرکت کریں گے۔
انہوں نے ائمۂ مساجد پر زور دیا کہ وہ اپنے خطباتِ جمعہ اور منبر و محراب کے ذریعے عوام کو دینی مدارس اور اسلامی تعلیمی اداروں کی اہمیت سے آگاہ کریں، ان کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں شعور پیدا کریں اور مدارس، مکاتب، مساجد و خانقاہوں کے تحفظ کے لیے دعا کے ساتھ عملی کوششیں بھی جاری رکھیں۔

دینی اداروں کا تحفظ اور ملی اتحاد
دارالقضا امارتِ شرعیہ کے صدر مفتی محمد انظار عالم قاسمی نے مدارس و مساجد کو اسلامی شعائر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تحفظ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دینی اداروں کو درپیش مسائل کا مقابلہ باہمی اتحاد، اجتماعی جدوجہد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
نائب ناظم امارتِ شرعیہ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے سرکاری سرکلرز اور نوٹس کے مندرجات کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے اثرات مدارس کی حدود سے آگے بڑھ کر مساجد کے منبر و محراب تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے ائمۂ مساجد سے اپیل کی کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے 11 نومبر کے کنونشن کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مفتی احتکام الحق قاسمی نے مدارس کے مستقبل کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دینی تعلیمی اداروں کو درپیش چیلنجوں سے باخبر رہنا اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ضروری ہے۔ نائب قاضیِ شریعت مفتی وصی احمد قاسمی نے بھی مدارس و مساجد کے تحفظ کو ملی فریضہ قرار دیتے ہوئے کنونشن کی کامیابی پر زور دیا۔

معاون ناظم رضوان احمد ندوی نے ائمۂ مساجد کی دینی اور سماجی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم معاشرے میں ائمہ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں عوام میں بیداری پیدا کرنے اور کنونشن کی کامیابی کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔










آپ کا تبصرہ