تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| بے شک علیؑ سیاست جانتے تھے، مگر وہ زانیوں، بدکاروں، چوروں، دسیسہ کاروں، ضمیر فروشوں اور اقتدار کے بھوکے لوگوں والی سیاست نہیں جانتے تھے۔ علیؑ کی سیاست قرآن کی سیاست تھی، عدل کی سیاست تھی، حق کی سیاست تھی؛ جبکہ شجرۂ ملعونہ کی سیاست مکر، فریب، رشوت، دھوکے، عصبیت اور اقتدار کی ہوس سے عبارت تھی۔
علیؑ تخت کے لیے اصول نہیں بدلتے تھے، اور اصولوں کو تخت کے قدموں میں نہیں بیچتے تھے۔ یہی وہ فرق ہے جسے ملوکیت کے پروردہ کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے۔
یہ کہنا کہ علیؑ سیاسی شعور نہیں رکھتے تھے، مشورہ نہیں کرتے تھے یا ریاست چلانا ان کے بس کی بات نہ تھی، تاریخ سے جہالت اور تعصب کا ایسا نمونہ ہے جس پر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ علیؑ وہ شخصیت تھے جن کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علم، شجاعت اور وفاداری کے میدان کھولے؛ جن کی عدالت ضرب المثل بنی؛ مگر جن لوگوں نے سیاست کو دین سے کاٹ کر اقتدار کا کھیل بنا دیا، وہ علیؑ کی سیاست کو اپنی عیارانہ سیاست کے ترازو میں تولنے لگے۔
علیؑ کے سامنے مسئلہ حکومت حاصل کرنا نہیں، حکومت کو حق کے مطابق چلانا تھا۔ اسی لیے بیت المال میں امیر و غریب، عرب و عجم اور قریبی و اجنبی کے لیے ایک ہی معیار رکھا۔ کسی کو خریدنے کے لیے خزانہ نہیں لٹایا، کسی سردار کو خوش کرنے کے لیے حق نہیں بدلا، کسی مخالف کو خاموش کرنے کے لیے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ یہی علیؑ کی سیاست تھی—اور یہی وہ سیاست تھی جس سے ملوکیت کے تاج لرزتے تھے۔
شجرۂ ملعونہ کی اصل شکست یہی تھی: وہ علیؑ کو تلوار سے شکست نہ دے سکے تو ان کی سیاست کو بدنام کرنے لگے؛ عدل کا مقابلہ نہ کرسکے تو مکر کو سیاست کا نام دے دیا؛ حق کو خرید نہ سکے تو باطل کو اقتدار کا لباس پہنا دیا۔ علیؑ نے حکومت کو دین کا تابع رکھا، جبکہ ان کے مخالفین نے دین کو حکومت کے تابع کرنے کی کوشش کی۔
لہٰذا علیؑ کی سیاست پر فیصلہ سنانے سے پہلے اپنی سیاست کا آئینہ دیکھو۔ علیؑ کو وہ شخص سیاسی طور پر نابلد کہتا ہے جس کی تاریخ میں سیاست اور ملوکیت کا فرق ہی مٹ گیا۔ علیؑ کی سیاست سمجھنے کے لیے بصیرت، عدالت اور پاکیزہ ضمیر چاہیے؛ اقتدار کے نشے، مکر و فریب اور ملوکیت کے ورثے سے یہ بصیرت پیدا نہیں ہوتی۔
شجرۂ ملعونہ! تم نے تخت تو حاصل کر لیے، مگر علیؑ کا معیارِ حق کبھی حاصل نہ کرسکے؛ تاریخ میں تمہاری سب سے بڑی شکست یہی ہے کہ علیؑ آج بھی عدل کی علامت ہیں اور تمہاری سیاست مکر و ملوکیت کی مثال بن کر رہ گئی۔









آپ کا تبصرہ