حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شہر مشہد کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے کہا ہے کہ واقعۂ عاشورا کے بعد اہل بیت علیہم السلام نے دو بنیادی ذمہ داریاں انجام دیں؛ ایک حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے بیان کرنا اور دوسری یزیدی لشکر کی شکست، بے بسی اور رسوائی کو آشکار کرنا۔ آج بھی محاذِ مقاومت، میڈیا اور ذمہ داران کو اسی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے شہدائے مقاومت کی مظلومیت اور دشمنانِ اسلام کی ناکامی کو دنیا تک پہنچانا چاہیے۔
جمعہ کے خطبے میں انہوں نے کہا کہ 11 محرم سے اہل بیت علیہم السلام کی اسارت درحقیقت انقلابِ عاشورا کا دوسرا مرحلہ تھا، جس نے کربلا کے پیغام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صرف جنگ مقصود ہوتی تو خواتین اور بچوں کی موجودگی کی ضرورت نہ تھی، لیکن ان کی اسارت بھی ایک الٰہی منصوبے کا حصہ تھی تاکہ عاشورا کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچ سکے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ بنو امیہ نے اہل بیت علیہم السلام کی عزت کو مجروح کرنے، لوگوں کے دلوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کم کرنے اور مخالفین میں خوف پیدا کرنے کے لیے انہیں قیدی بنایا، مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور دیگر اسیرانِ کربلا نے صبر، استقامت اور خطبات کے ذریعے دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کو بھی اسی روش پر چلتے ہوئے شہدائے مقاومت کی قربانیوں کو اجاگر کرنا اور امریکہ و صہیونی حکومت کے مظالم کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق میڈیا، سرکاری عہدیداروں اور سماجی کارکنوں کو اختلافی مسائل کے بجائے دشمن کی ناکامی اور مقاومت کی کامیابی کو نمایاں کرنا چاہیے۔
امام جمعہ مشہد نے خبردار کیا کہ بعض اوقات غیر ارادی طور پر دشمن کے بیانیے کو دہرانا اس کی تشہیر کا سبب بن جاتا ہے، اس لیے ذمہ داران کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید ضرور کی جائے، مگر وہ تعمیری ہو اور اس کے ساتھ حل بھی پیش کیا جائے تاکہ عوام کے حوصلے متاثر نہ ہوں۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے مزید کہا کہ ولایتِ فقیہ قومی اتحاد کا محور ہے اور اسلامی دنیا کو متحد ہو کر استکباری طاقتوں اور صہیونی حکومت کے مقابلے میں مشترکہ محاذ قائم کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ