بدھ 9 ستمبر 2026 - 16:36
مشرقِ وسطیٰ کا المیہ: فلسطینیوں کی حمایت کرنے والوں کو سزا کیوں دی جا رہی ہے؟

حوزه/کچھ روز قبل یمن کے حوثیوں پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مغربی سامراج اور صہیونی ریاست کے لیے کوئی اخلاقی حد نہیں۔ ان حملوں کا مقصد کوئی اور نہیں بلکہ یہ پیغام دینا ہے کہ جو کوئی بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائے گا، اسے کچل دیا جائے گا۔ مگر کیا واقعی حوثیوں نے کوئی غلطی کی تھی؟ کیا غزہ کے بچوں، بھوکی ماؤں اور بے گھر خاندانوں کی مدد کرنا جرم ہے؟ اگر یہ جرم ہے تو پھر آج انسانیت اپنے آپ کو شرمندہ کر رہی ہے۔

تحریر: مولانا کاشف علی رضوانی، حوزہ علمیہ قم

حوزه نیوز ایجنسی| کچھ روز قبل یمن کے حوثیوں پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مغربی سامراج اور صہیونی ریاست کے لیے کوئی اخلاقی حد نہیں۔ ان حملوں کا مقصد کوئی اور نہیں بلکہ یہ پیغام دینا ہے کہ جو کوئی بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائے گا، اسے کچل دیا جائے گا۔ مگر کیا واقعی حوثیوں نے کوئی غلطی کی تھی؟ کیا غزہ کے بچوں، بھوکی ماؤں اور بے گھر خاندانوں کی مدد کرنا جرم ہے؟ اگر یہ جرم ہے تو پھر آج انسانیت اپنے آپ کو شرمندہ کر رہی ہے۔
یہ حملے دراصل اس بات کا اظہار ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی خودمختار آواز، کوئی بھی آزاد فیصلہ، اور کوئی بھی غیر تابعدار گروہ، اس نظام کے لیے قابلِ برداشت نہیں جو ایک طویل عرصے سے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق چل رہا ہے۔
لیکن حوثیوں کی بات ہو تو یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جسے سعودی عرب نے تقریباً آٹھ سال تک ایک بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ گھیرے میں رکھا، اس کے فضائی اور سمندری راستے بند کیے، اس کی معیشت تباہ کی، اور ہر ممکن طریقے سے اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ سعودی عرب پر اس وقت الزام تھا کہ حوثی ایران کا محض ایک ٹول ہیں، اور انہیں ختم کرنا مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ مگر اس جنگ میں لاکھوں یمنی بے گھر ہوئے، لاکھوں بچے موت کے منہ میں چلے گئے، اور ایک پوری قوم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا۔
آج وہی حوثی، جسے "چھوٹا اور کمزور گروہ" سمجھا جاتا تھا، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ طاقت کے سامنے ڈٹا ہوا ہے، اور بحیرۂ احمر میں اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا کر فلسطینیوں کی حمایت کا عملی ثبوت دے رہا ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ختم کرنا چاہتے تھے، مگر آج وہ ایک خطے بھر کی مزاحمتی توانائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک چھوٹا سا گروہ، جس کے پاس نہ جدید فضائیہ ہے، نہ جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم، پھر بھی وہ پوری دنیا کی طاقت کا سامنا کر رہا ہے اور جواب دے رہا ہے۔ یہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ جب کوئی مقصد درست ہو، جب کوئی جنگ حق کی ہو، تو وسائل کی کمی کوئی مسئلہ نہیں ہوتی۔ اور یہ وہی حوثی ہیں جنہیں سعودی عرب نے ایک دہائی تک "باغی" اور "دہشت گرد" قرار دیتے ہوئے اسیر کرنے کی کوشش کی، مگر جب وہ اسرائیل کے خلاف اٹھے تو پوری دنیا کی نظر ان پر آ گئی۔
مگر کیا تمام عرب حکمران اس جنگ میں یکساں ہیں؟
نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ عرب بادشاہ، آمر اور حکمران، جنہیں مغربی سامراج نے مسلط کیا یا جنہیں اس کی مدد حاصل ہے، وہ سب ایک مشترکہ منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد فلسطین کے حق میں آنے والی ہر آواز کو، ہر تحریک کو، اور ہر عملی مزاحمت کو کچلنا ہے۔
پہلے شام کو تباہ کیا گیا، تاکہ حزب اللہ کی سپلائی لائنز ختم ہو جائیں۔ پھر عراقی مزاحمت کو داخلی دباؤ اور اقتصادی محاصرے کے ذریعے کمزور کیا گیا۔ ایران پر براہِ راست حملے کیے گئے۔ اور اب یمن کا محاذ ہے، جہاں سے فلسطین کو سب سے زیادہ عملی مدد پہنچ رہی تھی۔
یہ چاروں محاذ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ انہیں الگ الگ دیکھنا اور انہیں فرقوں، مذاہب یا مسالک کی بنیاد پر پرکھنا دراصل اسی منصوبے کی تکمیل میں مدد دینا ہے جس کا مقصد مزاحمت کا خاتمہ ہے۔

دو نظریاتی قطبین
مشرقِ وسطیٰ میں آج دو واضح نظریاتی قطبین ہیں:

پہلا قطب: صہیونی نظریہ، جسے امریکی سامراج، نیٹو اور بعض عرب آمرین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس نظریے کا مقصد فلسطینی ریاست کو ختم کرنا، بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت بنانا، اور مشرقِ وسطیٰ کو اسرائیلی مفادات کے مطابق ڈھالنا ہے۔
دوسرا قطب: مزاحمت کا نظریہ، جس میں شامل ہیں: ایران، حزب اللہ، حماس، یمنی حوثی، عراقی مزاحمتی گروہ، اور فلسطینی عوام۔ یہ قطب فرقوں، مذاہب اور قومیتوں سے بالاتر ہے۔ اس کا محرک فلسطینیوں کے ساتھ اخلاقی، انسانی اور اسلامی یکجہتی ہے۔
مگر افسوس کہ ہم میں سے بیشتر لوگ اس دوسرے قطب کو فرقہ واریت کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ہم ایرانی شیعہ کو، لبنانی حزبی کو، یمنی زیدی کو، اور عراقی عاشورائی کو، ان کی حمایت کی نوعیت نہیں دیکھتے بلکہ ان کے مسلک کو دیکھتے ہیں۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم فلسطین سے زیادہ اپنے فرقے کی محبت میں مبتلا ہیں۔
اور یہ وہی نکتہ ہے جسے سامراج نے بڑی چالاکی سے استعمال کیا ہے۔ مغرب میں انہوں نے مزاحمت کو "دہشت گردی" کا نام دیا، مشرق میں انہوں نے اسے "فرقہ واریت" اور "ایرانی پراکسی" کا لیبل چسپاں کر دیا۔ یہ دوہرا ہتھکنڈا ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور مزاحمت کو تنہا کر دینا ہے۔
کیا فرقہ پرستی کا یہ الزام درست ہے؟
آئیے ذرا سوچیں:
اگر یہ جنگ کسی خاص فرقے کی بالادستی کے لیے ہوتی تو کیا لبنان کے شیعہ حزب اللہ فلسطین کے سنی وہابیوں کی حمایت کے لیے اپنے رہنما شہید کرواتے؟
اگر یہ جنگ ایران کی پراکسی ہوتی تو کیا عراق کے شیعہ اور سنی مل کر ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوتے؟
اگر یہ محض یمنی زیدیوں کی علاقائی توسیع ہوتی تو کیا وہ فلسطینی عوام کی خاطر بحیرۂ احمر میں اپنی تجارت اور معیشت قربان کر دیتے؟
یقیناً نہیں۔
یہ جنگ دراصل انسانیت، انصاف، اور مظلوم کی حمایت کی جنگ ہے۔ اس میں شامل ہر گروہ، ہر فرد، جانتا ہے کہ وہ کسی فرقے کے لیے نہیں، بلکہ ایک مقدس مقصد کے لیے لڑ رہا ہے۔

میڈیا کا کردار اور ہماری ذمہ داری

مغربی میڈیا مشین مسلسل اس بیانیے کو فروغ دے رہی ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ عربی اور اردو میڈیا میں بھی اسی بیانیے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ انہیں خبروں میں حوثیوں کو "حوثی باغی"، حزب اللہ کو "ایرانی ایجنٹ"، اور حماس کو "دہشت گرد تنظیم" کہا جاتا ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ گروہ نہ ہوتے تو فلسطین کا نام بھی مٹ چکا ہوتا۔ یہ وہی گروہ ہیں جنہوں نے غزہ کو بھوک اور قتل سے بچایا، جنہوں نے اسرائیل کو چاروں طرف سے گھیرے رکھا، اور جنہوں نے عالمی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ فلسطینیوں کو بھول نہ سکیں۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس میڈیا جنگ کو سمجھیں، اپنی سوچ کو فرقہ پرستی سے پاک کریں، اور ایک انسان کی حیثیت سے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔

آج اس بات کو سمجھنا ہے کہ:

· فلسطینیوں کی حمایت کسی فرقے، قوم یا خطے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک عالمی انسانی ذمہ داری ہے۔
· مزاحمت کو فرقہ واریت کی عینک سے دیکھنا دراصل دشمن کی مدد کرنا ہے۔
· عرب آمرین اور مغربی سامراج کا گٹھ جوڑ مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت چل رہا ہے۔
· حوثیوں، حماس، حزب اللہ اور ایران کا مشترکہ مقصد فلسطین کی آزادی ہے، نہ کہ کسی خاص فرقے کا غلبہ۔
· اگر ہم متحد ہو گئے تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی، اور اگر ہم بٹے رہے تو فلسطین ہی نہیں، پوری انسانیت خسارے میں رہے گی۔
آج جب یمن پر بم برس رہے ہیں، جب غزہ کے بچے کھنڈروں تلے دب رہے ہیں، جب لبنان کی سرحدیں جل رہی ہیں، اور جب ایران پر اقتصادی اور فوجی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، تو ہمیں فیصلہ کرنا ہے:
کیا ہم تاریخ کے اس موڑ پر خاموش تماشائی بنیں گے؟ یا ہم اپنے فرقے، اپنی نسل، اپنی قومیت کو بھول کر انسانیت کی طرف سے، انصاف کی طرف سے، اور مظلوم فلسطینیوں کی طرف سے کھڑے ہوں گے؟

یاد رکھیں، جب کوئی مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو وہ اکیلے نہیں ہوتا، تاریخ اس کا ساتھ دیتی ہے، اور اللہ اس کا مددگار ہوتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا المیہ: فلسطینیوں کی حمایت کرنے والوں کو سزا کیوں دی جا رہی ہے؟
تحریر: مولانا کاشف علی رضوانی، حوزہ علمیہ قم

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha