حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ذیل میں "امین ابو راشد" کے اس تجزیاتی مضمون کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے جس میں "انصار اللہ یمن کے استقامت اور ثابت قدمی کے اسباب" کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پہاڑوں سے میدانِ جنگ تک؛ یمنی عوام کی استقامت کا راز
انصار اللہ یمن کی طاقت کا اندازہ صرف اس کے جنگجوؤں کی تعداد، اسلحے کی مقدار یا فوجی قوت سے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ تحریک صعدہ کے پہاڑی علاقوں سے محدود وسائل کے ساتھ ابھری اور برسوں کی جنگ کے دوران ایسی قوت میں تبدیل ہو گئی جس نے وسیع فوجی حملوں کا مقابلہ کیا اور یمن کے سیاسی و عسکری حالات میں اپنا مقام مستحکم کیا۔ اس کی بقا کا راز جنگی تجربے، تنظیمی اتحاد، جغرافیائی حالات سے واقفیت اور اس عزم میں پوشیدہ ہے جس نے اس تحریک کے بعض جنگجوؤں کے لیے جنگ کو محض ایک فوجی تصادم کے بجائے ایک وسیع تر امر بنا دیا ہے۔
یمن کے دشوار گزار پہاڑی علاقے، اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود، انصار اللہ کے لیے ایک اہم فوجی برتری ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والے جنگجوؤں نے ابتدا ہی سے یہ سیکھ لیا کہ محدود وسائل کے ساتھ کس طرح لڑنا ہے، مقامی جغرافیہ سے کس طرح فائدہ اٹھانا ہے اور زیادہ جدید سازوسامان رکھنے والی قوتوں کے مقابلے میں کس طرح ثابت قدم رہنا ہے۔ ایسی جنگ میں اسلحے کی برتری لازماً فتح کی ضمانت نہیں ہوتی کیونکہ علاقے سے واقفیت، دشوار حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت اور طویل جنگ جاری رکھنے کی تیاری میدانِ جنگ کے حالات بدل سکتی ہے۔
تاہم، انصار اللہ کی استقامت صرف یمن کے جغرافیہ یا اس کے جنگی طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ یہ تحریک مذہبی، سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے ایک مجموعہ کے پس منظر میں تشکیل پائی، جنہوں نے رفتہ رفتہ اس کی شناخت اور مقاومت کے جذبے کو تقویت دی۔
حوثی زیدی مذہب کے پیروکار ہیں۔ یمن میں سلفی تحریکوں کے پھیلاؤ، خصوصاً 1980ء کی دہائی کے آغاز سے اور بعض ادوار میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ تحریکوں کی توسیع نے ملک کے شمالی علاقوں میں کشیدگی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ زیدی قبائل پہلے ہی مرکزی حکومت کی عدم توجہی سے پریشان تھے۔ انہیں مذہبی خدشات کے ساتھ سیاسی اور سماجی مطالبات کا بھی سامنا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ مسائل حوثی تحریک کی تشکیل کے اسباب میں شامل ہو گئے۔
1992ء میں قائم ہونے والی تحریکِ ’’جوانانِ مؤمن‘‘ انصار اللہ کے ابتدائی تشکیلی مراحل میں اہم کردار رکھتی تھی۔ 2004ء میں علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف حوثیوں کی جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی اس تحریک کی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی اور سعودی عرب کے ساتھ اس کی محاذ آرائی بھی شدت اختیار کر گئی۔ سعودی عرب 2009ء میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی تصادم میں شامل ہوا، جو 2015ء میں ’’آپریشن طوفانِ قاطعیت‘‘ کے آغاز سے چھ سال پہلے کی بات ہے۔ اس آپریشن نے جنگ کو کہیں زیادہ وسیع کر دیا۔
اس کے بعد کے برسوں میں فوجی حملے اور یمن کا محاصرہ بھی انصار اللہ کو میدان سے باہر نہ کر سکے۔ سعودی عرب نے مختلف اتحاد قائم کرکے اور اپنی فوجی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تحریک کو شکست دینے کی کوشش کی لیکن جنگ کا نتیجہ توقعات کے مطابق نہ نکلا۔ جو تحریک ابتدا میں صعدہ کی ایک مقامی بغاوت دکھائی دیتی تھی، وہ رفتہ رفتہ اپنے محدود جغرافیائی دائرے سے باہر نکل آئی۔ 2014ء میں حوثیوں کے ہاتھوں صنعاء پر قبضے کے بعد یہ تحریک یمن میں اقتدار کے اہم فریقوں میں شامل ہو گئی۔
اس تجربہ نے ثابت کیا کہ انصار اللہ کو محض محدود اسلحے رکھنے والا ایک مسلح گروہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ جنگی حالات میں تنظیمی اتحاد برقرار رکھنا، دستیاب وسائل سے فائدہ اٹھانا اور زیادہ طاقتور فوجی قوت کے مقابلے میں جنگ جاری رکھنا وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس کی بقا میں مدد دی ہے۔
منظم افواج عموماً فیصلہ کن معرکوں میں فتح حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن انصار اللہ جیسی تحریکیں اپنے سماجی ماحول اور جغرافیائی حالات پر انحصار کرتے ہوئے جنگ کو طویل کر سکتی ہیں اور مخالف فریق کے اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں بھاری اسلحے اور زیادہ فائر پاور کی برتری بھی سیاسی اور فوجی اہداف کے حصول کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
بحیرۂ احمر تک جنگ کے پھیلاؤ اور بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد علاقائی حالات میں انصار اللہ کی حیثیت بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ یمن اب محض خانہ جنگی یا سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان محاذ آرائی کا میدان نہیں رہا بلکہ سمندری راستوں کی سلامتی اور عالمی تجارت بھی اس تنازعہ سے وابستہ ہو چکی ہے۔
اب سعودی عرب، ایران، امریکہ اور صہیونی حکومت کی حکمتِ عملیاں بھی اس خطے کی صورتِ حال سے جڑ گئی ہیں۔ تنازعہ میں مزید شدت یمن کی سرحدوں سے باہر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انصار اللہ کی استقامت کا راز جنگی تجربے، جغرافیائی واقفیت، تنظیمی اتحاد اور مشکل ترین حالات میں بھی لڑائی جاری رکھنے کی صلاحیت کے مجموعے میں تلاش کرنا چاہیے۔ صعدہ کے پہاڑی علاقوں سے محدود وسائل کے ساتھ اٹھنے والی اس تحریک نے برسوں کی جنگ کے دوران یہ سیکھا کہ اپنی کمزوریوں پر کس طرح قابو پانا ہے، جغرافیہ کو فوجی برتری میں کیسے بدلنا ہے اور وسیع حملوں کے باوجود کس طرح ثابت قدم رہنا ہے۔
ایسے حالات میں کسی فوجی قوت کو ثابت قدم بنانے والی چیز صرف اسلحہ اور سازوسامان نہیں ہوتی بلکہ جنگ جاری رکھنے کا عزم، دشوار حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت اور طویل جنگ کی قیمت برداشت کرنے کی آمادگی بھی اہم ہوتی ہے۔ انصار اللہ نے انہی خصوصیات پر انحصار کرتے ہوئے وسیع فوجی دباؤ کا مقابلہ کیا اور اپنے مخالفین کی توقعات کے برعکس میدان سے باہر ہونے سے انکار کر دیا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ مخالف فریق کی اسلحے میں برتری کے باوجود انصار اللہ کو شکست دینا ایک مشکل ہدف بن چکا ہے۔ یمن کے پہاڑوں میں طاقت کا اندازہ صرف لڑاکا طیاروں کی تعداد اور اسلحے کی مقدار سے نہیں لگایا جا سکتا۔ بعض اوقات استقامت، جغرافیائی واقفیت اور دباؤ کے سامنے تسلیم نہ ہونے کا عزم جنگ کے پورے منظرنامے کو بدل دیتا ہے۔ یہی حقیقت واضح کرتی ہے کہ برسوں کی جنگ اور محاصرے کے باوجود یمن اب تک کیوں ڈٹا ہوا ہے۔
ماخذ: athabat.net










آپ کا تبصرہ