پیر 2 نومبر 2026 - 12:47
یمن کے عوام کے لیے ’’حوثی‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا کیوں درست نہیں؟

حوزہ/ عالمی میڈیا میں ’’حوثی‘‘ کی اصطلاح کا مسلسل استعمال رفتہ رفتہ یمن کے عوام، سیاسی اداروں اور فوجی قوتوں کی شناخت کے لیے ہونے لگا ہے، حالانکہ کسی ایک سیاسی تحریک کے نام کو پورے ملک اور اس کے عوام کے لیے استعمال کرنا حقیقت کی درست ترجمانی نہیں کرتا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الفاظ کا انتخاب کسی ملک اور اس کے حالات کے بارے میں رائے قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یمن کے حوالے سے بھی بعض عالمی میڈیا اور سیاسی حلقے ’’یمن کی حکومت‘‘، ’’یمن کے عوام‘‘ یا ’’یمنی مسلح افواج‘‘ کے بجائے ’’حوثی‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جس سے یمن کی پوری سیاسی اور سماجی صورت حال ایک مخصوص تحریک تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔

حوثی کا نام انصاراللہ تحریک کے بانی حسین بدرالدین حوثی کے خاندانی نام سے نکلا ہے۔ یہ اصطلاح انصاراللہ تحریک کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اس حد تک اس کا استعمال قابل فہم ہے، لیکن اسے پورے یمن، اس کے عوام یا حکومتی اداروں کا متبادل بنانا درست نہیں۔

خصوصاً فلسطین، غزہ کی جنگ، اسرائیل کے خلاف یمن کے مؤقف اور بحیرہ احمر کے واقعات کی خبروں میں یہ طرزِ بیان زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں یا صنعا میں قائم اداروں کے سرکاری مؤقف کو بھی بعض ذرائع ابلاغ ’’حوثیوں کی دھمکی‘‘ یا ’’حوثیوں کی کارروائی‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔

اس اصطلاح کا مسلسل استعمال انصاراللہ کو ایک محدود خاندانی گروہ کے طور پر پیش کرنے کا تاثر بھی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ یہ تحریک ایک سیاسی و سماجی تنظیمی ڈھانچے کی حامل ہے اور یمن کی حالیہ سیاسی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اسی طرح ’’حوثی ملیشیا‘‘ جیسی اصطلاحات بعض اوقات منفی تاثر پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یمن کے تمام عوام انصاراللہ کی حمایت کرتے ہیں یا اس کے مخالفین کی موجودگی سے انکار کیا جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ خبروں میں جس ادارے، تحریک یا طبقے کا ذکر ہو، اسی کا درست نام استعمال کیا جائے۔

لہٰذا انصاراللہ کے مخصوص سیاسی مؤقف یا کارروائی کے ذکر میں اس تحریک کا نام لیا جا سکتا ہے، لیکن یمن کے عوام، حکومت یا مسلح افواج کے لیے ’’حوثی‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے ان کی حقیقی شناخت کے مطابق الفاظ کا انتخاب ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha