جمعہ 11 ستمبر 2026 - 14:51
یہ حوثی، یہ تیرے پراسرار بندے

حوزہ/کبھی کبھی تاریخ کے کسی موڑ پر ایسے کردار سامنے آتے ہیں جو اپنے حجم سے نہیں، اپنے عزم سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے پاس دنیا کی بڑی طاقتوں جیسے وسائل نہیں ہوتے، ان کے پاس جدید ترین جنگی طیاروں کے بیڑے نہیں ہوتے، نہ عالمی طاقتوں کی پشت پناہی؛ مگر ان کے پاس ایک چیز ہوتی ہے—اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا حوصلہ۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| کبھی کبھی تاریخ کے کسی موڑ پر ایسے کردار سامنے آتے ہیں جو اپنے حجم سے نہیں، اپنے عزم سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے پاس دنیا کی بڑی طاقتوں جیسے وسائل نہیں ہوتے، ان کے پاس جدید ترین جنگی طیاروں کے بیڑے نہیں ہوتے، نہ عالمی طاقتوں کی پشت پناہی؛ مگر ان کے پاس ایک چیز ہوتی ہے—اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا حوصلہ۔

آج یمن کے حوثی اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ کہ جنگ کسی مسئلے کا مثالی حل نہیں اور ہر جنگ اپنے ساتھ انسانی المیے، تباہی اور بے گناہوں کے آنسو لاتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ گزشتہ برسوں میں حوثیوں نے اپنی محدود مادی طاقت کے باوجود خطے کی عسکری سیاست میں ایک ایسا کردار پیدا کیا ہے جسے دنیا کی بڑی طاقتیں بھی نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

ان کی اصل طاقت صرف میزائل یا ڈرون نہیں؛ ان کی اصل طاقت یہ تصور ہے کہ کمزور بھی مزاحمت کر سکتا ہے۔

بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں پر ان کی کارروائیوں نے عالمی تجارت، سمندری سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ محض یمن کا مسئلہ نہیں رہا؛ یہ اس بڑے تنازع کا حصہ بن چکا ہے جس کے مرکز میں فلسطین، غزہ اور خطے میں طاقت کا بدلتا ہوا توازن موجود ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا دنیا صرف طاقتور کی طاقت کو طاقت سمجھتی ہے، یا کمزور کی مزاحمت کو بھی تاریخ کا ایک سنجیدہ واقعہ مانے گی؟

دنیا کی بڑی طاقتوں کے پاس جدید ترین اسلحہ ہے، مگر جدید اسلحہ ہمیشہ سیاسی فتح کی ضمانت نہیں ہوتا۔ افغانستان، ویت نام، عراق اور دیگر کئی جنگیں ہمیں بتاتی ہیں کہ جنگ صرف ٹیکنالوجی سے نہیں جیتی جاتی۔ کبھی کبھی ایک نظریہ، ایک اجتماعی عزم اور طویل مزاحمت پورے عسکری منصوبے کو دشوار بنا دیتی ہے۔

حوثیوں کی موجودہ پیش قدمی بھی اسی پہلو سے قابلِ مطالعہ ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی جوابی کارروائیوں اور فضائی حملوں کے باوجود حوثیوں نے دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے شمالی و مغربی حصے کے بڑے علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں انہوں نے مغربی ساحل کی سمت بھی اہم پیش قدمی کی ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں آج کے حالات کو سمجھنے کے لیے محض نقشے نہیں، حوصلے اور مزاحمت کی سیاست کو بھی سمجھنا ہوگا۔

ایک طرف سعودی عرب کی عسکری قوت اور اس کی حمایت یافتہ یمنی فورسز ہیں، دوسری طرف حوثی ہیں جو برسوں سے جنگ، محاصرے، فضائی حملوں اور شدید دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں سعودی عرب نے حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ حوثیوں کو محض ایک مقامی یمنی گروہ سمجھ کر نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے اپنی عسکری مزاحمت کو اس سطح تک پہنچا دیا ہے کہ ان کی پیش قدمی بحیرۂ احمر، باب المندب، عالمی تجارت اور پورے خطے کے تزویراتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ حالیہ پیش قدمی میں موخا پر قبضہ اور باب المندب کی سمت بڑھنا اسی بدلتی ہوئی صورتِ حال کی علامت ہے۔

حوثیوں نے اپنے دشمنوں کو واقعی ناکوں چنے چبوا دیے ہیں۔

یہ جملہ محض جذباتی نعرہ نہیں؛ اس کے پیچھے ایک طویل جنگی تاریخ ہے۔ ایک ایسی قوت جسے کبھی محدود علاقائی طاقت سمجھا جاتا تھا، آج اتنی اہم بن چکی ہے کہ سعودی عرب جیسے طاقتور ملک کو بھی اس کے خلاف اپنی عسکری حکمتِ عملی مسلسل تبدیل کرنا پڑ رہی ہے۔

لیکن یہاں جذبات کے ساتھ عقل اور انصاف کو بھی زندہ رکھنا ضروری ہے۔ کسی گروہ کی مزاحمت کو سراہنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر کارروائی کو بلا تحقیق درست قرار دے دیا جائے۔ لیکن جب کوئی قوت جنگ کے میدان میں بھی انسانی جان، انسانی حقوق، اخلاقی اقدار اور جنگ کے اصولوں کی پاسداری کرے، تو پھر اس کی مزاحمت کو سراہنے اور اس کے کردار کی تعریف کرنے میں آخر قباحت کیا ہے؟

انسانی جان کی حرمت کسی جھنڈے، سرحد، قوم یا سیاسی اتحاد سے کہیں بڑی ہے۔ جنگ ہو یا امن، اخلاقی اصول اپنی جگہ قائم رہتے ہیں؛ بلکہ جنگ کے ہنگامے میں اخلاق کی پاسداری ہی کسی قوت کے کردار کا اصل امتحان ہوتی ہے۔ طاقت کا استعمال بھی اخلاقی حدود کا پابند ہونا چاہیے اور انسانیت کو کبھی جنگی حکمتِ عملی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر غزہ میں انسانوں کا قتلِ عام ہو، فلسطینی خاندان اجڑتے رہیں، عورتیں اور بچے موت کے سائے میں زندگی گزاریں، اور دنیا کی بڑی طاقتیں عملی انصاف کے بجائے محض بیانات اور رسمی تشویش تک محدود رہیں، تو پھر ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ آخر عالمی نظام میں انصاف کا پیمانہ کیا ہے؟

اگر انسانی حقوق واقعی آفاقی ہیں، تو ان کا اطلاق دوست اور دشمن، طاقتور اور کمزور، سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ورنہ ’’انسانی حقوق‘‘ کا نعرہ بھی محض طاقتور کے سیاسی مفاد کا ایک خوب صورت عنوان بن کر رہ جائے گا۔

اسی لیے حوثیوں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے جذباتی وابستگی سے زیادہ عمل، اخلاق اور اصول کو معیار بنانا چاہیے۔ اگر کسی میدان میں انہوں نے طاقت کے باوجود انسانی اور اخلاقی حدود کی پاسداری کی ہے، تو اسے تسلیم کرنا بھی انصاف کا تقاضا ہے۔

حوثیوں نے کم از کم اس سوال کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ کیا ہے کہ کیا ایک چھوٹی سی طاقت بھی بڑی طاقتوں کے فیصلوں کو چیلنج کر سکتی ہے؟

شاید اسی لیے آج یمن کا ذکر صرف یمن کے حوالے سے نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق فلسطین سے جڑتا ہے، بحیرۂ احمر سے جڑتا ہے، عالمی تجارت سے جڑتا ہے، ایران و اسرائیل کی کشیدگی سے جڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن سے جڑتا ہے۔

اور یہی تاریخ کا عجیب کھیل ہے۔

جنہیں کبھی عالمی طاقتوں نے ایک محدود علاقائی قوت سمجھا تھا، وہ آج عالمی سفارت کاری کے حساب کتاب میں ایک اہم متغیر بن چکے ہیں۔

یہ حوثی، یہ تیرے پراسرار بندے۔۔۔

اس شعر کا حسن یہی ہے کہ اسے صرف جنگی طاقت کے اظہار کے طور پر نہیں، بلکہ عزم، خود اعتمادی اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پڑھا جائے۔

کیونکہ پہاڑ واقعی صرف ٹھوکر سے رائی نہیں بنتے؛ مگر جب کسی قوم کے اندر خوف کے مقابلے میں عزم پیدا ہو جائے تو بڑے سے بڑا پہاڑ بھی ناقابلِ تسخیر نہیں رہتا۔

آج کا یمن ہمیں ایک سبق دے رہا ہے:

طاقت صرف اس کے پاس نہیں ہوتی جس کے پاس زیادہ ہتھیار ہوں؛
طاقت کبھی کبھی اس کے پاس بھی ہوتی ہے جو شکست کے خوف سے آزاد ہو جائے۔

اور تاریخ ہمیشہ یہ سوال پوچھتی ہے:

جنگ کون جیتا؟

مگر وقت گزرنے کے بعد ایک دوسرا سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے:

انسانیت کس نے بچائی، اور انسانیت کس نے ہاری؟

اسی سوال کا جواب آنے والا زمانہ دے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha