حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشہد مقدس کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے نماز جمعہ کے خطبوں میں 13 آبان کو ایرانی قوم کی استکبار مخالف جدوجہد کا اہم دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تاریخ کو تین اہم واقعات پیش آئے، جن میں دو اسلامی انقلاب سے پہلے اور ایک انقلاب کی کامیابی کے بعد رونما ہوا۔
انہوں نے کہا کہ 1343 ہجری شمسی میں امام خمینیؒ کو گرفتار کرکے ترکی جلاوطن کیا گیا، جبکہ 1357 میں تہران یونیورسٹی کے اطراف میں امریکی حمایت یافتہ شاہی حکومت کے اہلکاروں نے طلبہ کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ تاہم 1358 میں امام خمینیؒ کے پیروکار طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے استکبار کے خلاف ایرانی قوم کی جرأت اور مزاحمت کا عملی مظاہرہ کیا
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ امام خمینیؒ نے اس اقدام کو دوسرا انقلاب قرار دیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کسی قوم نے امریکہ کے سامنے ڈٹ کر اسے طمانچہ رسید کیا اور عالمی سطح پر رسوا کیا۔
انہوں نے شاہی دور میں ایران پر امریکی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 25 سال تک ملک کے تمام اہم معاملات امریکہ کے کنٹرول میں تھے اور ایک لاکھ سے زیادہ امریکی مشیر فوجی اور غیر فوجی شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ 1343 میں منظور ہونے والے قانونِ استعماری استثنا (امریکی مشیروں کو قانونی کارروائی سے استثنا دینے کا قانون) کے تحت امریکی مشیروں کو ایران میں قانونی کارروائی سے استثنا حاصل تھا۔
مشہد کے امام جمعہ نے امریکہ کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکی حکام ایران کے معاملے میں شدید تذبذب اور بے یقینی کا شکار ہیں، جبکہ ایرانی قوم کی استقامت نے عالمی سطح پر اس کے وقار اور طاقت میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے 13 آبان کی ریلی میں عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں کی استکبار مخالف جدوجہد ایرانی قوم کی عزت، سربلندی اور استقامت کا سبب بنی ہے۔










آپ کا تبصرہ